سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا لوگوں کو ناحق مال کھانے…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا لوگوں کو ناحق مال کھانے کا حکم دینا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 1 از 3

سیدنا امیر معاویہؓ کا لوگوں کو ناحق مال کھانے کا حکم دینا

شیعہ کی طرف سے سیدنا امیر معاویہؓ پر ایک اور اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو ایک دوسرے کا مال ناحق کھانے اور ایک دوسرے کو ناحق قتل کرنے کی تلقین کرتے تھے اس پر شیعہ کی طرف سے پیش کی جانے والی روایت ملاحظہ فرمائیں۔

امام مسلمؒ نقل فرماتے ہیں:

عبدالرحمٰن بن عبدرب الکعبہ کہتا ہے میں مسجد (حرام) میں داخل ہوا تو وہاں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ ان کے گرد جمع تھے میں بھی ان کے پاس چلا گیا (سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے ایک طویل حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا) اور جو شخص ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہوئے دل کی گہرائی سے کسی امام کی بیعت کرے تو استطاعت کے ساتھ اس کی اطاعت کرئے پھر اگر دوسرا آجائے اور اس سے امامت چھیننا چاہے تو اس کی گردن اڑا دو (تو عبدالرحمٰن نے کہا) میں ان کے قریب ہوگیا اور کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ نے خود یہ بات نبی کریمﷺ سے سنی ہے تو عبد اللہؓ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے کانوں اور دل کی طرف اشارہ کیا اور کہا میرے کانوں نے یہ بات سنی اور میرے دل نے یاد رکھی تو میں (عبدالرحمٰن) نے کہا یہ جو آپ کے چچازاد سیدنا معاویہؓ ہیں وہ تو ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے کھائیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں اور اللہ قرآن میں فرماتا ہے اے ایمان والو ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ سوائے اس کے کہ باہمی رضامندی سے تجارت ہو اور تم ایک دوسرے کو قتل نہ کرو بلاشبہ اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے (عبدالرحمٰن کہتا ہے) پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ ایک گھڑی خاموش ہوئے پھر فرمایا اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی میں ان کی نافرمانی کرو۔

( صحیح مسلم (اردو) جلد 3 حدیث4776)

اعتراض کا جواب: پہلی بات تو یہ کہ اس روایت کا مرکزی راوی عبدالرحمٰن بن عبدرب الکعبہ کوفی تھا اور اہلِ کوفہ کی اکثریت سیاسی طور پر سیدنا امیر معاویہؓ کے خلاف تھی اور اس روایت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ عبدالرحمٰن بھی ان میں سے ہی ایک تھا۔

امام عجلیؒ اس کا کوفی ہونا بیان کرتے ہیں کہ:

عبدالرحمٰن بن عبدرب الکعبہ ثقہ کوفی تابعی ہے۔

(معرفة الثقات العجلی (عربی) جلد 2 صحفہ 81)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی کوفی ہے اور یقیناً سیدنا امیر معاویہؓ کا سیاسی مخالف ہے اور اس روایت میں اس کا یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ ہمیں ایک دوسرے کا مال ناحق کھانے اور ایک دوسرے کو ناحق قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں اس سے عبدالرحمٰن کی مراد یہ ہرگز نہیں تھی کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے لوگوں کو ناحق قتل کرنے یا کسی کا مال ناحق طریقے سے کھانے کا حکم دیا تھا اور نہ ہی کسی صحیح روایت سے ایسی کوئی بات ثابت ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے کبھی کسی کو ایسا حکم دیا۔

بلکہ عبدالرحمٰن کا یہاں اعتقاد یہ تھا کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا علیؓ کے خلیفہ بننے کے بعد ان سے ناحق جنگ کی ہے اور اس جنگ میں جو لوگ قتل ہوئے وہ ناحق قتل ہوئے اور جنگ میں جو مال خرچ ہوا وہ بھی ناحق خرچ ہوا اور یہی معنی اس روایت کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے خلافت کے بارے میں گفتگو کی کہ تب ہی عبدالرحمٰن نے ان سے قسم لی کہ کیا آپﷺ نے ایسا فرمایا تھا پھر سیدنا عبداللہؓ نے اقرار کیا تو عبدالرحمٰن نے یہ سب کہا تو اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ خلافت کی بات کے تناظر میں ہی یہ بات کر رہا تھا۔

اگر سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ یہ بات کر رہے ہوتے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ اور ایک دوسرے کو ناحق قتل مت کرو پھر اس پر عبدالرحمٰن یہ کہتا کہ سیدنا امیر معاویہؓ تو ہمیں یہ سب کرنے کا حکم دیتے ہیں تب عبدالرحمٰن کی بات کا مطلب یہ ہوتا جو شیعہ اس روایت سے سمجھتے ہیں۔

اور پھر اس کی بات پر سیدنا عبداللہ بن عمر و بن العاصؓ کا یہ کہنا کہ اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی میں ان کی نافرمانی کرو اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ عبدالرحمٰن کی بات کا یہی مقصد تھا جو ہم بیان کر چکے اور سیدنا امیر معاویہؓ لوگوں کو ناحق مال کھانے اور ناحق قتل کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے اگر وہ ایسا کرتے ہوتے تو سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ مطلقاً کہتے کہ ان کی اطاعت مت کرو اور ان کی مکمل خلاف ورزی کرو۔

آئمہ و محدثین نے بھی اس روایت کا یہی مفہوم بیان کیا ہے جو ہم بیان کر چکے جیسا کہ امام نوویؒ اس روایت کی شرح میں فرماتے ہیں۔

اس شخص (عبدالرحمٰن) نے جب سیدنا عبداللہ بن عمروؓ کی یہ بات سنی کہ جب کوئی ایک شخص خلیفہ بن جائے تو کسی دوسرے کا اس سے تنازع کرنا جائز نہیں تو اس (عبدالرحمٰن) کا یہ بات کہ سیدنا امیر معاویہؓ ناحق مال کھانے اور ناحق قتل کرنے کا کہتے ہیں) کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ یہ سمجھتا تھا یہ بات سیدنا امیر معاویہؓ کے سیدنا علیؓ سے تنازعہ کے بارے میں ہے کیونکہ سیدنا علیؓ کی بیعت پہلے ہوچکی تھی پھر سیدنا امیر معاویہؓ کا ان سے تنازع کرنا اور اس حالت میں انہوں نے جو اپنے لشکر پر کھانے پینے اور دوسری تیاریوں میں جو) مال خرچ کیا وہ ناحق مال تھا اور اس میں جو لوگ قتل ہو رہے ہیں وہ بھی ناحق قتل ہو رہے ہیں اور کوئی بھی اس لڑائی میں ملنے والے مال کا مستحق نہیں۔

( صحیح مسلم بشرح النووی (عربی) جلد 12 صحفه 234)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام نوویؒ کے نزدیک بھی عبدالرحمٰن کی بات کا یہی مقصد تھا کہ وہ سیدنا امیر معاویہؓ کے جنگی حالت میں خرچ کردہ مال اور ناحق مال اور اس دوران قتل ہونے والے لوگوں کو ناحق قتل ہونا مانتا تھا نہ کہ اس کا یہ مطلب تھا کہ سیدنا امیر معاویہؓ کسی کا مال ناحق طریقے سے کھانے یا کسی کو ناحق قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں۔

امام محمد بن خلفه وشتانی ابی المالکیؒ بھی اس حدیث کی شرح میں یہی فرماتے ہیں کہ۔

صفحہ 1 از 3