سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا لوگوں کو ناحق مال کھانے…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا لوگوں کو ناحق مال کھانے کا حکم دینا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 3 از 3

جب سیدنا حسنؓ فوت ہو گئے تو عراق کے شیعہ اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سیدنا حسینؓ کو اپنی سیدنا امیر معاویہؓ کی بیعت توڑ دینے اور آپ کی بیعت کرنے کا (خط) لکھا تو سیدنا حسینؓ نے فرمایا میرے اور سیدنا امیر معاویہؓ کے درمیان ایک عہد و پیمان ہے (میرے لیے) مدت ختم ہونے سے پہلے اسے توڑنا جائز نہیں۔

(تذكرة اطہار (اردو) جلد 2 صحفہ 256)۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ دونوں نے سیدنا امیر معاویہؓ کی بیعت کی تھی اور شیعہ کتاب کے مطابق تو شیعوں نے سیدنا حسینؓ کو یہ بیعت توڑنے کا مشورہ دیا لیکن انہوں نے فرمایا کہ میرے لیے اس بیعت کو توڑنا جائز نہیں۔

اگر شیعہ سیدنا امیر معاویہؓ پر یہ اعتراض کریں کہ وہ ناحق مال کھاتے تھے اور لوگوں کو ناحق قتل کرتے تھے تو کیا سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ نے ایک ایسے شخص کی بیعت کی جو ناحق مال کھاتا تھا؟۔

اور ایسے شخص کی بیعت کرنے کی وجہ سے سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ پر کیا حکم لگے گا؟ اس لئے یہ کہنا جائز ہی نہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ ناحق مال کھاتے تھے یا ناحق قتل کرواتے تھے سیدنا امیر معاویہؓ نے تو حاجت مندوں کی مدد کرنے کے لئے لوگ مقرر کر رکھے تھے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والے تھے جیسا کہ ہم بیان کرچکے اور اس روایت کی مکمل شرح بھی ہم بیان کر چکے ہیں اس لئے سیدنا امیر معاویہؓ پر یہ اعتراض کرنا کہ وہ ناحق مال کھاتے تھے سیدنا حسنین کریمینؓ پر اعتراض کرنے کے مترادف ہے۔


صفحہ 3 از 3