سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا لوگوں کو ناحق مال کھانے…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا لوگوں کو ناحق مال کھانے کا حکم دینا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 2 از 3

وہ شخص (عبدالرحمٰن) یہ سمجھتا تھا کہ سیدنا علیؓ کی بیعت کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ کا ان سے تنازع کرنا اور سیدنا علیؓ کے خلاف اپنے لشکر کی تیاری میں انہوں نے جو مال خرچ کیا وہ ناحق مال تھا اور اس میں جو لوگ قتل ہوئے وہ ناحق قتل ہوئے۔

(اکمال المال المعلم بشرح صحیح مسلم (عربی) جلد 5 صحفہ 190)۔

اور علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے بھی شرح مسلم میں اس روایت کے تحت بھی انہیں علامہ ابی مالکیؒ کا قول نقل کیا ہے کہ۔

سائل ( عبدالرحمٰن) کا اعتقاد یہ تھا کہ سیدنا امیر معاویہؓ جو مال اپنے لشکر پر خرچ کرتے ہیں وہ مال ناجائز ہے اور ان کے لشکر والے سیدنا علیؓ کے لشکر کو جو قتل کرتے ہیں وہ قتل بھی نا جائز ہے۔

(شرح صحیح مسلم (اردو) جلد 5 صحفه 805)۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ عبدالرحمٰن بن عبدرب الکعبہ کا یہ بات کرنے کا مقصد یہی تھا کہ جنگ صفین میں سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا علیؓ کے خلاف اپنے لشکر پر جو مال خرچ کیا وہ سب ناحق مال تھا اور جو لوگ اس جنگ میں قتل ہوئے وہ سب ناحق قتل ہوئے اور یہی بات اس روایت کی قرائن سے ثابت ہوتی ہے اس کے برعکس یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ لوگوں کو ایک دوسرے کا مال ناحق کھانے اور ایک دوسرے کو ناحق قتل کرنے کا حکم دیتے تھے مے محض تعصب اور جہالت ہے۔

سیدنا علیؓ کے متعلق مال غصب کرنے کے الفاظ:

اسی طرح کی ایک روایت سیدنا علیؓ کے بارے میں بھی موجود ہے ملاحظہ فرمائیں۔

سند:

حدثنا ابوالعباس احمد بن ہارون الفقيه املاء حدثنا احمد بن محمد بن نصر حدثنا ابونعيم حدثنا ابان بن عبدالله البجلی حدثنی نعيم بن أبی هند حدثنی ربعی بن حراش قال۔

متن:

ربعی بن حراشؒ کہتے ہیں میں ایک مرتبہ سیدنا علیؓ کے پاس بیٹھا تھا تو ان کے پاس سیدنا طلحہؓ کا بیٹا آیا اور اس نے سیدنا علیؓ کو سلام کہا سیدنا علیؓ نے بھی اس کو مرحبا کہا، تو اس نے کہا اے امیر المؤمنینؓ آپ مجھے مرحبا کس طرح) کہہ رہے ہیں؟ حالانکہ آپ نے میرے والد کو قتل کیا اور میرا مال غصب کیا آپؓ نے فرمایا جہاں تک تمہارے مال کا تعلق ہے تو وہ بیت المال میں بالکل الگ رکھا ہوا ہے صبح جا کر وہاں سے اپنا مال لے لینا اور جہاں تک تمہارے والد کے قتل کا تعلق ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ تمہار والد اور میں ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے متعلق اللہ فرماتا ہے اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینہ تھا سب کھینچ لیا آپس میں بھائی بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے (سورۃ الحجر آیت 47) (مراد ہم سب جنت میں جائیں گے)۔

(مستدرک الحاکم (اردو) جلد 3 روایت 3348)۔

اس روایت کے مطابق جنگ جمل میں سیدنا علیؓ کے مقابل سیدنا طلحہؓ لڑ رہے تھے اور شہید ہوگئے تو ان کے بیٹے نے آکر سیدنا علیؓ سے شکایت کی کہ آپؓ نے میرے والد کو قتل کیا اور میرا مال غصب کیا تو سیدنا علیؓ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے تمہارا مال غصب نہیں کیا بلکہ فرمایا تمہارا مال بیت المال میں الگ پڑا ہوا ہے اور سیدنا طلحہؓ کے بارے میں بھی فرمایا کہ وہ جنت میں ہمارے ساتھ ہوں گے۔

اب جیسے اس روایت سے یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ سیدنا علیؓ مال غصب کیا کرتے تھے ویسے ہی عبدالرحمٰن کی روایت سے سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ وہ مال غصب کیا کرتے تھے یا لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیتے تھے۔

سیدنا امیر معاویہؓ بنی محتاجوں کے خیر خواہ:

سیدنا امیر معاویہؓ نے لوگوں کی ضروریات و حاجات کو پورا کرنے کے لئے آدمی مقرر کیا ہوا تھا جیسا کہ امام ترمذیؒ نقل فرماتے ہیں۔

سند:

حدثنا احمد بن منيع حدثنا اسماعيل بن ابرابيم حدثنی على بن الحكم حدثنی ابو الحسن قال قال عمرو بن مرة لمعاويةؓ۔

متن: سیدنا عمرو بن مرةؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ سے کہا میں نے نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے جو حاکم حاجت مندوں محتاجوں اور مسکینوں کے لئے اپنے دروازے بند رکھتا ہے تو اللہ بھی اس کے لئے اپنے دروازے بند رکھتا ہے جب سیدنا معاویہؓ نے یہ سنا تو لوگوں کی حاجات (پوری کرنے) کے لئے ایک شخص مقرر کر دیا۔

(جامع ترمذی (عربی) حدیث 1332)۔

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کا مال ناحق کھانا تو دور کی بات ہے سیدنا امیر معاویہؓ نے تو لوگوں کی حاجات کو پورا کرنے کے لئے لوگ مقرر کر رکھے تھے جو محتاجوں اور مسکینوں کی مدد کرتے تھے۔

سیدنا امیر معاویہؓ حق کے مطابق فیصلہ کرنے والے:

سیدنا امیر معاویہؓ حق کے عین مطابق فیصلہ کرتے تھے جیسا کہ ابنِ عساکرؒ کی روایت ہے۔

سند:

انبانا ابوطابر الاصبہانی انا نصر بن احمد بن البطر قالا انا ابو الحسن محمد بن احمد بن رزقويه انا على بن محمد بن احمد المصرى نا بكر بن سهل انا عبدالله بن يوسف نا ليث عن بكير عن بسر بن سعيد أن سعد بن ابی وقاصؓ قال۔

متن: سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں میں نے سیدنا عثمانؓ کے بعد سیدنا معاویہؓ سے بڑھ کر حق کے مطابق فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔

(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 59 صحفہ 160 1601)۔

اس روایت میں عشرہ مبشرہ میں سے ایک جلیل القدر صحابی رسولﷺ کی گواہی موجود ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ حق کے عین مطابق فیصلہ کرتے تھے اس کے برعکس یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ ناحق فیصلے کرتے تھے کسی صورت جائز نہیں۔

حسنین کریمینؓ نے ناجائز مال کھانے والی کی بیعت کی:

اگر پھر بھی کوئی شیعہ کہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ ناجائز طریقے سے مال کھاتے تھے اور لوگوں کو ناحق قتل کرواتے تھے تو پھر اس سے ہمارا سوال یہی ہے کہ کیا پھر سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ نے ایک ایسے شخص کی بیعت کی جو ناجائز مال کھاتا تھا اور لوگوں کو ناحق قتل کرواتا تھا ؟

ان کی بیعت کا ذکر مصنف ابنِ ابی شیبہ (اردو) جلد 9 روایت 31222 میں موجود ہے۔

شیعہ کتب میں بھی اس بیعت کا ذکر موجود ہے بلکہ شیعہ کتب میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ سیدنا حسنؓ کی وفات کے بعد شیعوں نے سیدنا حسینؓ کو سیدنا امیر معاویہؓ کی بیعت توڑنے کا کہا تو سیدنا حسینؓ نے بیعت توڑنے سے منع کر دیا۔

شیعہ ذاکر آیت اللہ شیخ مفید لکھتا ہے:

صفحہ 2 از 3