یوم ارماث کے موقع پر عمرو بن شناس اسدی کے اشعار
علی محمد الصلابیلقد علمت بنو أسد بأنا
أو لو الأحلام إذ ذکروا الحلوما
’’بنو اسد کے لوگ جب عقل مندوں کا تذکرہ کریں گے تو مانیں گے کہ ہم بھی عقل مند تھے۔‘‘
وأنا النازلون بکل ثغر
ولو لم نلفہ إلاہشیما
’’اور ہم ہر محاذ پر جانے والے ہیں اگرچہ ہمیں وہاں سوکھی گھاس ہی کیوں نہ ملے۔‘‘
تری فینا الجیاد مسومات
مع الأبطال یعلکن الشکیما
’’قبیلہ دیکھتا ہے کہ عمدہ فوجی گھوڑے بہادروں کو پشت پر بٹھائے لگام کو چبا رہے ہیں۔‘‘
تری فینا الجیاد مجلجات
تنہنہ عن فوارسہا الخصوما
قبیلہ دیکھتا ہے کہ ہمارے درمیان حملہ آور عمدہ گھوڑے موجود ہیں جو دشمن کو اپنے شہ سواروں کے قریب نہیں آنے دیتے۔‘‘
بجمع مثل سلک مکفہر
تشبہہم إذا اجتمعوا قروما
’’ایسے ہجوم کے ساتھ جو حملہ کرنے کے لیے پر تول رہا ہے، جب وہ اکٹھے ہوتے ہیں تو لگتا ہے کہ گوشت کا ٹیلہ ہے۔‘‘
بمثلم تلاقی یوم ہیج
إذا لاقیت باسا أو خصوما
’’جب میں کسی جنگ کا سامنا کرتا ہوں یا دشمن سے دو دو ہاتھ کرتا ہوں تو ان جیسے شہ سواروں کو لے کر وہ گھوڑے لڑائی کے دن میدان کار زار میں کود پڑتے ہیں۔‘‘
نفینا فارسا عما أرادت
وکانت لا تحاول أن تریما
’’ہم نے فارس کو ان کے ارادوں سے پھیر دیا جب کہ وہ اپنی جگہ سے پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔‘‘