تفضیلی شیعہ کے ساتھ سنی العقیدہ لڑکی کی کفاءت اور نکاح کا حکم
تفضیلی شیعہ کے ساتھ سنی العقیدہ لڑکی کی کفاءت اور نکاح کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیانِ شرع اس بارے میں کہ زاہد شیعہ ہے لیکن ان کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں تیس پارے ہیں اور بغیر کسی تحریف کے اسے صحیح مانتا ہے اور محمد رسول اللہﷺ کے ختمِ نبوت کا قائل ہے، امہات المومنینؓ میں فرق نہیں کرتے، تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کو پیارے ہیں البتہ سیدنا علیؓ سیدنا حسنینؓ اور سیدہ فاطمہؓ کے ساتھ انتہائی محبت رکھتا ہے ۔ کیا اس زاہد کے ساتھ کسی سنی، دیوبندی یا بریلوی لڑکی کی شادی جائز ہے یا نہیں؟ یا مکرود یا مباح؟
جواب: اگر یہ زاہد تفضیلی شیعہ ہو تو سنیہ لڑکی کا نکاح اس کے ساتھ کالعدم اور نامنظور ہو گا، جبکہ اولیاء کے اجازت کے بغیر ہو:لعدم الكفاءة ہاں باذنِ اولیاء درست ہو گا۔
(فتاویٰ فریدیه جلد 5، صفحہ 125)