Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شکست خوردہ فوج کے باقی ماندہ افراد کو دوڑانا

  علی محمد الصلابی

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے شکست خوردہ فوج کے باقی افراد کو دھر دبوچنے کا حکم دیا۔ حضرت قعقاع بن عمرو اور شرحبیل بن سمط کی ذمہ داری لگائی کہ دریائے عتیق کے اس پار جو بچے کھچے دشمن فوجی ہوں انہیں دائیں بائیں دور تک دوڑائیں اور زہرہ بن حویہ کو مکلف کیا کہ جو لوگ اپنے سرداروں کے ساتھ دریا پار کر چکے ہیں ان کا پیچھا کریں۔ ادھر فارسی فوج نے یہ ہوشیاری کی تھی کہ دریا میں جو بڑا بند بنایا تھا، دریا عبور کرنے کے بعد اسے کاٹ دیا تھا تاکہ مسلمان ان کا پیچھا نہ کر سکیں، لیکن زہرہ اور ان کے ساتھ تین سو شہ سواروں نے دریا میں اپنے گھوڑے دوڑا دیے اور حکم دیا کہ جو لوگ ادھر سے دریا نہ عبور کر سکیں وہ پل کے راستے سے ہمارے پیچھے آئیں۔ وہ پل بھی کچھ ہی دوری پر واقع تھا، تھوڑی ہی دیر میں سب نے دشمن کو پکڑ لیا۔ جالینوس ان کا قائد اعلیٰ تھا جو ساقہ میں چل رہا تھا اور ان کی حفاظت کر رہا تھا۔ زہرہ نے اسے پکڑ لیا پھر جالینوس اور زہرہ نے تلوار کے ساتھ دو دو ہاتھ کیے، بالآخر وہ مارا گیا اور زہرہ نے اس کا سامان چھین لیا، فارسی فوج کے کچھ لوگ بھاگ نکلے اور کچھ قتل کیے گئے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 389)