Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتح کی بشارتیں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہیں

  علی محمد الصلابی

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سعد بن عُمیلہ فزاری کے ذریعہ سے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نام فتح کی خوش خبری کا خط بھیجا۔ خط کا موضوع یہ تھا:

’’حمد وصلاۃ کے بعد! اللہ تعالیٰ نے فارسی فوج پر ہمیں فتح عطا کی ہے۔ ان سے پہلے ان کے ہم مذہبوں کا جو حشر ہو چکا تھا ایک طویل اور دلدوز جنگ کے بعد وہی حشر ان کا بھی کیا ہے۔ انہوں نے ایسی جنگی تیاری کے ساتھ مسلمانوں کا مقابلہ کیا کہ اس سے پہلے مسلمانوں نے کبھی دیکھا بھی نہ تھا۔ لیکن اس نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا، بلکہ اللہ نے اسے ان سے چھین کر مسلمانوں کو دے دیا، نہروں، ٹیلوں، گلیوں اور پہاڑوں کے دامن تک مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا، مسلمانوں میں سے سعید بن عبید القاری، فلاں اور فلاں بہت سارے لوگ جن کا نام مجھے معلوم نہیں، اللہ ہی ان کے بارے میں اچھی طرح جانتا ہے، شہید ہوئے ہیں۔ رات کی تاریکی جب اپنا دامن دراز کرتی تھی تو وہ لوگ شہد کی مکھی کی آواز کی طرح قرآن کی تلاوت کرتے تھے، وہ بڑے ہی باعظمت اور بلند رتبہ انسان تھے، ان میں سے جنہوں نے راہ حق میں اپنی جانیں قربان کی ہیں زندہ بچ جانے والوں پر انہیں صرف اس لیے فضیلت ہے کہ یہ لوگ شہید نہ ہو سکے کہ شہادت ان کے حق میں مقدر نہ تھی۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 408)

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے اس خط سے عبرت و موعظت کی چند باتیں معلوم ہوتی ہیں، مثلاً: سعد رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ کی عظمت و وحدانیت کی لازوال قوت سے آراستہ تھے۔ ذاتی اعتماد اور جسمانی قوت پر نازاں نہ تھے، وہ جانتے تھے کہ مسلمانوں نے اگرچہ پریشان کن جنگ کی مصیبتیں مول لی ہیں اور عظیم ترین قربانیاں دی ہیں، پھر بھی دشمن کی شکست ان کی قوت سے نہیں بلکہ اللہ کی توفیق و مدد سے ہوئی ہے۔

دشمن کی کثیر فوجی تعداد اور زبردست جنگی قوت کو باقی رکھنا یا مٹا دینا انسان کے بس میں نہیں، بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت و اختیار میں ہے۔ اللہ ہی نے دشمن کو اس کی فوجی و جنگی تیاریوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دیا اور اس سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچا دیا۔ انسان تو فقط ایک واسطہ ہوتا ہے جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نفع و نقصان کو بطور عبرت پیش کرتا ہے۔ اللہ ہی وہ ذات ہے جو مصائب کو دور کرتی ہے اور فوائد سے بندوں کو نوازتی ہے۔ یہ ہے حضرت سعدؓ کی توحید فہمی کا مثالی نمونہ جسے انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے مجاہدین کے ساتھ خوب خوب نکھارا۔

 ہم دیکھ رہے ہیں کہ حضرت سعدؓ اپنے خط میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے ساتھ رہنے والے تابعین رحمہم اللہ کے کمال عبادت و شجاعت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ رات میں اللہ کے عبادت گزار ہوتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے ایسے ہی گنگناتے ہیں جیسے کہ شہد کی مکھی، وہ تھکتے نہیں اور نہ اکتاتے ہیں۔ وہ دن میں میدان جنگ کے شہ سوار ہوتے ہیں، پیش قدمی اور ثابت قدمی میں شیر وغیرہ بھی ان کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 10 صفحہ 481)

سیدنا عمرؓ صبح سے لے کر دوپہر تک مدینہ آنے والے ہر راہ گیر سے قادسیہ والوں کی خبر پوچھتے، پھر اپنے گھر واپس آ جاتے۔ ایک دن جب مژدہ فتح سنانے والے سے ملاقات ہوئی تو آپ نے اس سے پوچھا: کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے بتایا کہ قادسیہ سے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: اے اللہ کے بندے! بتاؤ کیا ہوا؟ اس نے کہا: اللہ نے دشمن کو شکست دے دی ہے۔ حضرت عمرؓ اس کے ساتھ جلدی جلدی چل رہے ہیں اور اس سے حالات پوچھ رہے ہیں اور وہ اپنی اونٹنی پر سوار ہے، نہیں جانتا کہ میرے ساتھ چلنے والے ہی امیر المؤمنین عمر بن خطابؓ ہیں۔ جب آپؓ مدینہ میں داخل ہوئے تو لوگوں نے آپ کو امیر المؤمنین کہہ کر سلام کہا۔ مژدہ نواز سہم گیا اور کہنے لگا: امیر المؤمنین! اللہ آپ پر رحم فرمائے، آپ نے کیوں نہ بتایا کہ میں ہی امیر المؤمنین ہوں، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھائی، کوئی بات نہیں ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 408)

سیدنا عمرؓ کی نگاہ میں معرکۂ قادسیہ کی بڑی اہمیت تھی، یہی وجہ تھی کہ آپ ہر روز برسر پیکار مسلمانوں اور جنگ کے بارے میں خبریں معلوم کرتے۔ آپ کسی دوسرے کو بھیج کر بھی وہاں کے حالات معلوم کر سکتے تھے ،لیکن مسلمانوں کے تئیں آپ کو ایسی فکر دامن گیر تھی کہ بذات خود ان کی حالت معلوم کرنے نکلتے۔ یہ تھی اپنی رعایا کے لیے شفقت و رحمت کی انتہا اور ذمہ داری کا شدید ترین احساس۔

سیدنا عمر فاروقؓ غایت درجہ تواضع، آپ مژدہ فتح سنانے والے سوار کے ساتھ پیدل چلتے رہے اور جنگ کی تفصیلی حالت جاننے کے لیے بے تاب رہے، لیکن وہ سوار امیر المؤمنین تک پہنچنے سے پہلے کسی کو تفصیلی حالت نہیں بتانا چاہتا تھا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ جو شخص اس سے مخاطب ہے اور تیز قدموں سے اس کے ساتھ چل رہا ہے وہی امیر المؤمنین ہیں۔ اسے اس بات کا علم اس وقت ہوتا ہے جب مدینہ پہنچتا ہے اور لوگ سیدنا عمرؓ کو امیر المؤمنین کہہ کر السلام علیکم کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

یہ ہیں اسلاف امت کے بلند اخلاق کہ جن پر سارے مسلمان اپنی طویل تاریخ میں پوری دنیا میں اگر فخر کریں تو حق بجانب ہیں اور اگر اس کے ذریعہ سے دین اسلام کی عظمت پر دلیل قائم کریں تو غلط نہ ہو گا کہ اسی نے عدل و انصاف، رحمت و شفقت اور حزم و تواضع میں حضرت عمرؓ جیسے بے مثال انسانوں کو جنم دیا۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 488)