Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فارسی فوج کے کمانڈر جنرل رستم کا قتل

  علی محمد الصلابی

حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھے اور رستم کے تخت پر قابض ہو گئے، گرد و غبار کی کثرت سے وہ رستم کو نہیں دیکھ سکے، رستم اپنا تخت چھوڑ کر سامان لدے ہوئے ایک خچر کی آڑ میں چھپ گیا، حضرت قعقاعؓ اس پر چڑھ گئے جس سے رستم کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ حضرت قعقاعؓ اب تک نہ جان سکے تھے کہ رستم میرے نیچے ہے۔ رستم اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے اٹھ کر دریائے عتیق کی طرف بھاگا، لیکن ہلال نے اسے پکڑ لیا اور پاؤں پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے باہر لائے، پھر قتل کر دیا۔ اس کے بعد اس کے تخت پر چڑھ کر بلند آواز سے کہا: رب کعبہ کی قسم! میں نے رستم کو قتل کر دیا، آؤ میری طرف آؤ! لوگ وہاں جمع ہو گئے، اس کی اور اس کے تخت کی خوب درگت بنائی اور نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے ایک دوسرے کو خوشی و مسرت سے بلانے لگے۔ اس طرح فارس کا قلب شکست کھا گیا، اور مسلمانوں کے دیگر سردار آگے بڑھتے رہے اور جو سامنے آتا اسے قتل کرتے۔ فارسی فوج پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑی ہوئی۔

جب جالینوس کو رستم کے قتل کردیے جانے کی خبر ملی تو دریائے عتیق میں بنائے ہوئے بڑے بند پر کھڑا ہو کر فارسی فوج کو بھاگ نکلنے اور دریا عبور کر لینے کی دعوت دینے لگا، چنانچہ کچھ فوج نے دریا عبور کر لیا اور کچھ فوجی جن کی تعداد تیس ہزار تھی اور وہ زنجیروں کے گھیرے میں تھے، دریائے عتیق میں کودنے لگے اور مسلمانوں نے جم کر ان پر اس طرح تیر برسائے کہ کوئی زندہ نہ بچ سکا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 388)