اہل تشیع کے ہاں عقیدہ صحابہ اصل میں “لغوی” معنی کو لیکر بنایا گیا ہے۔
جعفر صادقآج ایک شیعہ دوست کی وال پر صحابی رسول کے عنوان سے ایک پوسٹ نظر سے گذری۔ اس میں صحابہ کرام کی اقسام میں منافق صحابہ، دل کے کھوٹے صحابہ، گنہگار صحابہ اور جہنمی صحابہ وغیرہ بیان کیا گیا ہے۔ معاذاللہ ثم معاذاللہ
درحقیقت یہ پوری تفصیل صحابی رسول کی “لغوی معنی و مفہوم” ذہن میں رکھ کر لکھی گئی ہے۔ قرآن کریم اور صحیح احادیث میں صحابی کا لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے لیکن عقائد میں اصطلاحی معنی استعمال کئے جاتے ہیں۔
اس پوسٹ سے یہ ثابت ہوا کہ اہل تشیع کے ہاں عقیدہ صحابہ اصل میں “لغوی” معنی کو لیکر بنایا گیا ہے۔
اہل سنت کا عقیدہ صحابہ کرام “اصطلاحی معنی و مفہوم” میں ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صحابی رسول کی “اصطلاحی معنی” اہلسنت و اہل تشیع کے ہاں الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ تقریباً ایک جیسی ہی بیان کی گئی ہے۔
اہل تشیع کے منصف مزاج اہل علم اپنے ہی علماء کرام کی بیان کی گئی صحابی رسول کی “اصطلاحی معنی” کی روشنی میں “عقیدہ صحابہ کرام” بنائیں تو اس عقیدے پر دونوں مسالک کے اختلافات ختم ہو سکتے ہیں۔
صحابی کی اصطلاحی تعریف:

اس تعریف کے مطابق ہر وہ شخص صحابی شمار ہوگا جو ۔۔۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حال میں ملا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی رسالت کو مانتا تھا۔
پھر وہ اسلام پر ہی قائم رہا یہاں تک کہ اس کی موت آ گئی
خواہ وہ زیادہ عرصہ تک رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحبت میں رہا یا کچھ عرصہ کے لیے۔
خواہ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی احادیث کو روایت کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
خواہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ کسی جنگ میں شریک ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔
خواہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو یا (بصارت نہ ہونے کے سبب) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دیدار نہ کر سکا ہو۔
ان تمام صورتوں میں وہ "صحابئ رسول" شمار ہوگا۔
اور ایسا شخص "صحابی" متصور نہیں ہوگا جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہو۔
بحوالہ :
الإصابة في تمييز الصحابة : أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي ، ج:1 ، ص:7-8