Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

پاکستان کے لئے نئے اسرائیل کے قیام کی سازش

  ابو ریحان فاروقی

پاکستان کے لئے نئے اسرائیل کے قیام کی سازش

1986 سے آغا خانی شیعوں نے گلگت، اسکردو، بلتستان کے شمالی علاقوں میں مشتمل علیحدہ صوبے کے قیام کے لیے بھاگ دوڑ شروع کردی تھی۔ اس علاقے کی پسماندگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آغا خانیوں نے غریب اور ناخواندہ آبادیوں میں اپنے مذہب کا جال پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور افتادہ پہاڑی بستیاں آغا خوانی شکنجوں میں جکڑی ہوئی ہیں سماجی بہبود کے نام پر آغا خانیت کا فروغ ایک گہری سازش تھی ان تمام علاقوں پر فلاحی اداروں کے ڈورے ڈال کر یہاں کے با اثر شیعوں نے علیحدہ صوبے کے قیام کے لئے اندر ہی اندر کوششیں شروع کر دی تھیں اس سلسلے میں اعلیٰ سطح پر شیعہ افسروں کی ایک بڑی تعداد نے علیحدہ صوبے کے قیام کے لئے جنرل ضیاء الحق کے دور ہی میں تیاری مکمل کر لی تھی تاہم شمالی علاقوں کے سنی علماء اور جمعیت علمائے اسلام کے اکابرین نے اس سلسلے میں پہلی آواز بلند کر کے اس سازش کو بے نقاب کردیا اس طرح سردار عبدالقیوم کے اس مطالبے کے بعد کہ یہ علاقہ آزاد کشمیر کا حصہ ہے علیحدہ صوبے کا اعلان ملتوی کر دیا۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس صوبے کے قیام کے بعد اسرائیل کی طرح پاکستان کے پہلو میں ایک شیعہ ریاست چاروں صوبوں کی اکثریتی سُنی آبادی کے لیے کس قدر نقصان دہ ہوسکتی تھی پھر ایسے حالات میں جبکہ آغا خان کے علاوہ ایرانی حکومت اس صوبہ کی تعمیر و ترقی کے لیے اربوں ڈالر فراہمی کا خفیہ وعدہ بھی کرچکی ہو کیا آپ کا پاکستان اس خوفناک سازش کا متحمل ہو سکتا ہے؟

خلیج کی جنگ کے فوراً بعد شیعہ انقلاب کی سازش

آپ جانتے ہیں کہ عراق اور اتحادی ممالک کی جنگ میں ہمارا موقف یہ رہا ہے کہ عراق نے کویت جیسے اسلامی ملک پر قبضہ کر کے غلط قدم اٹھایا تھا۔ اس سلسلے میں سعودی عرب نے کویت کی آزادی کے لئے نمایا کردار ادا کیا تھا خدا خدا کر کے کویت آزاد ہوا جو نہی جنگ بندی ہوئی 4 مارچ 1991ء کو سید باقر الحکیم (شیعہ لیڈر) نے موقع غنیمت جانتے ہوئے شیعہ انقلاب برپا کرنے کا اعلان کر کے بصرہ، نجف اور کربلا پر قبضہ کر لیا وہ ایران جو آج تک عراق کی حمایت کر کے دنیا بھر کے عوام کو یہ تاثر دیتا رہا تھا کہ وہ امریکی جارجیت کی وجہ سے عراق کا حامی ہے خفیہ طور پر اس انقلاب کی پشت پناہی کرتا رہا۔ عراقی فوجیں اگر یہ بغاوت نہ کچلتیں تو آپ دیکھتے کہ سنی ملک عراق بھی ایران کی طرح شیعہ ریاست قرار پاتا۔

شیعہ کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ 1300 سال سے شیعہ نے ہر دور میں سنی مملکتوں کو زیر و زبر کر کے غداری اور سازشوں کے ذریعے اپنے انقلاب کی راہیں ہموار کیں۔ ایران میں 95 سال پہلے 40 ہزار علماء کو قتل کر کے انقلاب برپا کیا گیا شام بھی شیعہ ستم کاری کی بھینٹ چڑھا۔

بے نظیر حکومت میں ایرانی افسروں کا ایک خفیہ اجلاس راولپنڈی میں ہوا جس میں پاکستان میں 13 عدد خانہ فرہنگ ہائے ایران کے ڈائریکٹرز شریک ہوئے اس میں یہی مصالحہ زیر بحث آیا کہ پاکستان میں شیعہ انقلاب کے راستہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پنجاب کی سُنی حکومت ہے اگر یہ حکومت ختم ہو جائے تو بے نظیر پورے ملک میں شیعہ انقلاب کا راستہ ہموار کر سکتی ہے یہ وہ رپورٹ ہے جو سپیشل برانچ کی فائلوں میں آج بھی موجود ہے۔