Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معرکہ کا اختتام

  علی محمد الصلابی

سب سے پہلے اللہ کے فضل و توفیق سے، پھر جاں باز مسلمانوں کی کوشش اور ان کے قائد اعلیٰ سعد بن ابی وقاصؓ کی حکمت سے معرکہ قادسیہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ یہ بڑا سخت و جاں گسل معرکہ تھا، دشمن بڑی ثابت قدمی سے تین دن تک مسلمانوں کا مقابلہ کرتے رہے اور چوتھے دن اللہ نے انہیں شکست سے دوچار کیا، جب کہ اس سے قبل عموماً ایک ہی دن میں مسلمان اپنے دشمنوں کو زیر کر لیتے تھے۔

دشمن کی اس قدر پامردی کا اہم سبب یہ تھا کہ وہ لوگ اس کو آخری معرکہ تصور کرتے تھے، وہ یہ عزم کر چکے تھے کہ یا تو فتح و غلبہ کے ساتھ اب ہماری حکومت باقی رہے گی یا شکست و رسوائی کے ذریعہ سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی اور اس کا نام و نشان مٹ جائے گا۔

اسی طرح ان کی پامردی و ثابت قدمی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس بار ان کی فوج کی قیادت رستم جیسا سالار اعظم کر رہا تھا، جس کی تاریخ فتح و غلبہ کے کارناموں سے بھری پڑی تھی۔ اس کے علاوہ فارسی فوج تعداد، اسباب جنگ اور اسلحہ میں بھی مسلمانوں سے بہت زیادہ تھی۔ فارسی لشکر ایک لاکھ بیس ہزار فوجیوں پر مشتمل تھا، جنگ نہ لڑنے والے دوسرے لوگ ان کے علاوہ تھے، نیز ان لوگوں کا اس میں شمار ہی نہیں جنہیں یزدگرد احتیاطی فوج کی شکل میں روانہ کرتا تھا۔ جب کہ ان کے بالمقابل اسلامی لشکر میں مسلمان فوج کی تعداد تیس ہزار سے کچھ زیادہ تھی۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 388)

تعداد و تیاری کی اس سخت کمی کے باوجود مسلمانوں نے اپنے آٹھ ہزار پانچ سو 8500 شہداء کو گنوانے کے بعد دشمن پر فتح کا پرچم لہرایا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 388)

معرکہ قادسیہ کے شہداء کی یہ تعداد اسلامی فتوحات کے پہلے دور کے شہداء میں سب سے بڑی تعداد تھی، اس معرکہ میں اتنی جانوں کے نذرانے دینا اس بات کی دلیل ہے کہ معرکہ بہت سخت جاں تھا اور مسلمان عزم و شجاعت کے پیکر بن کر شہادت کے لیے تیار تھے۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 479)