Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خنساء بنت عمرو رضی اللہ عنہا پر سکون رات میں اپنے بیٹوں کو جنگ پر ابھارتی ہیں

  علی محمد الصلابی

’’عذیب‘‘ میں مسلم خواتین کی بھیڑ میں دور جاہلیت و اسلام بنو سلیم کی شاعرہ خنساء بنت عمرو رضی اللہ عنہا اپنے چار بیٹوں کے ساتھ تشریف فرما ہیں، وہ چاروں بیٹے چار فرد ہی نہیں بلکہ کامل مرد میدان ہیں۔ یہ خاتون انہیں نصیحت کرتی ہے اور جنگ پر جانے کے لیے ان الفاظ میں ابھارتی ہے: ’’تم خوشی خوشی اسلام لائے ہو، اپنی مرضی سے ہجرت کی ہے، تم جانتے ہو کہ اللہ نے کفار سے جنگ کرنے کا کتنا بڑا ثواب مقرر کیا ہے، پھر بھی آج سن لو کہ اس دنیائے فانی سے آخرت کی زندگی بہتر ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ۞( سورۃ آل عمران: آیت 200)

ترجمہ: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! صبر کرو اور مقابلے میں جمے رہو اور مورچوں میں ڈٹے رہو اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔‘‘

اگر بخیر و عافیت تمہیں صبح میسر ہوتی ہے تو سمجھ بوجھ سے کام لیتے ہوئے اور اللہ سے مدد مانگتے ہوئے اپنے دشمن سے جنگ پر نکل جاؤ اور جب دیکھو کہ جنگ اپنے شباب پر ہے، اس کے شعلے بھڑکنے لگے ہیں اور وہ گرد و پیش کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے تو معرکہ کی اس گرم بھٹی میں کود پڑو، اور فوج کے زبردست ٹکراؤ میں دشمن کے قائد اعلیٰ پر مردانہ وار حملہ کرو، تم دنیا میں اموال غنیمت سے سرفراز ہوگے اور دارالخلد آخرت میں سرخروئی نصیب ہو گی۔‘‘

چنانچہ اپنی ماں کی نصیحت کو قبول کرتے ہوئے اس کی بات کو دل سے لگا کر چاروں بیٹے نکل پڑے اور صبح سویرے ہی وہ میدان جنگ میں اپنے مقامات پر نظر آنے لگے۔

(الاستیعاب: 287، نساء: القادسیۃ: صفحہ: 146، 147)