ایران میں اہل سنت پر مظالم کی داستان خوانچکاں - ردِ رافضیت…

ایران میں اہل سنت پر مظالم کی داستان خوانچکاں

  ابو ریحان فاروقی

صفحہ 2 از 4

موجودہ دور کے صفیوں و شیعہ قیادت نے ایران کے نوجوان سُنیوں کو ختم کرنے شیعہ بنانے اور انہیں جلاوطن کرنے کا تین نکاتی پروگرام تشکیل دیا ہے اس پروگرام کی تکمیل پر عورتیں اور بچے خود بخود شیعہ قیادت کے زیر اثر آجائیں گے اس پروگرام کے پیچھے ایران کو 100 فیصد شیعہ سٹیٹ بنانے کا جنونی جذبہ کار فرما ہے اگرچہ یہ پروگرام عراق کے ساتھ جنگ چھڑنے کی وجہ سے عارضی طور پر سرد خانے میں چلا گیا تھا لیکن اب جنگ کے اختتام کے بعد حکومت دوبارہ ایک نئے جوش و جذبہ کے ساتھ اس پالیسی پر واپس آرہی ہے اس وقت ایک بھی وزیر نائب وزیر سفارت کار فوجی افسر عدالت کا جج گورنر جنرل کارپوریشن یا بلدیہ کا چیئرمین سُنی نہیں ہے حتیٰ کہ سُنی علاقوں میں بھی مذہبی پیشوا شیعہ اور سُنی ان کے پیچھے نماز پڑھنے پر مجبور ہیں کچھ دفاتر آئینی طور پر صرف شیعہ کے لئے مخصوص ہیں کافی دفاتر پر صرف حکومتی افراد نے عملی طور پر اپنی اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے ملک کا شیعہ نشر و اشاعت شیعہ عقائد و نظریات پھیلانے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے سُنیوں اور اسلام کے خلاف تحریک چلا رہا ہے اس میں مسلمانوں کی مقدس ہستیوں پر رقیق حملے اس تحریک کا حصہ ہیں اصحاب ثلاثہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ اور آنحضرتﷺ کی بیویوں (ازواج مطہراتؓ) پر کھلے عام تبرا اور ان کے خلاف یک طرفہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔

 پرائمری سے یونیورسٹی کے درجے کی تعلیمی اور نصابی کتابیں شیعہ ازم کے نظریات کو فروغ دے رہی ہیں شیعہ ازم کے علاوہ ہر نظریہ کو خارج از نصاب قرار دیا گیا ہے اس کے ساتھ اصحابؓ اور رسولﷺ کے خلاف طبری کی مدد سرائی کو ساتھ نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔

سُنی طلبہ پر یونیورسٹی تعلیم کے دروازے مکمل طور پر بند کر دیئے گئے ہیں زاہدان یونیورسٹی جو بلوچستان کی 90 فیصد سُنی آبادی کی واحد یونیورسٹی ہے اس میں 2000 دو ہزار طلبہ میں صرف 9 سُنی طلبا داخل ہیں سُنیوں کو اپنے عقائد کی تشریح یا اشاعت کے لیے کوئی کتاب اخبار کتابچہ رسالہ شائع کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے حتیٰ کہ صرف سنیوں کی حد تک بھی اس کا اہتمام نہیں کیا جاسکتا۔خ جس کسی نے بھی ایسا کرنے کی کوشش کی اسے پابند سلاسل کر دیا گیا کاروبار کو فروغ دینے کے لیے بینک کے قرضے لائسنس زرعتی اور صنعتی منصوبے صرف شیعوں کے لیے وقف حتیٰ کہ سُنی اکثریتی علاقوں میں بھی سُنیوں کو یہ سہولتیں میسر نہیں ہیں اہلِ اقتدار لڑاؤ اور حکومت کرو کے پالیسی پر عمل پیرا ہیں سُنیوں کو سُنیوں سے ہی لڑایا جا رہا ہے حکومت تمام سُنی قبائل کو آپس میں لڑنے کے لیے اسلحہ فراہم کر رہی ہے تہران کہ اکثریتی سُنی علاقوں میں ایک منصوبے کے تحت شیعہ کی آباد کاری کا کام بڑے زور سے جاری ہے سُنی اکثریتی علاقوں کو اقلیتی علاقوں میں بدلہ جا رہا ہے اس پالیسی کے تحت سُنی نوجوانوں کی پاکستان یا گلف میں نقل مکانی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے سُنی رہنما کی تمام کوششوں اور صدائے احتجاج کو جو انہوں نے ان ایزا رسانیوں اور ناانصافیوں کے خلاف کی ہے کو سختی کے ساتھ کچل دیا ہے اب ایسا کوئی طریقہ ان کے پاس نہیں کہ وہ اپنی آواز کو ایران کے اندر دوسروں تک پہنچا سکیں کیونکہ نشر و اشاعت مشینری پر شیعہ ملائیت کا کنٹرول ہے۔

علی اکبر مولا زادہ کے چونکا دینے والے انکشافات کے بعد ایران کی ایک جیل سے مظلوم سُنی کی فریاد کی صدائے بازگشت بھی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا تک پہنچ چکی ہے اس چیخ و پکار پر ہمیں کیا کرنا چاہیے سُنی افسران کا رویہ کیا ہونا چاہیے 42 سُنی ممالک کے حکمرانوں اور ارکان دولت پر لازم ہے کہ غفلت کی چادر اتار کر ایران کی مظلوم اہلِ سنت کے لیے آواز بلند کریں

ایران کی جیل سے لکھے گئے خط کی مندرجات ملاحظہ فرمائیں:

ایرانی اہلِ سنت کے متعلق باہر کے مسلمان بہت کم جانتے ہیں کہ اصل میں ان کی حالت کیا ہے؟ شاہ کے دور میں وہ کس حال میں تھے؟ اور انقلاب کے بعد وہ کس حال میں ہیں؟ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ باہر کے پریس خواہ مسلمانوں کہ زیرِ نگین ہوی یا غیر مسلمانوں کے سب ہی نے ان کی حالت زار کو نظر انداز کیا ہے غیر مسلمانوں کی عدم دلچسپی کی وجہ تو نمایاں ہے لیکن مسلمان اہلِ علم و قلم نے اس سلسلے میں بے حسی کا جو مظاہرہ کیا ہے اسلامی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی روس ہو برما ہو یا فلسطین کشمیر ہو یا افغانستان انڈیا ہو یا اری ٹیریا جہاں بھی مسلمان رہتے ہیں جب انہیں ظالموں نے ستم کا نشانہ بنایا تو ان کی صدائے مظلومیت سن کر عالم اسلام جاگ اٹھا مسلمانوں کے ضمیر بیدار ہوگئے ہر سطح پر ان کی حمایت و معاونت کی گئیلیکن بدقسمت ہیں ایران کے 35 فیصد سے زائد سُنی مسلمان کئی سالوں سے ظلم وستم کی چکی میں پسنے کے باوجود آج تک کسی مسلمان یا غیر مسلمان نے ان سے اظہار ہمدردی اور ان کے معاونت تو کجا ان کی طرف اشارہ تک نہیں کیا پتہ نہیں ان کی بدقسمتی ہے یا عالم اسلام اور مسلمانوں کی مجرمانہ غفلت خدا معلوم انہیں کس کی نظر کھا گئی ہے ایران کہ اہلِ سنت فتح ایران سے لے کر 10 ھ تک اپنی بساط کے مطابق اسلام اور مسلمانوں کی خدمات انجام دیتے رہے موجودہ دور کے درس نظامی کی الف ب سے لے کر انتہا تک یا باالفاظ دیگ نحومیر سے لے کر بخاری تک کی اکثریتی درسی کُتب ایرانی اہلِ سنت علماء کی خدمات جلیلہ اور عظمت کابین ثبوت ہے۔

تفسیر میں اصول تفسیر اصول حدیث اصول فقہ ادب بلاغت تاریخ لغت سیرت منازی طب ریاضی سائنس غرض اسلامی اور عصری علوم و فنون میں ایران کے سنی اہلِ علم نے عالم اسلام کے لیے شاندار خدمات سرانجام دی ہیں دنیا کا کوئی کُتب خانہ ان کی کتابوں سے خالی نہیں لیکن تماشہ دیکھیے کہ آج انہیں اہلِ علم کی سرزمین تہران میں کرمان مشہد غرض کسی شہر میں بھی ان کے نیاز مندوں کو ان کے بچوں کو مسجد بنانے کی بھی اجازت نہیں۔

صفحہ 2 از 4