علباء بن جحش عجلی کی انتڑی معرکہ میں پیٹ سے باہر آ گئی
علی محمد الصلابیبکر بن وائل کی صفوں کے سامنے فارس کا ایک فوجی آ کھڑا ہوا اور دعوت مبارزت دینے لگا، علباء بن جحش مقابلہ کے لیے آگے بڑھا۔ علباء نے اس کے سینے میں دائیں طرف نیزہ مارا جس سے اس کا پھیپھڑا چاک ہو گیا اور دشمن نے بھی پلٹ کر آپ کے پیٹ میں کاری ضرب لگائی جس سے آپ کی انتڑیاں باہر آ گئیں اور پھر دونوں زمین پر گر پڑے۔ مجوسی فوراً مر گیا لیکن علباء کھڑے نہ ہو سکے اور کوشش کرتے رہے کہ اپنی انتڑیوں کو پیٹ میں واپس ڈال لیں، پھر وہ بھی ممکن نہ ہو سکا۔ اسی دوران میں ایک مجاہد کا ادھر سے گزر ہوا، علباء نے اسے پکارا اور کہا میری انتڑیوں کو میرے پیٹ میں رکھ کر میری مدد کرو۔ چنانچہ اس نے انتڑیاں علباء کے پیٹ میں ڈال دیں اور علباء دوبارہ نفس کو دباتے ہوئے پوری جرأت کے ساتھ فارس کی فوج کی طرف لپکے، اپنے پیچھے مجاہدین کی صفوں کی طرف توجہ نہ دی لیکن ابھی اپنی جگہ سے تقریباً تیس ہاتھ آگے گھسٹ کر گئے ہوں گے کہ جان جان آفرین کے حوالے کر دی۔ اس وقت آپ کی زبان پر یہ اشعار تھے:
أرجو بہا من ربنا ثوابًا
قد کنت ممن أحسن الضرابا
’’میں بہترین تلوار زنی کرنے والوں میں سے ایک تھا اس سے میں اپنے رب کی رضا و خوشنودی کا طالب ہوں۔‘‘