ایران میں اہل سنت پر مظالم کی داستان خوانچکاں - ردِ رافضیت…

ایران میں اہل سنت پر مظالم کی داستان خوانچکاں

  ابو ریحان فاروقی

صفحہ 3 از 4

آج اسلامی ممالک میں خاص طور پر پاکستان کے بہت سے اہلِ علم اور علامہ بھی ہم سے پوچھتے ہیں کیا واقعی ایران میں اہلِ سنت بھی رہتے ہیں؟ راقم الحروف نے انقلاب ایران کے 30 سال بعد پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ایک اہم اور معروف دینی درسگاہ میں داخلہ لیا ایک استاد کو جب پتہ چلا کہ میں ایرانی ہوں تو تعجب سے پوچھنے لگے آپ سُنی ہیں یا شیعہ؟ میں نے کہا کہ آپ کو میرے سُنی ہونے میں شک ہے؟ فرمانے لگے ایران تو شیعوں کا ملک ہے وہاں سُنی کہاں؟ مجھے بہت تعجب ہوا ایک اہلِ علم ایک معروف دینی درسگاہ کا استاد جن کتابوں کو پڑھاتا ہے ان کے مصنفین سب ایرانی سُنی پھر بھی یہ سوالات جب میں نے غور کیا تو ان کو حق بجانب رکھا سمجھا کیونکہ ایک زمانہ وہ تھا کہ ایشیاء افریقہ حتیٰ کہ یورپ کے طلبہ نے علمی پیاس بجھانے کے لیے ایران کا رخ کیا ہے اصل میں انہیں تعجب اسی پر ہونا چاہیے تھا لیکن عصرِحاضر کے بے شمار مسائل نے لوگوں کے ایسا الجھا دیا ہے کہ مقصد اور ہوتا ہے زبان سے نکلتا کچھ اور ہے ایران کے اہلِ سنت کے متعلق سب خاموش رہے اور ہیں علماء کرام نے ان کی طرف توجہ دی نہ دانشوروں نے کوئی نوٹس لیا نہ اہلِ قلم و صحافت نے اس مسئلے میں دلچسپی لی ارباب سیاست کی تو کیا پوچھیے بہت سے اہلِ علم و سیاست اور دینی اور سیاسی تنظیموں کے ذمہ دار حضرات سے جب ہم نے اس سلسلے میں رابطہ کیا اور بات چیت کی تو کہنے لگے ہمیں تو خبر نہیں آپ ہمیں لکھ کر دے دیں اور ہم سے رابطہ رکھیں ہم حکومتی اور عوامی سطح سے آواز اٹھائیں گے لیکن 

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ۔

بہت سے اخبارات اور جرائد کے دروازوں پر بھی دستک دی ہر جگہ سے یہی جواب ملا کہ اے بھائی صبر کریں حالات سازگار نہیں ا یران کے بارے میں لکھنا منع ہے صبر کریں حالات ٹھیک ہوں گے اور اور کئی ایک نے تو ابتداء ہی سے منفی جواب دے کر مایوس کیا اب ہم ایک بار پھر جسارت کرکے ان سطور کی اشاعت کے لیے آپ کو زحمت دیتے ہیں اور آپ کی وساطت سے اپنے مسلمان بھائیوں سے چند سوالات کرتے ہیں امید ہے کہ قارئین کرام ہمارے ان سوالات پر غور کر کے اظہار ہمدردی فرمائیں گے یا اپنے طور پر اپنے پسندیدہ مجلّات و جرائد کو ایک ہی خطبہ کے ذریعے اپنے فریضے کی طرف توجہ دلائیں گے کیا آپ کو معلوم ہے کہ صفوی اور دور حکومت سے قبل ایران کے اکثریت 95 فیصد اہلِ سنت تھی۔

(3)۔ کیا آپ کو علم ہے کہ موجودہ ایران میں 35 فیصد اہلِ سنت رہتے ہیں؟۔

(4)۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ 35 فیصد اہلِ سنت ایران میں اپنے تمام جائز حقوق سے محروم ہے؟۔

(5)۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ موجودہ "شیعہ حکومت" نے اہلِ سنت کی بہت سے مساجد اور مدارس بند کر دیئے ہیں؟۔

(6)۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایرانی دارالحکومت تہران میں 5 لاکھ اہلِ سنت مسجد بنانے سے محروم ہے؟۔

(7)۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ "بندر لنگا" شہر کی جامع مسجد پر جمعہ کے دن ایرانی پاسداران انقلاب نے نماز کے وقت حملہ کر کے 330 سے زائد سُنیوں کو شہید اور کئی ایک کو زخمی کیا اور محراب کو گولیوں کا نشانہ بنایا؟۔

(8)۔ کیا آپ کو اطلاع نہیں کہ انقلاب کے بعد سُنی صوبہ کردستان پرہیلی کاپٹروں اور بمبار تیاروں سے ہم وطنوں کو بے دردی سے تہہ تیغ کیا گیا اور ہزاروں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا؟۔

(9)۔ کیا آپ کو یاد نہیں کہ انقلابی گارڈ کے جیالوں نے جنہیں مسٹر خمینی بیٹے کا خطاب دیا کرتے تھے اہلِ سنت کے علاقے "ترکمانِ صحرا" میں گھس کر عام و خاص کو قتل کیا؟۔

(10)۔ کیا آپ کو خبر نہیں کہ اہلِ سنت کے بے شمار نوجوانوں کو شیعہ انقلابی حکومت نے منشیات فروش مخالف انقلاب مفسد فی الاعرض قرار دے کر تختہ دار پہ لٹکایا؟۔

(11)۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اہلِ سنت ایران کے بڑے رہنماء علامہ احمد مفتی زادہ صوبہ خراسان کے شیخ الاسلام علامہ محی الدین صوبہ بلوچستان ایران کے بے باک اور مشہور رہنما مولانا نذر محمد سابق ممبر قومی اسمبلی (خمینی کے دور میں) اہلِ سنت جی عظیم علمی شخصیت مولانا ڈاکٹر احمد میزمن اور بہت سے اہلِ علم آج تک "اسلامی جمہوریہ" ایران کے خفیہ جیل خانوں میں موت و حیات کی زندگی گزار رہے ہیں؟۔

(12)۔ کیا آپ جانتے ہیں 35 فیصد اہلِ سنت میں سے پورے ایران میں ایک وزیر ایک جرنیل ایک گورنر یا کوئی بھی بڑے یا درمیانے درجے کا عہدے دار نہیں ہے؟۔

(13)۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ پرائمری سے لے کر یونیورسٹی تک تمام سُنی بچے شیعہ فقہ و نظریات کے مطابق تعلیم حاصل کرتے ہیں حتیٰ کہ سُنی اکثریت والے صوبوں میں بھی ٹیچر شیعہ ہی ہیں؟۔

(14)۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کے پڑوسی ملک ایران میں مسلمان سُنی 35 فیصد ہونے کے باوجود اپنے تمام اقتصادی مذہبی اور تعلیمی حقوق سے محروم ہیں اور وہ بھی ان ہی لوگو کی طرف سے جو 10 سال سے زائد عرصہ ہوا ہے اپنے (نام نہاد) اسلامی شعارات اور وحدت و اتحاد کے نعروں سے عالم اسلام کے کانوں کو بہرا کر رہے ہیں اور ان کے پیشوا خمینی کا قول ہے "شیعہ سُنی بھائی بھائی" ہیں جو ان میں اختلاف ڈالے نہ شیعہ ہے نہ سُنی بلکہ استعماری قوتوں کا ایجنٹ ہے آپ پر فرض ہے کہ ایران کے حکمرانوں سے استفسار کریں کہ آپ جو شیعہ اور سُنی میں اختلاف کے بانی ہیں اور اہلِ سنت کو تمام حقوق سے محروم کر رہے ہیں کس کے ایجنٹ ہیں اور یہ سب کچھ کس کے اشارے اور ایماء پر کر رہے ہیں؟ آخر میں ہم شیعہ سے بھی التماس کرتے ہیں کہ ناانصافی اور ظلم کا راستہ چھوڑ دیں اور آیت اللہ شریعت مدار کُتب زادہ بنی صدر شیخ علی اور اخیر میں آیت اللہ منتظری (خمینی کے جانشین) کے حالات سے سبق سیکھیں۔

مذکورہ بالا قوائف سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایران کا دستور ایسے رہنماء کی نگرانی اور حکم سے ترتیب دیا گیا تھا جس کے ان نعروں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو دھوکہ دیا اور اہلِ اسلام اسے اسلامی رہبر سمجھنے لگے۔

جو شیعہ اور سُنی میں تفریق کرتا ہے وہ نہ شیعہ ہے نہ سُنی۔

لا شرقیه ولا غربیه اسلامیه اسلامیه۔

صفحہ 3 از 4