رسول اللہﷺ کے قریب رہنے والوں کا ایک اور گروہ بھی تھا جس کے اپنے منصوبے تھے
ابو ریحان فاروقیرسول اللہﷺ کے قریب رہنے والوں کا ایک اور گروہ بھی تھا جس کے اپنے منصوبے تھے
اپنی مصلحتیں تھیں لیکن بظاہر شمعِ رسالت کے پروانے بنے ہوئے تھے اس کے سرخیل سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمر بن خطابؓ تھے۔ (صفحہ 8)۔
سیدنا ابوبکرؓ کی کوئی اپنی حیثیت نہیں تھی کہ ان پرتحقیق اور بےلاگ گفتگو کرنا جرم ہو یا اس سے دین میں نقص پیدا ہو۔
سیدنا ابوبکرؓ نے صرف تخت حاصل کرنے کے لئے بے رحم بادشاہوں کی سنت پر ہی عمل نہیں کیا بلکہ آپ کے عموی رویہ حکمرانی میں بھی مطلق العنان بادشاہوں کی جھلک نظر آتی ہے۔
بعض موقعوں پر تو آپ ہلاکو خان اور چنگیز خان کے قبیلے والے لگتے ہیں۔ (صفحہ 10)۔
سیدنا ابوبکرؓ پر حصولِ خلافت کے جذبات اس طرح طاری تھے کہ رسول اللہﷺ سے تمام عمر کی یاری کے باوجود ان کے دل میں آنحضرتﷺ کی جدائی کا غم ذرا بھی جگا نہ پاسکا اور ان کا رقیق قلب رقت پر آمادہ نہ ہوسکا۔ (صفحہ 87)۔
بڑے بڑے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر منافقین کی طرح جنگِ احزاب میں لرزہ طاری تھا
عبارت: سیدنا عمرؓ کا تلوار نکال لینا اور یہ کہنا کہ محمدﷺ مرے نہیں اور یہ کہ اگر کسی نے ایسا کہا تو گردن مار دوں گا شدتِ غم کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ یہ سب ڈھونگ تھا محض اس لئے کہ جب تک مشیر خاص سیدنا ابوبکرؓ نہ آجائیں پبلک کو یوں ہی الجھاتے رہو۔ (صفحہ 15)۔
دورِ خلافتِ راشدہ خون ریزیوں اور سفاکیوں کا سیاہ دور تھا جس کے سامنے ہلاکو چنگیز کی وارداتیں دم توڑتی نظر آتی ہیں:
عبارت: خلافتِ راشدہ جس کا آج دنیا میں ڈنکا بجایا جا رہا ہے اپنی سفاکی اور ظُلم و جبر کی بھیانک واردات کے اعتبار سے ایک ایسا دور حکومت اور عہد ستمرانی یہ کہ اس پر بھی ایک قرطاسِ ابیض شائع کرنے کی ضرورت بڑی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے یہ خلافت راشدہ جس نے اپنے تین خلیفوں کے زمانہ اقتدار میں انوں پر بھی شب خون مارے اور بیگانوں پر بھی تک و تازکی اس بیان کے لئے ایک بھی ایک طویل دفتر درکار ہے۔ (صفحہ 5 دیباچہ)۔
خلیفہ اول دوم حضور کے نام پر گل چھڑے اڑانے والے اکابر مجرمین:
عبارت: اور خلیفہ اول دوم دونوں نے اس معرکہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور حضورﷺ کے نام پر گل چھڑے اڑانے والے ان دونوں اکابرِ مجرمین کو اسلام کے نامور ہیرو قرار دیتے ہوئے ذرا برابر نہیں شرماتے۔ (صفحہ 22 23)۔
شیعہ لیڈر ضعیم فاطمی کی کتاب پردہ اٹھاتا ہے کی سرخیاں ملاحظہ ہوں
خلیفہ دوم کی شراب نوشی۔ (صفحہ 211)۔
خلافت راشدہ کا اسلام ایک خون آشام مذہب۔ (صفحہ 112)۔
سیدنا ابوہریرہؓ ایک ضمیر فروش راوی۔ (صفحہ 73)۔
10 جنتیوں والی جھوٹی روایت اور اس کا جھوٹا راوی سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ۔ (صفحہ 197)۔
زانی سپہ سالار سیدنا خالد بن ولید ۔ (صفحہ 95)۔
خلیفہ دوم کی تضاد بیانیاں۔ (صفحہ 103)۔
ایک اور ضمیر فروش راوی۔ (صفحہ 87)۔
شانِ صحابہؓ ایک بے معنیٰ لفظ۔ (صفحہ 104)۔
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ ایک بد فطرت انسان۔ (صفحہ 89)۔
امام بخاریؒ ایک بدنہاد محدث۔ (صفحہ 184)۔
مکمل قرآن مجید کسی کے پاس نہیں:
جابر سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا جعفر کے والد (سیدنا باقر) سے سنا کہ وہ فرماتے تھے کسی شخص کو یہ کہنے کی جرأت و طاقت نہیں کہ اس کے پاس مکمل قرآن ہے اس کا ظاہر بھی اور باطن بھی سوائے اوصیاء کے۔ (اصولِ کافی 178 جلد 1 مطبوعہ تہران)۔
اصل قرآن موجودہ قرآن سے دو حصے بڑا تھا
ہشام بن سالم سے روایت ہے کہ سیدنا جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ قرآن جو جبرائیلؑ محمدﷺ پر لے کر نازل ہوئے تھے اس میں (1700) سترہ ہزار آیتیں تھیں۔
(اصولِ کافی صفحہ 463 جلد 2)۔
(موجودہ قرآن مجید میں خود شیعہ مصنفین کے لکھنے کے مطابق کل ساڑھے چھ ہزار آیات بھی نہیں)۔
اس کتاب کی سرخیاں:
بعض صحابہؓ نے خدا اور اس کے رسولﷺ کے حکم سے سرکشی و گستاخی کی۔ (صفحہ 30)۔
صحابہؓ کی شراب نوشی۔ (صفحہ 21)۔
اصحاب کے ہاتھوں اصحاب کی ذلت و رسوائی۔ (صفحہ 34)۔
سیدنا عمرؓ کی بدعات۔ (صفحہ 62)۔
سیدنا عمرؓ سے عورتیں زیادہ فقیہ تھیں۔ (صفحہ 63)۔
محترم قارئین! نقل کفر، کفر نہ باشند، کے تحت یہ چند انتہائی بیہودہ اور غلیظ عبارات آپ نے ملاحظہ فرمائیں، کیا یہ 1400 سال کے کسی مسلم امام یا اہلِ سنت کہ کسی طبقے کی مستند کتاب سے ثابت ہیں؟۔
کیا قرآن و حدیث سے ان انکار کا کوئی ثبوت نظر آتا ہے؟
اس وقت اس کفریہ عقائد کو اسلام ثابت کرنے کے لئے ایرانی ریڈیو ٹیلی ویژن اخبارات دولت کے انبار حکومت کی پوری مشینری برسرِ عمل ہو اور دنیا بھر کی کوئی اسلامی حکومت بحیثیت حکومت اس کے خلاف زبان تک کھولنے سے گریزاں ہو اسلام کی روح سے دوری کے بعد مسلمان سیاستدان بھی مہر بلب ہوں سلمان رشدی کے کفر کے خلاف تو وہ سڑکوں پر نکل آئے لیکن خمینی اور شیعیت کے اسلام کے نعروں سے وہ ایسے متاثر ہوں کہ رشدی کہ کفر سے دس گنا بڑے اور غلیظ دجل کو بھی دجل اور کفر قرار دینے سے انکاری ہوں کیا یہ نظریات یہ عقائد یہ افقار، یہ لٹریچر، یہ تحریریں، علیحدہ مذہب، علیحدہ تمدن، الگ تشخص، اور بالکل جدا انداز فکر کے غماز نہیں ہندوؤں کے کلچر اور مذہب کو علیحدہ قرار دے کر اگر آپ اپنا وطن بھی الگ بناچکے ہیں تو اسلام کے نام پر جس کفر نے انگڑائی لی ہے اس کے بارے میں آپ صرف یہ ماننے کے لئے بھی تیار نہیں کہ جس مذہب کا تصور خمینی نے پیش کیا وہ اسلام اور محمدی شریعت کوسوں دور ہے۔
اندریں حالت یہ بات نہایت قابلِ غور ہے کہ اگر پاکستان کے تناسب آبادی کو تبدیل کر دیا گیا اور یہاں تین فیصد اقلیت 90 فیصد سرکاری ملازمتوں پر براجمان ہوگئی اور اس خوفناک سازشوں کے ذریعے ایران اور شام کی طرح یہاں بھی شیعہ انقلاب برپا کرنے کی راہ ہم وار ہوئی تو اس شرعی اخلاقی، سیاسی اور قومی گناہ میں دیگر طبقوں کی طرح آپ بھی بڑے مجرموں کی صف میں شامل ہوں گے اور اسلامی تاریخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی آنے والی نسلیں آپ کی بے حسی پر ضرور آپ کی مذمت کریں گی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے اس دور میں خالص سُنیت کی بنیاد پر اسلامی تعلیمات کے فروغ میں آپ کو بھی اہم کردار ادا کرنا ہے سپاہ صحابہؓ آپ کے سامنے حقائق واضح کر کے اتمامِ حُجت کرنا چاہتی ہے۔