ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کے پسندیدہ نام ابوبکر، عمر و عثمان!
نقیہ کاظمیاولاد پر کسی بزرگ ہستی کا نام رکھنا اس سے محبت کی علامت ہے سیدنا زین العابدین رحمۃ اللہ نے فرمایا میرے والد حضرت حسینؓ اپنے والد حضرت علیؓ سے بہت محبت کرتے تھے اس لئے انہوں نے مکرر اپنے بیٹوں کے نام ان کے نام پر رکھے۔
(کتاب اہلِ تشیع، بحارالانوار: جلد، 45 صفحہ، 329)
یعنی حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے بہت سے بیٹوں کے نام علی رکھے یہ اس بات کی دلیل ہے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے تھے اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد نے اپنے بیٹوں کے نام مسلسل ابوبکر عمر و عثمان رکھے یہ بھی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ خلفائے ثلاثہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے انتہائی محبت رکھتے تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے تین بیٹوں کے نام ابوبکر عمر اور عثمان تھے ان میں سے ابوبکر و عثمان کربلا میں شہید ہوئے۔
(کتابِ اہلِ تشیع، الارشاد، شیخ مفید: جلد، 1 صفحہ، 354)
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے کا نام ابوبکر تھا جو کربلا میں شہید ہوئے اور حضرت علی المرتضیٰؓ کے دو بیٹے ابوبکر و عثمان کربلا میں شہید ہوئے۔
(کتابِ اہلِ تشیع، الارشاد، شیخ مفید، جلد، 2 صفحہ، 125)
سیدنا زین العابدینؒ کی کنیت ابوبکر تھی۔
(کتاب اہلِ تشیع، کشف الغمہ، اردبیلی: جلد، 3 صفحہ، 6)
سیدنا زین العابدینؒ کے ایک بیٹے کا نام عمر تھا۔
(کتاب اہلِ تشیع، کشف الغمہ، اردبیلی: جلد، 3 صفحہ، 23)
سیدنا موسیٰ کاظمؒ کے بیٹوں کے نام ابوبکر و عمر تھے۔
(کتاب اہلِ تشیع، کشف الغمہ، اردبیلی: جلد، 3 صفحہ، 264)
سیدنا علی رضاؒ اور امام مہدی کی کنیت ابوبکر ہے۔
(کتاب اہلِ تشیع، النجم الثاقب، نوری طبرسی، جلد، 1 صفحہ، 172)
اگر کوئی کہتا ہے کہ اولاد پر نام رکھنے کا تعلق محبت اور نفرت سے نہیں تو اس کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ اپنی اولاد کے نام فرعون، نمرود، ابوجہل، یزید اور شمر رکھ کر اس بات کا عملی ثبوت دیں کہ واقعی نام کا محبت اور نفرت سے تعلق نہیں۔