سیدنا امیر معاویہؓ کی یزید کو نصیحت
محمد ذوالقرنينسیدنا امیر معاویہؓ کی یزید کو نصیحت
شیعہ کی طرف سے سیدنا امیر معاویہؓ پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ انہوں نے وفات سے پہلے یزید کو نصیحت کر دی تھی کہ میں نے تمہارے لیے خلیفہ بننے میں آسانی پیدا کر دی ہے لیکن تمہارے خلاف چار لوگ کھڑے ہوسکتے ہیں تو جو تمہارے خلاف خروج کرے اسے قتل کر دینا اس اعتراض پر بطورِ دلیل پیش کی جانے والی روایت ملاحظہ فرمائیں۔
سند:
ھشام بن محمد عن أبی مخنف قال حدثنی عبد الملك بن نوفل بن مساحق بن عبد الله بن مخرمه۔
متن: سیدنا امیر معاویہؓ جب بیمار ہوئے تو انہوں نے یزید کو بلایا اور کہا اے میرے بیٹے میں نے تم کو زحمت اور مشکل سے بچالیا ہے اور تیرے لئے ہر کام آسان کر دیا ہے مجھے اس بات کا اندیشہ نہیں کہ اس امر خلافت کے لئے قریش میں سے چار لوگوں کے علاوہ کوئی تجھ سے اس بارے میں جھگڑا کرے گا سیدناحسین بن علیؓ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ اور سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ ان میں سے سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کو تو عبادت نے مشغول کر رکھا ہے جب وہ دیکھیں گے کہ کوئی اور باقی نہیں رہا تو وہ بھی تمہاری بیعت کر لیں گے سیدنا حسین بن علیؓ کو عراق کے لوگ خروج پر امادہ کر کے ہی چھوڑیں گے اگر وہ تجھ پر خروج کریں اور تم ان پر غالب آجاؤ تو در گذر کرنا ان کو نبی کریمﷺ کی قرابت حاصل ہے اور بہت بڑا حق رکھتے ہیں سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکرؓ وہ شخص ہیں کہ اپنے ساتھیوں کو جو کام کرتے دیکھتے ہیں وہی کرتے ہیں اسے عورتوں اور عیاشی کے سوا کسی بات کا خیال نہیں ہاں جو شخص شیر کی طرح تمہاری گھات میں بیٹھے گا اور لومڑی کی طرح تجھے دھوکہ دے گا جب اسے موقع ملے گا حملہ کر دے گا وہ سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ ہے اگر وہ ایسا کام کرے اور تیرے قابو میں آجائے تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا۔
(تاریخِ طبری (عربی) جلد 5 صحفہ 323 322)۔
اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا راوی ہشام بن محمد بن سائب کلبی شیعہ اور متروک الحدیث ہے اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں اس راوی کا ترجمہ گزر چکا ہے۔
(دیکھیں سیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا علیؓ پر لعنت کروانا تیسری روایت کا تعاقب)۔
دوسری علت: اس روایت کا راوی ابومخنف لوط بن یحییٰ بھی کذاب متروک الحدیث اور شیعہ ہے اس راوی کا ترجمہ بھی گزر چکا ہے۔
(دیکھیں سیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا علیؓ پر لعنت کروانا تیسری روایت کا تعاقب)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت موضوع ہے اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔