Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بہادرانہ مواقف

  علی محمد الصلابی

قعقاع رضی اللہ عنہ اپنے مقدمہ کو لے کر تیزی سے آگے بڑھے اور یوم اغواث کی صبح ہوتے ہوتے قادسیہ پہنچ کر اسلامی فوج سے آ ملے۔ آپ نے قادسیہ آمد کے دوران ایک تدبیر سوچی کہ جس سے مسلمانوں کی قوت دوبالا ہوتی نظر آئے۔ چنانچہ آپ نے اپنے لشکر کو دس دس مجاہدین کی جماعت بنا کر سو 100 حصوں میں تقسیم کر دیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ سب یکے بعد دیگرے آگے بڑھیں، یعنی جب دس مجاہدین کی ایک جماعت نظروں سے اوجھل ہو جائے تب دوسری جماعت اس کے پیچھے حرکت کرے۔ حضرت قعقاعؓ پہلی جماعت میں آنے والوں کے ساتھ آئے اور پھر یکے بعد دیگرے جماعتیں آتی رہیں۔ قعقاعؓ جب جب افق پر نگاہ ڈالتے ایک جماعت آتی ہوئی نظر آتی۔ قعقاعؓ نعرۂ تکبیر بلند کرتے اور سارے مسلمان نعرہ تکبیر کہتے اور جوش و خروش کے ساتھ دشمن سے نبرد آزما ہوتے۔ بلا شبہ مسلم مجاہدین کی روحانی غیرت اور ایمانی شعور کو بلند و پختہ کرنے کی یہ ایک کامیابی تدبیر تھی۔ کیونکہ جس لشکر میں تیس ہزار فوجی موجود ہوں اس کی مدد کے لیے صرف ایک ہزار فوج کی آمد کوئی معنیٰ نہیں رکھتی تھی، لیکن یہ اللہ کا بہت بڑا فضل و کرم رہا کہ اس نے حضرت قعقاعؓ کی ایک ایسی انوکھی تدبیر کی طرف رہنمائی کی جس نے قلت مدد کے احساس کو زائل کر دیا اور مسلمانوں کے عزم و حوصلے بلند کر دیے۔ حضرت قعقاعؓ نے امدادی کمک کی آمد کی خوشخبری سناتے ہوئے کہا: ’’اے لوگو! میں ایسے جانبازوں کو لا رہا ہوں کہ اگر وہ تم تک پہنچ گئے اور قلت تعداد کے باوجود تمہاری پامردی وجرأت کا انہیں علم ہو گیا تو ان کا کمزور ترین فرد بھی تم سے آگے بڑھ نکلنا چاہے گا اور ان کی کوشش ہو گی کہ اس مقام فضیلت کو تم سے لے اڑیں، تم مجھے جیسا کرتے ہوئے دیکھو ویسا ہی کرو۔ پھر آگے بڑھے اور دشمن کو یہ کہتے ہوئے للکارا: ’’کون ہے جو مجھ سے مقابلہ کرے گا؟‘‘ یہ سن کر لوگ ان کے بارے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسی داد تحسین دینے لگے، کہا: جس فوج میں ان جیسے لوگ ہوں وہ شکست سے دوچار نہیں ہو سکتی۔ اور سب مطمئن نظر آنے لگے، حضرت قعقاعؓ کی للکار پر ذوالحاجب (یہ فارسی فوج کا ایک سورما لیڈر مانا جاتا تھا، اس نے معرکہ جسر میں مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچایا تھا) جب سامنے آیا تو حضرت قعقاعؓ نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ (قعقاع رضی اللہ عنہ کے پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ معرکہ جسر میں موجود نہ تھے) بلکہ اس وقت شام کے محاذ پر تھے اس نے غراتے ہوئے جواب دیا: میں بہمن جاذویہ ہوں۔ اتنا سننا تھا کہ قعقاعؓ کے دل میں معرکہ جسر کے موقع پر اسی کی وجہ سے مسلمانوں کو پہنچنے والی دل خراش مصیبت کی یاد تازہ ہو گئی اور غیرت ایمانی کی رگ پھڑک اٹھی۔ دھاڑے اور کہا: آج ابوعبید، سلیط اور شہدائے جسر کے خون کا بدلہ لے کر رہوں گا۔ مقابل اگرچہ فارس کا ایک عظیم قائد اور سورما مانا جاتا تھا، لیکن قعقاعؓ کی با رعب آواز سے اس کا دل دہلنا ضروری تھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے قعقاعؓ کے بارے میں کہا تھا: لشکر میں قعقاعؓ کی ایک با رعب آواز ایک ہزار فوجیوں کی قوت پر غالب ہے۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 455)

پھر بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ ایک فرد ان کے سامنے ٹھہر پاتا، اگرچہ وہ بہادری اور ثبات قلبی میں کیسی بھی شہرت رکھتا تھا؟ اور اسی لیے بغیر کسی تاخیر کے حضرت قعقاعؓ نے اسے اس کی فوج کے سامنے زمین پر ڈھیر کر دیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے زمین پر اس کی لاش گر جانے کا زبردست اثر یہ ہوا کہ فارس کے دل دہل گئے اور مسلمانوں کے عزم و حوصلے بلند ہو گئے، کیونکہ وہ فارس کے بیس ہزار جنگجوؤں کا سپہ سالار تھا۔

حضرت قعقاعؓ نے دوسری آواز لگائی اور کہا: کون ہے جو میرا مقابلہ کرے گا؟ مقابلہ میں فارس کے دو جوان بیرزان اور بندوان میدان میں آئے۔ ادھر سے دو کو اترتے دیکھ کر حارث بن ظبیان بن حارث، بنو تمیم اللات میں سے، قعقاعؓ کے ساتھ جا ملے۔ قعقاعؓ نے بیرزان سے مقابلہ کیا اور اسے قتل کر دیا اور ابن ظبیان نے بندوان سے مقابلہ کیا، بندوان بھی فارس کے اہم بہادروں میں شمار ہوتا تھا اسے ابن ظبیان نے قتل کیا۔ اس طرح قعقاعؓ رضی اللہ عنہ نے صبح ہی صبح فارس کے پانچ عظیم سپہ سالاروں میں سے دو کا کام تمام کر دیا۔ بے شک اہل فارس کے لیے یہ ایک بھاری نقصان تھا۔ اس سے وہ سخت حیرت و اضطراب میں پڑ گئے اور اس طرح شکستہ دل ہوئے کہ فارسی فوج کی ہمت پست ہو گئی، پھر دونوں طرف سے شہ سواروں کی باقاعدہ جنگ شروع ہو گئی اور قعقاعؓ مسلمانوں سے کہنے لگے: اے مسلمانو! دشمن کو تلوار سے کاٹو، وہ کاٹنے ہی کے لیے بنائے گئے ہیں۔ تمام مسلم مجاہدین بھی ایک دوسرے سے یہی کہتے رہے اور شام تک ان میں اسی طرح گھمسان کی جنگ جاری رہی۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ اس دن حضرت قعقاعؓ نے تیس کامیاب حملے کیے، جونہی دشمن کی کوئی ٹولی نظر آتی اس پر زبردست وار کرتے اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے اور یہ اشعار پڑھتے:

أزعجہم عمدًا بہا إز عاجًا

أطعن طعنا صائبًا تجاجًا

’’اس جنگ میں میں انہیں اچھی طرح لتاڑوں گا اور بالکل صحیح نشانے سے نیزوں کی بارش کروں گا۔‘‘

دشمن کا سب سے آخری شخص بزر جمہر ہمذانی قتل کیا گیا، اس کے بارے میں قعقاع رضی اللہ عنہ نے کہا:

حبوتہ جیاشۃً بالنفس

ہدارۃ مثل شعاع الشمس

’’میں نے پورے جوش و خروش سے اسے زمین پر چت کر دیا اور سورج کی کرنوں کی طرح اس کے خون کو زمین پر منتشر کر دیا۔‘‘

فی یوم أغواث فلیل الفرس

أنخس فی القوم أشد النخس

’’یوم اغواث کے موقع پر جب کہ فارسیوں کی رات قوم میں تباہی مچانے والی تھی۔‘‘