قبیلہ نخع کی ایک خاتون اپنے بیٹوں کو جنگ میں شرکت کے لیے حوصلہ افزائی کرتی ہے
علی محمد الصلابیقبیلہ نخع کی ایک خاتون تھیں ان کے چار بیٹے تھے، وہ سب اس دن جنگ میں شریک ہوئے، معرکے کے دوسرے دن صبح کی پو پھوٹتے ہی انہوں نے اپنے بیٹوں کو مخاطب کر کے کہا:
’’تم خوشی خوشی اسلام لائے اور اس پر جمے رہے اور ہجرت کی، اگرچہ مدینہ ہجرت نہیں کی۔ تم اپنے شہروں پر بوجھ نہ تھے کہ اس نے تمہیں نکال دیا، نہ قحط زدہ تھے کہ یہاں آئے۔ تم اپنی عمر دراز ضعیف ماں کو لے کر یہاں لائے ہو اور اسے اہل فارس کے سامنے ڈال دیا ہے۔ سنو! اللہ کی قسم جس طرح تم ایک باپ کی اولاد ہو اسی طرح ایک ماں کی بھی اولاد ہو۔ وہ ماں جس نے نہ تو تمہارے باپ کے ساتھ خیانت کی ہے اور نہ تمہارے ماموں کو رسوا کیا ہے۔ جاؤ! جنگ میں کود پڑو، شروع سے آخر تک ڈٹے رہو۔‘‘
یہ سن کر وہ سب تیزی سے میدان جنگ کی طرف دوڑ پڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے نگاہوں سے اوجھل ہوگئے۔ اس کے بعد ماں نے آسمان کی طرف دعا کے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا اور کہنے لگی:
’’اے اللہ! میرے بیٹوں کا دفاع کرنا۔‘‘
چنانچہ انہوں نے جنگ میں بہادری کے خوب خوب جوہر دکھائے اور آخر میں اپنی ماں کے پاس صحیح سالم واپس لوٹے۔ کسی کو کوئی زخم نہ آیا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 366)
یہ ہے جنگ قادسیہ کے پہلے دن خواتین اور خاص کر عمر دراز ضعیف خواتین کا ایمانی جوش و جذبہ۔