Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جنگ کا ہسپتال

  علی محمد الصلابی

دوران جنگ مقام ’’عذیب‘‘ میں چھوٹا ہسپتال بنایا گیا تھا، مجاہدین کی صبر گزار اور نیکیوں کی طلب گار بیویاں وہاں پر مقیم تھیں وہ زخمیوں کی مرہم پٹی اور علاج و مرہم پٹی کرتیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان میں جسے چاہتا شفا دیتا اور جسے چاہتا شہادت کی موت عطا فرماتا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ قابل تعجب اور قابل آفریں ان کا یہ عمل رہا کہ اپنے ساتھ بچوں کو لے کر وہ شہداء کی قبریں کھودتیں۔ مانا کہ زخمیوں کی تیمارداری اور ان کی مرہم پٹی کرنا خواتین کے لیے آسان اور ان کے بس کی بات ہے، لیکن قبریں کھودنا تو دشوار اور محنت طلب کاموں میں سے ہے اور یہ مردوں کا کام ہے، لیکن چونکہ مجاہدین حضرات جہاد میں مشغول تھے اس لیے ان کی عدم موجودگی میں خواتین پر واجبی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ اس عمل کو نبھائیں، کیونکہ ایمان اور صبر کی قوت نے انہیں اس لائق بنا دیا تھا۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 451)

بہرحال جنگ جاری رہی اور شہداء کی لاشیں ’’عذیب‘‘ اور ’’عین شمس‘‘ کے درمیان وادی مشرف کے دونوں کنارے پہنچائی جاتی رہیں۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 452)

نیز مسلم فوج اور ان کے دشمنوں کے درمیان کچھ رات گئے جنگ بند ہو جانے سے مجاہدین کو موقع مل گیا کہ ’’عذیب‘‘ جا کر اپنے اہل و عیال کی خیریت معلوم کر سکیں۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 10 صفحہ 452)