سیدنا عمارؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ کو ظالم کہنا
محمد ذوالقرنينسیدنا عمارؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ کو ظالم کہنا
شیعہ کے ایک مخصوص گروہ جو خود کو کافی علمی کتابی سمجھتا ہے کی طرف سے سیدنا امیر معاویہؓ پر ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ سیدنا عمار بن یاسرؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کو ظالم کہا اس لئے ہم بھی سیدنا امیر معاویہؓ کو ظالم کہتے ہیں ، اس پر جو روایت پیش کی جاتی ہے وہ ملاحظہ فرمائیں۔
سند:
حدثنا وكيع عن مسعر عن عبدالله بن رياح عن عمار قال۔
متن: عبداللہ بن ریاح کہتا ہے کہ سیدنا عمارؓ نے فرمایا یہ نہ کہو کہ اہلِ شام نے کفر کیا بلکہ انہوں نے فسق (سیدنا علیؓ کی نافرمانی) اور ظلم کیا۔
(مصنف ابنِ ابی شیبہ (اردو) جلد 11 روایت 38998)۔
اعتراض کا جواب:
اس روایت کو دلیل بنا کر یہ شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ ظالم تھے جبکہ اس روایت سے یہ استدلال کرنا ہر گز جائز نہیں کیونکہ سیدنا عمار بن یاسرؓ نے یہ بات جنگ صفین کے حوالے سے کہی کہ اہلِ شام سیدنا علیؓ کی نافرمانی کر کے اور ہم سے جنگ کر کے ہم پر ظلم کر رہے ہیں جیسا کہ اس سے پچھلی روایت میں مکمل وضاحت موجود ہے روایت ملاحظہ فرمائیں۔
سند:
حدثنا يزيد بن ہارون عن الحسن بن الحكم عن رياح بن الحارث قال۔
متن: ریاح بن حارث کہتا ہے کہ میں جنگ صفین میں سیدنا عمارؓ کے ساتھ تھا میرے گٹھنے ان کے گٹھنے کو چھو رہے تھے ایک آدمی نے کہا اہلِ شام نے کفر کیا سیدنا عمارؓ نے فرمایا یہ نہ کہو انہوں نے کفر کیا ان کے اور ہمارے نبیﷺ ایک ہیں ان کا اور ہمارا قبیلہ ایک ہے وہ فتنہ میں مبتلا ہیں انہوں نے حق سے اعراض کیا ہے ہم پر لازم ہے کہ ہم ان سے قتال کریں اور تاکہ وہ حق پر واپس آجائیں۔
(مصنف ابنِ ابی شیبہ (اردو) جلد 11 روایت 38996)۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ سیدنا عمارؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے یہ سب جنگ صفین میں کہا کہ انہوں نے سیدنا علیؓ کی نافرمانی کر کے ہم سے جنگ کی اور یہ ان کا ظلم ہے اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے سیدنا امیر معاویہؓ کو ظالم کہنا جائز نہیں کیونکہ سیدنا عمارؓ کا یہ قول صرف جنگ کی حد تک تھا اور جب سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ سے صُلح کر کے ان کی بیعت کرلی اس کے بعد جنگ صفین کے حوالے سے بھی سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے ایسے الفاظ استعمال کرنا جائز نہیں۔
اور ویسے بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے آپسی اختلاف کو دلیل بناکر کسی صحابی کے بارے میں کوئی نازیبا جملہ کہنا کسی صورت جائز نہیں ورنہ اس طرح پھر اور بھی کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں جو شیعہ کے نزدیک بھی جلیلُ القدر صحابی ہونے کا درجہ رکھتے ہیں ان کے بارے میں بھی اس طرح کی باتیں کہی جاسکتی ہیں۔
سیدنا علیؓ ظالم کذاب گناہ گار عہد شکن اور خائن
ایسے ہی ایک آپسی مسئلہ پر سیدنا عباسؓ نے سیدنا علیؓ کو ظالم کذاب گناہ گار عہد شکن اور خائن کہہ دیا جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم کی روایت ہے۔
صحیح بخاری کی روایت ملاحظہ فرمائیں:
سیدنا عمرؓ کے پاس سیدنا عباسؓ اور سیدنا علیؓ آئے سیدنا عباسؓ نے آکر سیدنا عمرؓ سے کہا (اقض بینی و بین الظالم) میرے اور اس ظالم (مراد سیدنا علیؓ) کے درمیان فیصلہ کر دیں۔
(صحیح بخاری (اردو) جلد 6 روایت 7305)۔
صحیح مسلم کی روایت میں تو الفاظ ہیں کہ:
(اقض بينی و بين هذا الكاذب الأثم الغادر الخائن) میرے اور اس کذاب (جھوٹے) گناہ گار غدار اور خائن کے درمیان فیصلہ کر دیں۔
(صحیح مسلم (اردو) جلد 3 روایت 4577)۔
اب جس طرح ان روایات کو دلیل بنا کر کسی خارجی یا ناصبی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ سیدنا علیؓ کو ظالم کذاب گناہ گار غدار یا خائن کہے ویسے ہی سیدنا عمارؓ کی روایت کو دلیل بناکر سیدنا امیر معاویہؓ کو ظالم کہنا کسی صورت جائز نہیں۔