فارسی فوج کے خلاف قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کی ایک مؤثر چال
علی محمد الصلابییوم اغواث کے اس معرکہ میں قعقاع بن عمروؓ اور ان کے چچا زاد بھائیوں نے مل کر فارسی فوج کے خلاف ایک کامیاب چال چلی، وہ یہ کہ جب آپ کو معلوم ہوا کہ فارسی فوج کے ہاتھیوں نے پہلے دن کی لڑائی میں مسلم شہ سواروں کے گھوڑوں کو بدکا کر انہیں بہت نقصان پہنچایا ہے تو آپ اللہ کی توفیق سے اپنی قوم کے کچھ لوگوں کو لے کر اونٹوں کو ڈراؤنی شکل میں تیار کرنے لگے تاکہ دشمن کے گھوڑوں کو بدکانے میں اس سے کامیابی ملے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اونٹوں کے جسم پر جھول اور چہروں پر برقعے ڈال دیے اور ان پر پیدل فوج کو سوار کر دیا، بیچ میں اونٹوں کو اور چاروں طرف سے گھوڑوں کر دیا اور پھر انہیں لے کر فارسی فوج کے شہ سواروں پر حملہ کر دیا۔ اس طرح آج یوم اغواث کے موقع پر مسلمانوں نے وہ تدبیر اپنائی جسے فارسی فوج نے یوم ارماث کے موقع پر مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا تھا۔ وہ اونٹ فارسی فوج کی چھوٹی یا بڑی جماعت جس طرف سے بھی گزرتے اس کے گھوڑوں کو بدکا دیتے اور پیچھے سے مسلمانوں کے گھوڑے ان کو روندتے ہوئے آگے بڑھ جاتے۔ جب مسلمانوں نے فارسی فوج کی بھگدڑ دیکھی تو انہیں اطمینان حاصل ہوا اور ان اونٹوں کی وجہ سے فارسی فوج کو آج کے معرکہ میں مسلمانوں سے کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑا جو انہوں نے یوم ارماث کے موقع پر اٹھایا تھا۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 46) ان واقعات میں ہم یہ بات صاف طور سے محسوس کر رہے ہیں کہ دور اوّل کے مسلمان جنگی تدابیر کی جدید سے جدید ایجادات کے سلسلے میں اپنے دشمنوں سے آگے تھے۔ غور طلب مقام ہے کہ فارسی فوج نے جنگ کے پہلے دن ہاتھیوں کو استعمال کر کے مسلمانوں کو سخت مصیبت میں ڈال دیا تھا اور چونکہ مسلمانوں کے پاس ہاتھی نہ تھے اس لیے اپنے اونٹوں کو جدید جنگی ہتھیار کی شکل میں استعمال کر کے دشمن کے ساتھ کامیاب چال چلی اور یہ چال ایک کامیاب جنگی تدبیر ثابت ہوئی جس نے دشمن کے گھوڑوں کو خوف زدہ کردیا اور گھوڑوں نے اپنے شہ سواروں کو پیٹھ سے پھینکنا شروع کر دیا۔ لہٰذا آج کے اس بحرانی دور میں ضروری ہے کہ مسلمان پہلے عقیدہ و روحانیت کی تعمیر و ترقی کے بعد جدید جنگی و مادی ایجادات میں بھی دوسروں سے آگے بڑھ نکلیں۔