ابو محجن ثقفی رضی اللہ عنہ معرکہ میں
علی محمد الصلابیمعرکہ یوم اغواث میں نصف رات تک جنگ جاری رہی اور اس رات کا نام ’’لیلۃ السواد‘‘ سیاہ رات رکھا گیا، پھر جب دونوں افواج ایک دوسرے سے پیچھے کھسکتی نظر آئیں تو اس رات جنگ بند ہو گئی، اس سے مسلمانوں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ شہداء کو وادی مشرق میں جو ان کے لیے قبرستان تھی اور زخمیوں کو عذیب میں منتقل کرنے لگے جہاں عورتیں ان کی مرہم پٹی اور تیمارداری کرتی تھیں۔ اس رات کے معرکہ میں حضرت ابو محجن ثقفی رضی اللہ عنہ پہلی مرتبہ شریک ہوئے۔1 امیر لشکر سعد بن ابی وقاصؓ کی طرف سے گرفتار کر کے انہی کے قلعہ میں قید کر دیے گئے تھے۔ شام ہوئی تو حضرت ابو محجنؓ، سعدؓ کے پاس بالاخانے میں گئے، ان سے معافی مانگی اور غلطی در گزر کرنے کی سفارش کرنے لگے، لیکن سعدؓ نے معافی دینے سے انکار کر دیا اور نیچے واپس لوٹا دیا۔ حضرت ابو محجنؓ چار و ناچار نیچے اتر آئے، سلمیٰ بنت خصفہ کے پاس گئے اور کہنے لگے: اے سلمیٰ! اے آل خصفہ کی بیٹی! کیا تم میرے اوپر احسان کر سکتی ہو؟ خصفہ نے پوچھا: وہ کیا؟ ابومحجنؓ نے کہا: مجھے بیڑیوں سے آزاد کر دو اور سعد کا سیماب صفت بلقاء گھوڑا عاریتاً دے دو۔ اللہ کی قسم! اگر اس نے مجھے صحیح سالم بچا لیا تو میں خود لوٹ کر تیرے پاس آؤں گا اور بیڑیاں اپنے پاؤں میں ڈال لوں گا۔ سلمیٰ نے کہا: میرا اس سے کیا تعلق، میں ایسا نہ کر پاؤں گی۔ ابو محجنؓ مایوس ہو کر یہ اشعار پڑھتے ہوئے اپنے قید خانہ میں واپس لوٹ آئے:
کفی حزنًا أن تلتقی الخیل بالقنا
وأترک مشدودًا علی وثاقیا
’’میرے لیے اس سے بڑھ کر اور کوئی غم نہیں ہے کہ شہ سوار نیزے بازیاں کر رہے ہوں اور میں پا بہ زنجیر پڑا رہوں۔‘‘
إذا قمت عنانی الحدید واغلقت
مصارع دونی قد تصم المنادیا
’’جب میں کھڑا ہونا چاہتا ہوں تو زنجیر اٹھنے نہیں دیتی اور دروازے اس طرح بند کر دیے جاتے ہیں کہ پکارنے والا پکارتے پکارتے تھک جاتا ہے۔‘‘
وقد کنت ذامال کثیر واخوۃ
فقد ترکونی واحدً الا أخالیا
’’میں کافی دولت مند اور بھائیوں والا تھا، لیکن ان سب نے مجھے تنہا چھوڑ دیا ہے اور اب میرا کوئی بھائی نہ رہا۔‘‘
وللہ عہد لا أخیس بعہدہ
لئن فیرجت ألا أزور الحوانیا
’’میں نے اللہ سے عہد و پیمان کیا ہے کہ اس کے عہد سے نہیں پھروں گا، اگر میرے لیے مے خانوں کے دروازے کھول بھی دیے جائیں تو بھی میں ادھر کا رخ نہ کروں گا۔‘‘
سلمیٰ نے جب یہ اشعار سنے تو کہنے لگیں: میں نے استخارہ کیا ہے، تمہارے وعدہ پر مجھے یقین ہے اور پھر ان کی بیڑیاں کھول دیں اور کہا: لیکن میں گھوڑا نہیں دے سکتی اور پھر اپنے حجرے کی طرف چلی گئیں۔ ادھر ابومحجن گھوڑے کے پاس گئے، اس کی لگام ہاتھ میں لی اور قادسیہ کی خندق کی طرف کھلنے والے قلعہ کے دروازے سے گھوڑے کو باہر لائے، اس پر سوار ہوئے اور ایڑ لگائی اور جب میمنہ کے برابر پہنچے تو بلند آواز سے نعرہ تکبیر کہا اور فارسی فوج کے میسرہ پر زبردست حملہ کیا اور دونوں افواج کے درمیان تیغ زنی، نیزہ بازی اور دیگر اسلحہ کے جوہر دکھائے، مسلمان انہیں دیکھ کر حیرت میں پڑ گئے اور بعض لوگ کہنے لگے: زین کے ساتھ لڑ رہا ہے؟ سعید اور قاسم نے کہا: نہیں بلکہ ننگی پیٹھ لڑ رہا ہے۔ پھر مسلم صف کے پیچھے سے گھوم کر میسرہ میں آ گئے اور بلند آواز سے تکبیر کا نعرہ مارتے ہوئے دشمن کے میمنہ پر دھاوا بول دیا اور دونوں افواج کے درمیان تیغ زنی و نیزہ بازی کے بے مثال جوہر دکھاتے رہے، پھر ذرا پیچھے ہٹے، مسلم صف کے پیچھے سے گھوم کر قلب سے ہوتے ہوئے لوگوں کے سامنے آئے اور دشمن کے قلب میں گھس کر خوب زبردست تیغ زنی ونیزہ بازی کی اور مسلمان انہیں دیکھ کر تعجب کرنے لگے کہ آخر یہ کون سا آدمی ہے کیونکہ انہوں نے ابو محجنؓ کو نہ دن میں دیکھا تھا اور نہ پہلے سے وہ ان سے متعارف تھے۔ بعض نے کہا کہ حضرت ہاشمؓ کے بھیجے ہوئے پہلے دستہ کا کوئی فوجی لگ رہا ہے، یا شاید خود ہاشمؓ ہیں۔ ادھر حضرت سعدؓ پیٹ کے بل جھک کر اپنے بالاخانے سے مسلم فوج کا جائزہ لے رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر کہنے لگے: اگر ابو محجن قید نہ ہوتا تو میں کہتا کہ ابو محجن ہے اور یہ میرا بلقاء گھوڑا ہے۔ اس طرح لوگ آپس میں مختلف طرح کی باتیں کرتے رہے اور جب آدھی رات گزرنے کو ہوئی تو فارسی فوج نے جنگ بند کر دی اور مسلمان بھی پلٹ آئے۔ ابو محجنؓ بھی لوٹ کر وہیں آ گئے جہاں سے گئے تھے۔ اور اپنے دونوں پاؤں میں بیڑیاں ڈال لیں اور یہ اشعار کہنے لگے:
لقد علمت ثقیف غیر فخر
بأنا نحن أکرمہم سیوفا
’’بلا فخر و مبالغہ کہتا ہوں کہ ثقیف کے لوگ ہمارے بارے میں جانتے ہیں کہ ہم تیغ زنی میں ان میں سب سے اچھے ہیں۔‘‘
وأکثرہم دروعا سابغات
واصبرہم إذا کرہوا الوقوفا
’’ہم ان سے زیادہ کامل زرہوں والے ہیں اور مشکل ترین اوقات میں ان سے زیادہ مقابلہ کرنے والے اور صبرآزما ہیں۔‘‘
وأنا وفدہم فی کل یوم
فان عمیوا فسل بہم عریفا
’’ہم ہمیشہ ان کے راہنما وفد رہے ہیں، اگر وہ سب راستہ بھول جائیں تو انہی میں سے راہنما تلاش کرو۔‘‘
ولیلۃ قادس لم یشعروا بی
ولم أشعر بمخرجی الزحوفا
’’قادسیہ کی رات وہ مجھے نہیں جان سکے اور نہ میں نے اپنے نکلنے میں لشکر کا کوئی خوف محسوس کیا۔‘‘
فان أحبس فذلکم بلائی
وإن أترک اذ یقہم الحتوفا
’’اگر میں قید میں رکھا گیا تو یہ میرے لیے آزمائش ہے اور اگر میں آزاد چھوڑ دیا جاتا ہوں تو انہیں دشمن کو موت کے مزے چکھاؤں گا۔‘‘
سلمیٰ نے پوچھا: ابو محجن تم کس جرم کی پاداش میں قید کیے گئے ہو؟
ابو محجنؓ نے کہا: اللہ کی قسم کسی حرام خوری یا شراب نوشی کے جرم میں سعد نے مجھے قید نہیں کیا ، بلکہ میں زمانۂ جاہلیت میں بادہ نوش تھا اور چونکہ میں شاعر ہوں، میری زبان پر اشعار آ جاتے ہیں، جس نے میری ساری خوبیوں پر پانی پھیر دیا اور انہی شعروں پر قید کر دیا گیا۔ میں نے کہا:
إذا مت فادفنی إلی أصل کرمۃ
تروی عظامی بعد موتی عروقہا
’’جب میں مر جاؤں تو مجھے انگور کی بیل کی جڑ میں دفن کرنا تاکہ میری موت کے بعد میری ہڈیوں کو اس کی جڑیں سیراب کرتی رہیں۔‘‘
ولا تدفنی بالفلادۃ فاننی
أخاف إذا ما مت الا أذوقہا
’’مجھے چٹیل میدان میں نہ دفن کرنا کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ مرنے کے بعد اس کا مزہ نہ چکھ سکوں۔‘‘
وتروی بخمر الحص لحدی فإننی
أسیر لہا من بعد ما قد أسوقہا
’’زعفرانی شراب سے میری لحد کو تر کر دیا جائے، کیونکہ میں اس کا رسیا ہوں۔‘‘
دوسرے دن صبح ہوتے ہی سلمیٰ نے سعد بن ابی وقاصؓ کو ابو محجن سے متعلق اپنی رواداری کی ساری روداد سنائی، سعدؓ نے ابو محجن کو بلایا، قید سے آزاد کر دیا اور کہا: جاؤ اب میں تمہاری بات پر اس وقت تک مواخذہ نہیں کروں گا جب تک اسے کر نہ گزرو۔ ابو محجنؓ نے کہا: یقیناً کبھی کسی بری خصلت کے سلسلہ میں اپنی زبان کی بات نہ مانوں گا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 374)