خنساء رضی اللہ عنہا کے چاروں بیٹوں کا فداکارانہ موقف
علی محمد الصلابیاس معرکہ میں خنساء کے چاروں بیٹوں نے فداکارانہ جوہر دکھائے، وہ سب پورے جوش و خروش سے میدان کارزار میں کود پڑے، ان میں سے ہر ایک نے معرکہ میں شرکت کرتے وقت جوش و جذبات کو ابھارنے والے ایسے ترانے گائے جن سے خود انہیں اور دیگر بھائیوں کو دلی تقویت ملی، پہلے بیٹے کے اشعار یہ تھے:
یا إخوتی ان العجوز الناصحۃ
قد نصحتنا إذ دعتنا البارحۃ
’’اے میرے بھائیو! رات کے وقت جب ہم کو خیر خواہ بوڑھی ماں نے بلایا تو نصیحت کی۔‘‘
مقالۃ ذات بیان واضحۃ
فباکروا الحرب الضروس الکالحۃ
’’ایسے الفاظ میں نصیحت کی جو بالکل صاف اور واضح ہے، پس تباہ کن اور چہروں کو بگاڑ دینے والی اور بھیانک جنگ میں شرکت کے لیے جلدی کرو۔‘‘
وإنما تلقون عند الصائحۃ
من آل ساسان الکلاب النابحۃ
’’چیخ پکار والی (بھیانک جنگ) کے وقت آل ساسان کے بھونکنے والے کتوں سے تمہارا سابقہ پڑے گا۔‘‘
قد أیقنوا منکم بوقع الجائحۃ
وأنتم بین حیاۃ وحیاۃ صالحۃ
’’انہیں یقین ہے کہ تمہاری طرف سے ان پر مصیبت ٹوٹے گی جب کہ دنیاوی زندگی اور آخرت کی صالح زندگی کے درمیان ہو۔‘‘
ان اشعار کے ترانے گاتا ہوا پہلا بیٹا میدان کارزار میں کود پڑا اور لڑتے لڑتے شہید ہو گیا۔ دوسرا اٹھا اور ان اشعار کا ترانہ پڑھتے ہوئے جنگ کی طرف بڑھا:
إن العجوز ذات حزم وجلد
والنظر الأ وفق والرأی السدد
’’عالی ہمت، باعزیمت، ربانی بصیرت اور سچی و بہترین رائے والی بوڑھی ماں نے۔‘‘
قد أمرتنا بالسداد والرشد
نصیحۃ منہا و برًا بالولد
’’اولاد کے ساتھ وفاداری اور خیر خواہی کرتے ہوئے اس نے ہمیں راست روی اور رشد و ہدایت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘
فباکروا الحرب حماۃ فی العدد
إما لفوز بارد علی الکبد
’’اسلامی فوجوں کے مددگار بن کر جنگ میں شرکت کے لیے جلدی کرو، اس کامیابی کے لیے جو کلیجے کو ٹھنڈا کرنے والی ہے یعنی مال غنیمت۔‘‘
او میتۃ تورثکم عز الأبد
فی جنۃ الفردوس والعین الرغد
’’یا اس قابل رشک موت کے لیے جو جنت الفردوس میں تمہیں ہمیشہ کے لیے عزت و سربلندی
اور عیش وعشرت وراثت میں دینے والی ہے۔‘‘
ان ترانوں کے ساتھ انہوں نے بھی جنگ کی اور شہید ہو گئے۔
پھر تیسرا بیٹا یہ ترانے گاتا ہوا آگے بڑھا:
واللہ لا نعصی العجوز حرفًا
قد امرتنا حدبًا وعطفا
’’اللہ کی قسم! ہم بوڑھی ماں کی ذرہ برابر نافرمانی نہیں کریں گے، اس نے انتہائی شفقت و مہربانی کے ساتھ نہایت پیار و محبت سے ہمیں حکم دیا ہے۔‘‘
نصحًا و برًا صادقًا ولطفًا
فبادروا الحرب الضروس زحفا
’’خیر خواہی، پر خلوص، جذبہ اطاعت اور نرم آواز میں ہمیں سمجھایا پس اس خطرناک جنگ میں جلدی سے کود پڑو۔‘‘
حتی تلقوا آل کسرٰی لفا
او یکشفو کم عن حماکم کشفا
’’یہاں تک کہ آل کسریٰ کو گھیرے میں لے لو، یا وہ تمہیں تمہاری محفوظ جگہ چھوڑ کر بھاگ جائیں۔‘‘
إنا نری التقصیر عنکم ضعفا
والقتل فیکم نجدۃ وزلفٰی
’’تمہاری کسی بھی تقصیر کو ہم کمزوری سمجھتے ہیں اور قتل شہادت کو الہٰی مدد اور تقرب کا ذریعہ۔‘‘
انہوں نے جنگ لڑی اور شہید ہو گئے، پھر چھوٹا بیٹا اٹھا اور کہا:
لست لخنساء ولا للأخرم
ولا لعمرو ذی السناء الأقدم
’’خنساء، اخرم اور عمرو جیسے قدیم و بلند رتبہ والے افراد کی طرف میری نسبت نہ ہو۔‘‘
إن لم أرد فی الجیش جیش الأعجم
ماض علی الہول خضم خضرم
’’اگر میں فارس کی فوج میں ان سے نبرد آزمائی کے لیے نہ اتروں، بھیانک جنگ کے سر پر تیغ براں کی بارش ہونے والی ہے۔‘‘
إما لفوز عاجل ومغنم
او لوفاۃ فی السبیل الاکرم
’’فوری کامیابی اور مال غنیمت کے لیے یا کرم و نیک نامی کے راستے میں جان قربان کرنے کے لیے۔‘‘
ان اشعار کے ترانے گاتے ہوئے یہ بیٹا بھی جنگ کرتے ہوئے شہید ہو گیا۔
(القادسیۃ: صفحہ 154، أحمد عادل کمال)
اور جب خنساء کو اپنے چاروں بیٹوں کی شہادت کی خبر ملی تو کہا:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ شَرَّقَنِیْ بِقَتْلِہِمْ وَاَرْجُوْا مِنْ رَّبِّیْ أَنْ یَّجْمَعَنِیْ بِہِمْ فِیْ مُسْتَقر رَحْمَتِہٖ۔
(الخنساء أم الشہداء: عبدالمنعم الہاشمی: صفحہ 98)
’’شکر ہے اس اللہ ذوالجلال کا جس نے ان کی شہادت کے ذریعہ سے مجھے سرخروئی سے نوازا، میں اپنے رب سے امید کرتی ہوں کہ مجھے ان کے ساتھ اپنی رحمت کے ٹھکانے جنت میں اکٹھا کرے گا۔‘‘