ایران میں اہل سنت پر مظالم کی داستان خوانچکاں - ردِ رافضیت…

ایران میں اہل سنت پر مظالم کی داستان خوانچکاں

  ابو ریحان فاروقی

صفحہ 4 از 4

نعروں اور اعلانات کی حد تک تو یہ فریب چل گیا لیکن جب عملی طور پر قانون سازی اور دستوری تدوین کا وقت آیا تو مجلس خبرگان و پارلیمنٹ کا ایک ممبر بھی سنُی برداشت نہ کیا جاسکا پھر ایسی سُنی اقلیت جس کی آبادی خود ایرانی مردم شماری کے مطابق 16 ملین یعنی پونے دو کروڑ تسلیم کی گئی معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ کی رواداری اور تقیہ کے طور پر قائم ہونے والی مصلحتوں کی مثال دلچسپی کے لیے نذر قارئین ہیں خمینی اپنی کتاب میں لکھتا ہے۔

جو شخص بطور تقیہ (دھوکہ کے لئے) سُنی کے پیچھے نماز پڑھے گا اس کو پانچ گُنا نماز کا زیادہ ثواب ملے گا۔

 ( توضیح المسائل خمینی)۔

معزز قارئین سپاہ صحابہؓ پاکستان جب یہ کہتی ہے کہ پاکستان میں صرف وہ حقوق دیے جائیں جو ایران میں اہلِ سنت کو حاصل ہیں تو اس کو فرقہ واریت قرار دے دیا جاتا ہے پاکستان میں شیعہ کی آبادی کا تناسب کیا ہے؟ اس میں پاکستان کے چار صوبوں کی آبادی کے اعتبار سے صرف ڈھائی فیصد اکثریت ہر بستی ہر قریہ ہر شہر میں اپنا عبادت خانہ اپنا گھوڑا اپنا خنجر لہرانے کے لیے سارا سال جدوجہد کرتی رہتی ہے کسی بازار یا چوک میں اہلِ سنت اگر اپنے حقوق اور آبادی کی وجہ سے سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ نام آویزاں کر دیں تو شیعہ محرم کے جلوس کے موقع پر وہاں آکر رک جاتا ہے اس کا مطالبہ ہوتا ہے کہ پہلے یہ کتبہ اتارا جائے حیرت ہوتی ہے جو سُنی اکثریت آپ کے گھوڑے خنجر بردار جلوس دلدل اور بےہنگم اجتماع کو برداشت کرتی ہے اس کی برگزیدہ شخصیات کا یہ لوگ نام تک برداشت نہیں کرتے اور آپ بھی کہتے ہیں بورڈ اتار لینے میں کیا حرج ہے یہ نہیں کہتے کہ نیچے یا قریب سے گزر جانے میں کیا حرج ہے کیا اقلیت کے حقوق اس قدر زیادہ ہوگئے ہیں کہ اکثریت کہ اسلاف کو گالیاں دی جائیں تو وہ چپ رہیں اکثریت کے بازاروں کو بےہنگم جلوسوں اور قابلِ اعتراض نعروں سے بھر دیا جائے تو وہ خاموش رہیں۔

آپ اسی طرح کے حقوق کی بات کرتے ہیں؟

آپ کب تک اکثریت کے حقوق کو تشدد کے ذریعے دبا سکیں گے؟۔

کب تک مجبور آوازیں دبی رہیں گی؟

کب تک اقلیت کی غیر شرعی کاروائیوں کو خاموشی سے برداشت کیا جائے گا؟

دنیا کے کسی مذہب میں کسی بزرگ کو گالی دینا عبادت ہو ایسا مذہب بھی آپ نے کبھی دیکھا یا سنا۔

آئیے ہم آپ کو شیعہ مذہب کی اسلام دشمنی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہ مخالفت پر مشتمل چند تحریروں سے واقف کرانا چاہتے ہیں۔

اس سے پہلے شیعہ کے علیحدہ مذہب،معاشرت کا ذکر بھی ضروری ہے تاکہ دو قومی نظریہ کی روشنی میں اگر ہندوؤں، سکھوں سے علیحدگی اختیار کی جا سکتی ہے۔ تو ان کے عقائد سے بھی زیادہ بدترین عقائد و افکار کی حامل قوم سے یگانیت اور وحدت کس قاعدے اور ضابطے کے تحت روا ہے۔


صفحہ 4 از 4