ایران میں اہل سنت پر مظالم کی داستان خوانچکاں - ردِ رافضیت…

ایران میں اہل سنت پر مظالم کی داستان خوانچکاں

  ابو ریحان فاروقی

صفحہ 1 از 4

ایران میں اہلِ سنت پر مظالم کی داستان خوانچکاں

ایران میں سنیوں کی حالت شاہ کے دور اقتدار میں بھی کچھ زیادہ اچھی نہ تھی لیکن نام نہاد اسلامی انقلاب کے بعد مزید ابتر ہوتی گئی ہم نے شاہ کے خلاف ایجیٹیشن میں شیعہ سُنی سے لے کر ازہری بلوچی کرو ترکمان اور دوسری قومیتوں اور لسانی گروپوں میں اختلافات کی نفی کرتے ہوئے شاہ کے خلاف جناب خمینی کا ساتھ دیا خمینی نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ یہ انقلاب خالص اسلامی ہوگا انقلاب کی کامیابی کے بعد تمام فرقوں کو مذہبی اور شہری آزادی دی جائے گی لیکن شاہ کا اقتدار ختم ہونے کے فوری بعد انقلابی لیڈروں نے ہمارے ساتھ دغا کیا خمینی کی رہنمائی میں تیار کردہ جمہوریہ ایران کے آئین میں شیعہ ازم کو سرکاری مذہب کی حیثیت دے دی گئی اور مملکت کے رہنما اصولوں میں جمہوریہ ایران کو اسلامی مملکت کے بجائے شیعہ سٹیٹ قرار دیا گیا اس کے ساتھ ستم یہ کہ مملکت کے پالیسی ساز اداروں سے سنیوں کو مکمل طور پر نکال دیا گیا اس وقت ایران میں سنیوں کو غیر مسلم اقلیتوں یہودی عیسائی آرمینائی اور زرتشتی کے برابر حقوق حاصل نہیں ہیں عملی طور پر سُنیوں کو ان غیر مسلم اقلیتیوں سے بھی کم حقوق حاصل ہیں آئینی حقوق سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ سُنی اکثریتی علاقوں کو تشدد کی پالیسی کے ساتھ کچل دیا گیا اس مہم میں سب سے پہلے کروستان کے سُنی اکثریت کو نشانہ بنایا گیا وہاں ایک چھوٹی سی کمیونسٹ ایجنسی کو ہوا دی گئی پھر اسے بہانہ بنا کر کردوں (سُنیوں) کے خلاف ایک خوفناک جنگ کا آغاز کر دیا گیا اس مہم کے دوران کا کردستان کے دیہاتوں میں نیپام بم پھینکے گئے سینکڑوں کرو قصبات اور سُنی آبادی والے مراکز کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ سینکڑوں مرد عورتیں بچے شہید کر دیئے اور ہزاروں بے گناہ معصوم سنی بچیوں کے بے حرمتی کی گئی شیعہ ملاؤوں نے سُنی کش مہم کو جاگیرداروں کے خلاف جنگ قرار دیا اسی طرح بندر لیگ میں سُنی کش مہم میں منصوبہ بندی کے تحت جمعہ کی نماز کے اجتماع میں اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس سے 20 سے زائد سُنی نوجوان شہید ہوگئے سُنی اکثریت کے علاقہ ترکمان صحرا پر مصلح حملہ کے دوران پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا گیا کوئی مرد عورت بچہ گھر سے نکلتا گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا سُنی اکثریتی صوبہ بلوچستان کے دارالخلافہ زاہدان کو انقلاب بھی دہشت اور تشدد کا خصوصی نشانہ بنایا گیا شہر میں بلاجواز کرفیو لگا کر خون کی ہولی کھیلی گئی اس سُنی کشِ مہم 100 سے زائد نوجوان شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے بدقسمتی سے ہمیں ایک ایسی قیادت سے واسطہ پڑا ہے جو اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ہماری حکومت ہی مذہبی طور پر جائز ہے تقیہ اس حکومت کے رہنماؤں کے عقائد میں شامل ہے جس کے مطابق اپنے مذہبی عزائم کے حصول کے لیے جھوٹ بولنا حقیقت کو چھپانا یا فریقِ ثانی کو دھوکہ دینا انتہائی پارسائی اور تقویٰ ہے۔ 

میرے والد مرحوم مولوی عبدالعزیز اور علامہ احمد مفتی زادہ قانون ساز اسمبلی کے سُنی ممبر تھے انہوں نے سُنیوں کے جائز حقوق کی تلفی اور ان کے کربناک مسائل کی آواز اسمبلی میں اٹھائی مسٹر خمینی کے ساتھ ذاتی ملاقاتوں میں بھی سنیوں کی مشکلات کا جائزہ پیش کیا لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا میرے والد کی تقریر اسمبلی ریکارڈ میں موجود ہے جس میں انہوں نے شیعہ قیادت سے اپیل کی تھی کہ مسلمانوں میں تفرق کا نہ ڈالیں اور سُنیوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم نہ کرے ورنہ یہ انقلاب بھی آخر کار شاہ کے انجام سے زیادہ مختلف نہ ہوگا ہم نے محسوس کیا کہ سنیوں کے خلاف تمام کاروائی کے پیچھے خمینی کا ہاتھ ہے میرے والد اور علامہ مفتی زادہ کو سُنی حقوق کی آواز بلند کرنے پر اسمبلی کی رکنیت سے برخاست کر کے جیل میں ڈال دیا اور جیل میں ان پر تشدد کی انتہاء کر دی گئی ُسُنی رہنماؤں کو پاسبان انقلاب کے ہاتھوں بلاجواز شہید کرا دیا گیا دیگر سنی رہنماؤں مولوی عبدالمالک مولوی عبدالعزیز ازہری ناصر سبحانی مولوی ابراہیم دامانی اور مولوی نذر محمد کو سُنی کش مہم کے خلاف آواز اٹھانے پر جیل میں انتہائی دردناک تشدد کا نشانہ بنایا۔

انقلاب ایران کے بعد ہم پر جلد یہ بات واضح ہونے لگی کہ انقلاب کی شیعہ قیادت صفوی کی مذہبی پالیسی کی پیروی کر رہی ہے تین صدی قبل ایران ایک اکثریتی سُنی مملکت تھا جونہی شاہ اسماعیل صفوی نے اقتدار پر قبضہ کیا اس کی فوجوں نے جہاں تک ممکن ہوسکا لاکھوں سُنیوں کو تہہ تیغ کیا ایران کے وسطی علاقوں کو جہاں پر سُنی اکثریت تھی مکمل طور پر سُنی آبادی سے پاک کر دیا یہی وجہ ہے کہ ایران میں سنی آبادی صرف دور دراز پہاڑی اور ریگستانی صوبوں تک محدود ہے اس وقت ان علاقوں میں صفوی فوجویں سفری مشکلات کے باعث نہ جاسکی تھیں۔

صفحہ 1 از 4