Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

طلیحہ بن خویلد کا بہادرانہ مؤقف

  علی محمد الصلابی

ج:  حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا یہ حکم سننا تھا کہ بنو اسد میں ایک حیرت انگیز انقلابی تاثیر پیدا ہو گئی۔ طلیحہ بن خویلد نے کہا: اے ہمارے قبیلہ کے لوگو! سعد نے کسی اعتماد کی بنا پر تمہیں مدد کے لیے پکارا ہے، کیونکہ جس کا نام لے کر پکارا جائے وہ بااعتماد ہوتا ہے اگر وہ مدد کے لیے تم سے زیادہ کسی کو موزوں سمجھتے تو انہیں کو پکارتے۔ خوب شدت سے حملہ کرو اور بپھرے ہوئے شیروں کی طرح دشمن پر ٹوٹ پڑو، تم بنو اسد اس لیے کہے جاتے ہو کہ اسد شیر جیسا کر دکھاؤ۔ ڈٹ جاؤ، ہٹو نہیں، پلٹ پلٹ کر حملہ کرو، بھاگو نہیں۔ ربیعہ کی جنگی چالوں کا کیا کہنا! کیا ہی عمدہ کارنامہ انجام دیتے ہیں اور کیا ہی منہ توڑ جواب دیتے ہیں، کیا ہے کوئی جو دشمن کی صفوں میں گھس جائے؟ اپنی جنگی مہارت کے جوہر دکھاؤ، اللہ تمہاری مدد فرمائے، اللہ کا نام لے کر ان پر زبردست وار کرو۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 364)

طلیحہ کے اس خطاب سے ان کی قوم بے حد متاثر ہوئی اور جانبازی و پامردی کا ثبوت دیتے ہوئے تنہا معرکہ کو اپنے سر لے لیا اور پھر بعد میں بنو تمیم بھی ان کی مدد کو آگے آئے اور بالآخر پانچ سو 500 شہداء کو اللہ کے حوالے کیا۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 449)

بنو اسد کی شجاعت دیکھ کر دیگر قبائل کے مجاہدین بہت متاثر ہوئے، اشعث بن قیس کندی اٹھے اور کہا: اے کندہ کے لوگو! بنو اسد کے کمال کا کیا کہنا! کیا تم نے دیکھا وہ کتنے حیرت انگیز طریقے سے وار کرتے ہیں؟ اور کتنی تیزی سے کاٹتے پیٹتے آگے نکل جاتے ہیں؟ یہ سننا تھا کہ کندہ کے مجاہدین دفاعی پوزیشن چھوڑ کر حملے کی پوزیشن میں آ گئے اور اپنے سامنے کی فارسی فوج کو پیچھے دھکیل دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 364، القادسیۃ: أحمد عادل کمال: صفحہ 139)