لیلۃ السواد سیاہ رات کے نصف آخر میں قعقاع رضی اللہ عنہ کی جدید منصوبہ سازی
علی محمد الصلابیلیلۃ السواد کے نصف آخر میں جو سب سے اہم واقعہ پیش آیا وہ یہ کہ حضرت قعقاع بن عمروؓ نے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے آنے والے دن میں مسلمانوں کی قوت اور عزم و حوصلے کو بلند کرنے کے لیے جدید جنگی منصوبہ سازی شروع کر دی۔ اپنے مجاہدین کو حکم دیا کہ اسی وقت خفیہ طریقے سے میدان کار زار سے کافی پیچھے جا کر چھپ جاؤ اور ایک ایک سو مجاہدین کا الگ الگ دستہ بنا کر دن میں میدان کی طرف بڑھو۔ ان سے کہا کہ جب سورج طلوع ہو جائے تو سو مجاہدین پر مشتمل ایک دستہ میدان جنگ کی طرف بڑھے اور اس کے پیچھے دوسرا دستہ اس وقت تک آگے نہ بڑھے جب تک کہ پہلا دستہ نگاہوں سے غائب نہ ہو جائے۔ اس وقت تک اگر ہاشم بقیہ امدادی کمک لے کر پہنچ جاتے ہیں تو بہتر ورنہ تمہاری اس منصوبہ بندی سے مسلمانوں کی امیدیں نہ ٹوٹنے پائیں گی۔ چنانچہ جب سورج کی پہلی کرن نظر آئی تو حضرت قعقاعؓ نے میدان جنگ سے صحرا کی طرف نظر اٹھائی، شہ سوار مجاہدین کا دستہ آتے دیکھا تو زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا، جسے لوگوں نے بھی دہرایا اور مسلمانوں کے لشکر میں ’’مدد آ گئی، مدد آ گئی‘‘ کا شورمچ گیا۔ حضرت قعقاعؓ کے بھائی حضرت عاصم بن عمروؓ نے بھی اپنے بھائی کے طریقے پر عمل کیا اور اپنے ساتھیوں کو اسی طرح کرنے کا حکم دیا۔ پھر تمام مجاہدین نے خفان کی طرف سے میدان میں آنا شروع کیا۔ حضرت قعقاعؓ کے ساتھیوں کا آخری دستہ ابھی میدان کی طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ حضرت ہاشم بن عتبہؓ شام سے سات سو تازہ دم مجاہدین لے کر پہنچ گئے۔ حضرت قعقاعؓ کے ساتھیوں نے حضرت ہاشمؓ کو قعقاعؓ کی رائے اور دو دن کی ان کی جنگی تدبیر سے آگاہ کیا۔ ہاشمؓ نے بھی اپنے ساتھ آئی ہوئی فوج کو ستر ستر افراد کے الگ الگ دستوں میں تقسیم کر دیا۔ جب قعقاعؓ کے ساتھیوں کا آخری دستہ میدان جنگ میں پہنچ گیا تو ہاشمؓ اپنے ساتھ ستر مجاں نثاروں کا دستہ لے کر خود میدان جنگ کی طرف بڑھے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 375)
اس مقام پر ذرا تھوڑی دیر رک کر ہم حضرت ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاصؓ کی تواضع و خاکساری پر غور کریں کہ کس طرح اپنے ماتحت ذمہ دار یعنی قعقاع بن عمروؓ کی بہترین جنگی تدبیر کو بلا چون و چرا قبول کر لیا اور اپنی فوج کو بھی متعدد دستوں میں تقسیم کر دیا۔ خودداری اور منصب کی عظمت نے آپ کو اس بات سے نہ روکا کہ اپنے کسی ماتحت ذمہ دار کی رائے قبول نہ کریں، بلکہ آپ ان برگزیدہ ہستیوں میں سے ایک تھے جو مدرسہ نبوت کے فارغ تھے اور اپنی ذات اور ذاتی مفاد کو اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت و مفاد عامہ کے لیے قربان کر دینے والے تھے۔ درحقیقت یہ بلند اوصاف و کردار اسلام کی ایک عظیم الشان سلطنت قائم کرنے اور عظیم ترین کافر حکومتوں کو شکست دینے کے اہم اسباب میں سے ایک سبب ہے۔