Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

یوم عماس

  علی محمد الصلابی

جنگ کے تیسرے دن کو ’’یوم عماس‘‘ کہا جاتا ہے، فارسی فوج نے اس دن ہاتھیوں کو جدید طریقے سے منظم کیا، آج کے دن وہ یوم ارماث کے اس دھوکے کی تلافی کرنا چاہتے تھے جس میں ان کے ہاتھیوں کے تنگ کاٹ دیے گئے تھے، آج انہوں نے ہاتھیوں کو درمیان میں کر کے انہیں گھڑ سواروں کی حفاظت میں رکھا تھا اور مسلمان پامردی سے ہاتھیوں، ان کے فیل بانوں اور اردگرد کے شہ سواروں سے لڑ رہے تھے لیکن سخت مشکلات کا سامنا تھا، جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ہاتھیوں کی وجہ سے مسلمانوں کی مشکل دیکھی تو فارس کے مسلمانوں سے جو اسلامی فوج کے دوش بدوش لڑ رہے تھے، پوچھا کہ کیا ان ہاتھیوں سے نمٹنے کا کوئی حل تمہیں معلوم ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، ان کی سونڈ اور آنکھوں کو بے کار کر دیا جائے۔ حضرت سعدؓ نے قعقاعؓ اور عاصم بن عمروؓ کو بلوایا چونکہ یہ ہاتھی کے بالمقابل تھے اس لیے ان سے کہا: سفید ہاتھی کی ذمہ داری تمہارے اوپر ہے۔ بقیہ ہاتھی اس کے پیچھے تھے، اور حمال بن مالک اور ربیل بن عمرو اسدی بلا کر ان سے کہا کہ: چتکبرا ہاتھی تمہارے ذمہ ہے، کیونکہ وہ تمہارے سامنے ہے۔ چنانچہ قعقاع اور عاصم رضی اللہ عنہما نے اپنا اپنا نیزہ سنبھالا اور پیدل و سوار افواج کا دستہ لے کر ہاتھی کی طرف بڑھے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہاتھی کو تم لوگ چاروں طرف سے گھیرے میں کر لو، جب ہاتھی گھیرے میں آ گیا تو اپنے دائیں بائیں، نامانوس انسانوں کی بھیڑ دیکھ کر وہ چونکا، ادھر قعقاع و عاصم رضی اللہ عنہما نے قریب پہنچ کر ایک ساتھ ہاتھی کی آنکھوں میں نیزہ گھونپ دیا، وہ اپنے سر کو تیزی سے ہلاتے ہوئے بھاگا، اپنے فیل بان کو پیٹھ سے پھینک دیا، سونڈ کٹ کر مستک سے لٹک گی۔ قعقاعؓ نے اس کو تلوار سے جدا کر کے پھینک دیا، ہاتھی پہلو کے بل گر گیا پھر آپ نے اس پر سوار فارسی سپاہیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

اسی طرح حمال بن مالک بھی حملہ آور ہوئے اور ربیل بن عمرو سے کہا: تم اس کے سونڈ پر تلوار مارو اور میںاس کی آنکھ میں نیزہ مارتا ہوں یا تم نیزہ مارو اور میں سونڈ کاٹتا ہوں۔ ربیل نے کہا: میں تلوار مارتا ہوں اور حمال نے ہاتھی پر ایسے وقت میں حملہ کیا جب کہ اپنے گرد گھیرا ڈالے ہوئے لوگوں کا نظارہ کرنے میں مشغول تھا۔ اس کا سوار صرف اس بات سے ڈر رہا تھا کہ کہیں مسلمان ہاتھی کے تنگ کو کاٹ نہ دیں، جس طرح کہ معرکہ کے پہلے دن انہوں نے یہی تدبیر اپنائی تھی اور صرف فیل بانوں کو نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ حمال نے ہاتھی کی آنکھ میں تاک کر نیزہ مارا جس سے وہ پشت کے بل ڈھیر ہوگیا۔ پھر دوبارہ کھڑا ہونا چاہتا تھا کہ ربیل بن عمرو نے اس کی سونڈ پر تلوار کا زور دار وار کیا، اور اس کے سونڈ کو مستک سے الگ کر دیا۔ پھر فیل بان نے ان کو دیکھا اور اس کے ہاتھ میں لوہے کا جو اسلحہ تھا اسی سے اس کی ناک اور ماتھے کو نشانہ بنایا لیکن ربیل اور حمال اس سے بچ نکلے۔ دونوں ہاتھی خنزیر کی طرح چیخنے چلانے لگے، چونکہ ہاتھیوں کے دوسرے غول بھی انہی دونوں ہاتھیوں کے تابع تھے اس لیے جب ان دونوں نے بلا تفریق فارسی فوج کو بھاگتے ہوئے روندنا شروع کیا تو ان کے پیچھے سارے ہاتھی بھاگ کھڑے ہوئے اور فارسی فوج کو روندنے لگے اور ایک طوفان برپا کر دیا۔ پھر تمام ہاتھی دریائے عتیق کے اس پار مدائن کی طرف بھاگ گئے اور ان پر جتنے فوجی سوار تھے سب ہلاک ہو گئے۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 468)

جب میدان ہاتھیوں سے خالی ہو گیا تو دونوں افواج پھر آپس میں گتھم گتھا ہو گئیں اور لڑائی کا زور دار رن پڑا۔ فارسی لشکر کے پاس طاقتور اور تازہ دم کمک تھی اس لیے جیسے جیسے وہ اپنی قوت کمزور اور لشکر میں کمی دیکھتے یزدگرد کو اطلاع بھیجتے اور وہ وہاں سے کمک روانہ کرتا۔ اس طرح تیسرے دن کا یہ معرکہ برابر کی جنگ پر اختتام کو پہنچا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 376)