شام اور ایران میں شیعہ حکومتوں کا قیام
ابو ریحان فاروقیشام اور ایران میں شیعہ حکومتوں کا قیام
12 ہجری میں سیدنا اسامہ بن زیدؓ کے فوجوں نے ملک شام پر چڑھائی کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پہلے ہی معرکے میں شام سے عیسائیت کو رخصت کر کے اسلامی حکومت قائم کی پھر 19 سال تک شام ہی سیدنا معاویہؓ کا پایہ تخت رہا اسی جگہ پر سینکڑوں اسلامی حکومتیں قائم ہوئیں لیکن ایک ہزار سال بعد جب سُنی غفلت کا شکار ہوا حکمرانوں اور ارکانِ دولت نے اپنے ہی مذہب سے پہلو تہی کی علماء اور مشائخ اپنے تشخص اور مسلک کو دوسرے درجے کی ضرورت قرار دینے لگے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہ فتح کئے ہوئے اسی ملکِ شام پر بھی شیعہ حکومت قائم ہوگئی۔
آج بھی وہاں حافظ الاسد شیعہ کے نصیری فرقہ کا علم بردار سراقتدار رہے اس کے دور میں ہزاروں سُنی علماء اور لاکھوں حساس افراد طرح طرح کی اذیتیں دے کر ذبح کر دئیے گئے۔
آج دنیا کے تمام ممالک میں سُنی شامی علماء کی بڑی تعداد آپ کو ملے گی جو حافظ الاسد کے ظلم و بربریت کا شکار ہوکر دنیا بھر میں اپنی بے حسی کا رونا رو رہے ہیں ایران اور شام اکثریتی سُنی آبادی والے ممالک تھے لیکن اہلِ سنت کی غفلت نے آج ان کو ذلت و رسوائی اور حقارت و نفرت کے ایسے گرداب میں ڈال دیا ہے کہ ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔
ایرانی انقلاب کو دنیا بھر میں برآمد کرنے کے لئے جس قدر زور صرف کیا جا رہا ہے میں اور آپ اس کا تصور نہیں کر سکتے 6 اگست 1990ء سے پہلے تک پاکستان کی قومی اسمبلی میں 43 صوبائی اسمبلیوں میں 83 اور وفاقی کابینہ میں 17 وزارتوں پر شیعہ فائز تھے خود وفاقی حکومت کی سربراہ بے نظیر اور سینیئر وزیر نصرت بھٹو ایرانی النسل شیعہ تھی ان کے دور میں سیکرٹری داخلہ ایس کے محمود سیکرٹری دفاع اجلال زیدی شیعہ تھے۔
ایسے ملک میں جہاں 97 فیصد سُنی اور پونے دو فیصد شیعہ آبادی ہو وہاں کلیدی عہدوں پر اتنی بڑی تعداد میں شیعہ کا تسلط آپ کے ملک کی بنیادی حیثیت ہی کو تبدیل کرنے کی سازش تو نہیں؟ کیا اس قدر غفلت اور کاہلی کے بعد وقت تو نہیں آجائے گا؟ جب اہلِ سنت کی اس عظیم ملک کو شیعہ قرار دے کر شام کی طرح یہاں کے لاکھوں سنی علماء و مشائخ اور نامور زعماء کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا؟
آپ جس گھر کے باسی ہیں اسی پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے اس کی ناموس خطرے میں ہے اس کا تقدس بین الاقوامی سازشوں کی زد میں ہے وہی متائے حیات جسے عقیدہ اور مسلمان کی آخری امید کہا جاتا ہے وہ لُٹنے اور ضائع ہونے کے قریب ہے آپ کا دشمن ہر جگہ ہر سوسائٹی ہر ڈیپارٹمنٹ میں اپنے مذہب کہ فروغ میں اس قدر متعصب ہے کہ آپ سوچ نہیں سکتے ہیں آپ کے پاک وطن پر دشمن شب خون مارنے کے لیے پرتول رہا ہے اس خطرے کی گھنٹی کو محسوس کرنا آپ کا دینی اور قومی فریضہ ہے۔
ایران میں اج بھی 35 فیصد اہلِ سنت ہیں 46 ملین کل آبادی میں 16 ملین سُنی عوام ہیں لیکن کوئی سُنی ایران کا صدر اور وزیر اعظم اسپیکر وزیر جج اور پارلیمنٹ کا ممبر نہیں بن سکتا ایران کے نئے آئین کی دفعہ 12 کی رو سے ایران کے کسی کلیدی عہدے پر سُنی براجمان نہیں ہوسکتا نہ صرف عہدے داروں کا تغاوت بلکہ اقلیتی آبادی کی بے بسی کا عالم یہ ہے کہ تہران جیسے شہر میں جہاں 5 لاکھ سُنی آبادی ہیں کسی سُنی کو نہ تو مسجد بنانے کی اجازت ہے نہ مدرسہ و مکتب 35 فیصد آبادی کے ملک میں 63 فیصد شیعہ آبادی کس قدر حساس ہے شیعہ نے ان کو کیا حقوق دے رکھے ہیں؟ شیعہ اپنے مذہب میں کس قدر متعصب اور حساس ہیں اس بات کا اندازہ آپ ایرانی پارلیمنٹ کے سُنی ممبر کہ صاحبزادے اور مجلس اہلِ سنت ایران کے رہنما علی اکبر مولازادہ کے درج ذیل تازہ انٹرویو سے کرسکتے ہیں جو سنگا پور سے شائع ہونے والے رسالے impact international میں شائع ہوچکا ہے۔