امیر لشکر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا ہاتھیوں سے چھٹکارا کے لیے بنو تمیم سے استفسار
علی محمد الصلابیب: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عمرو تمیمی سے کہلا بھیجا کہ: اے بنی تیمیم! کیا تم اونٹوں اور گھوڑوں والے مشہور نہیں ہو؟ کیا ان ہاتھیوں سے چھٹکارا پانے کا تمہارے پاس کوئی حل نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! کیوں نہیں، پھر انہوں نے اپنی قوم کے ماہر تیر اندازوں اور چست و چالاک لوگوں کو آواز دی اور ان سے کہا: فیل بانوں کو تیر مار مار کر گرا دو اور جو لوگ چست و چالاک تھے ان سے کہا: تم ہاتھیوں کے پیچھے لگ جاؤ اور ان کے ہودجوں سے بندھے ہوئے رسوں کو کاٹ دو تاکہ ہودج نشین جنگ جو گر جائیں۔ پھر خود بھی ان کی مدد میں شریک ہو گئے۔ یاد رہے ابھی تک بنو اسد ہی جنگ کی چکی میں تنہا پس رہے تھے، پھر میمنہ و میسرہ نے نہایت تیزی سے پلٹ کر دشمن پر وار کیا اور عاصم کے جانباز ساتھیوں نے آگے بڑھ کر ہاتھیوں کی دُمیں اور ہودج و پالان سے بندھی ہوئی رسیاں کاٹ ڈالیں۔ ہاتھی چنگھاڑ مار کر بھاگنے لگے اور اپنے فیل بانوں کو پھینکنے لگے، پھر وہ سب قتل کر دیے گئے۔ اس طرح اسلامی فوج کو کچھ راحت اور بنو اسد کو بلائے بے درماں سے نجات ملی اور فارسی فوج پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی۔ سورج غروب ہونے تک یہ معرکہ گرم رہا، بلکہ رات کے کچھ ابتدائی حصوں میں بھی جنگ جاری رہی۔ پھر دونوں فوج اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ گئیں۔ اس معرکہ میں بنو اسد کے پانچ سو مجاہدین شہید ہوئے، یہ لوگ مسلم فوج کے پشت پناہ تھے اور عاصم و بنی تمیم اپنے اپنے قبائل کے ساتھ دشمن کو دھکیلنے اور بنو اسد کے تعاون میں پیش پیش رہے، معرکہ کے اس پہلے دن کو ’’یوم ارماث‘‘ کہا جاتا ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 365)