Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عمرو بن معدیکرب کی بہادری

  علی محمد الصلابی

عمرو بن معدیکرب نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ: میں ہاتھی اور اس کے اردگرد کے سواروں پر سامنے سے حملہ آور ہوتا ہوں تم لوگ مجھے اونٹنی نحر کرنے سے کچھ بھی زیادہ وقت کے لیے تنہا نہ چھوڑنا یعنی میرے پیچھے ہی تم لوگ بھی حملہ کر دینا، اگر تم نے مجھ تک پہنچنے میں ذرا بھی تاخیر کی تو ابوثور سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔ پھر تم میں ابو ثور جیسے لوگ کہاں ہوں گے؟ اگر تم مجھے پا لیتے ہو تو ایسی حالت میں پاؤ گے کہ میرے ہاتھ میں تلوار ہو گی، اتنا کہہ کر دشمن پر ٹوٹ پڑے اور گرد و غبار میں ایسے غائب ہوئے کہ نظر نہ آئے۔ آپ کے ساتھیوں نے کہا: اب کیا دیکھ رہے ہو؟ کیا تم اس لائق نہیں ہو کہ اسے پالو، اگر تم نے اسے ضائع کر دیا تو گویا مسلمانوں نے اپنے عظیم شہ سوار کو ضائع کر دیا، پھر تمام ساتھی ایک ساتھ حملہ آور ہوئے اور مشرکین ابو ثور کو ایسی حالت میں چھوڑ بھاگے کہ وہ آپ کو زمین پر گرا کر نیزہ مار چکے تھے اور تلوار ان کے ہاتھ میں تھی اور وہ ان پر وار کر رہے تھے اور آپ کا گھوڑا زخمی ہو چکا تھا۔ جب فارسی آپ کو چھوڑ کر بھاگ رہے تھے اور آپ کو اپنے ساتھی نظر آئے تو ایک فارسی فوجی کے گھوڑے کا پاؤں پکڑ لیا، فارسی اپنے گھوڑے کو آگے بڑھانا چاہتا تھا لیکن گھوڑا اپنی جگہ سے جنبش نہ کر سکا، فارسی نے عمرو کی طرف دیکھا اور ان کو قتل کر دینا چاہا، تب تک عمرو کے ساتھیوں نے اسے دیکھ لیا اور اس پر پل پڑے، فارسی اپنے گھوڑے سے اتر کر اپنے ساتھیوں کے پاس بھاگنے کی کوشش کرنے لگا، عمرو نے کہا: اس کے گھوڑے کی لگام میرے ہاتھ میں دے دو، انہوں نے لگام عمرو کے ہاتھ میں دے دی اور وہ کود کر اس پر سوار ہو گئے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 378)