جنگ قادسیہ کے دروس مواعظ اور فوائد
علی محمد الصلابیمعرکۂ قادسیہ کی تاریخ اور مستقبل کی فتوحات میں اس کی تاثیر
معرکۂ قادسیہ کی تاریخ کی تعیین میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔ میرے خیال میں اس سلسلے میں ماہ شعبان 15 ہجری کی تاریخ زیادہ صحیح ہے۔
(القادسیہ: صفحہ 266۔ التاریخ الإسلامي: جلد 10 صفحہ 488)
دنیا کی تاریخ میں لڑی جانے والی خون ریز جنگوں کی فہرست میں معرکۂ قادسیہ سرفہرست ہے۔ یہ جنگ سچے مومنوں کو مختلف اعتبار سے ربانی تمکین و حکومت عطا کرنے کی ایک مظہر تھی۔ قادسیہ فتح کیا ہوا کہ عراق اور اس کے بعد فارس میں فتوحات کے دروازے کھل گئے، یہیں سے ایک طرف مسلمانوں کے غلبہ و مدد کا سلسلہ دراز ہوا اور دوسری طرف جنگی و سیاسی ہر دو اعتبار سے ساسانی اقتدار اور مذہبی اعتبار سے مجوسی حکومت کے زوال کا آغاز ہوا۔ دین اسلام بلاد فارس اور اس کے اردگرد میں تیزی سے پھیلنے لگا، جنگ قادسیہ میں مسلمانوں نے مجوسی غرور و اقتدار کی کمر اس طرح توڑ دی کہ وہ دوبارہ اٹھنے کے قابل نہ رہی۔ یہی وجہ ہے کہ معرکۂ قادسیہ کو انسانی تاریخ میں لڑی جانے والی خون ریز و فیصلہ کن جنگوں میں سرفہرست رکھا گیا۔
(الطریق إلی المدائن صفحہ 473، 374)