Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتح قادسیہ کے بعد فاروقی خطبہ

  علی محمد الصلابی

جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو فتح قادسیہ کی خبر ملی تو آپؓ نے لوگوں کو اکٹھا کیا، ان کے سامنے سورہ فتح کی تلاوت کی اور فرمایا: ’’میں چاہتا ہوں کہ جب تک ہمیں خوشحالی میسر ہے سب کی ضرورتیں پوری کر دوں۔ اگر ہم اس سے عاجز رہے تو اسباب زندگی مہیا کرنے میں ہم ایک دوسرے کی مدد کریں، تاکہ سب لوگ کفاف کی زندگی گذاریں۔ میری دلی تمنا ہے کہ کاش تمہارے لیے جو کچھ میرے دل میں ہے تم لوگ اسے جان سکتے، میں تمہیں کوئی بات عملاً کر کے دکھانا چاہتا ہوں میں کوئی بادشاہ نہیں کہ تمہیں غلام بناؤں۔ میں اللہ کا ایک ادنیٰ سا بندہ ہوں، مجھے ایک امانت سونپی گئی ہے اگر میں نے اس میں پاک دامنی اپنائی یعنی رعایا کے مال میں خیانت نہ کی اور اسے تم کو پورا پورا دے دیا اور تمہیں شکم سیر و آسودہ کر لے گیا تو میری سعادت مندی ہو گی اور اگر اس امانت کے بہانے تم کو اپنے پیچھے دوڑایا اور اپنے گھر کا چکر لگوایا تو یہ میری بدبختی ہو گی۔ ایسی حالت میں میرے لیے راحت کم اور رنج و الم زیادہ ہو گا۔ اس وقت میں چاہوں گا کہ گم نام رہوں، کوئی میرا ذکر کرے نہ کوئی طلب کہ میں مطلب برآری کے لیے خوش کیا جاؤں۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 409)