مسلمانوں کے نزدیک وفاداری اور عدل پروری میں کوئی رخصت نہیں
علی محمد الصلابیحضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نام ایک دوسرا خط لکھا، جس میں عراق کے ان عرب ذمیوں کے بارے میں کارروائی کی تفصیل جاننا چاہی، جنہوں نے مسلمانوں کی کمزوری اور ان کے مشکل حالات میں اپنا عہد و پیمان توڑ دیا تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خط پڑھنے کے بعد لوگوں کو جمع کیا اور کہا: ’’جو شخص نفس پرست اور گناہ گار ہو گا وہ اپنے حق سے محروم ہو جائے گا اور خود نقصان اٹھائے گا اور جو شخص سنت کی پیروی اور شریعت کی پابندی کرے گا اور نیکو کاروں کے لیے اللہ کے پاس تیار کردہ انعاماتِ الہٰی کا طالب بن کر صراط مستقیم پر چلے گا وہ کامیاب ہو گا اور اپنا پورا پورا حق پائے گا، اس لیے کہ اللہ کا ارشاد ہے:
وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا وَ لَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا ۞ (سورۃ الكهف: آیت 49)
ترجمہ: ’’اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم و ستم نہ کرے گا۔‘‘
فاتح دوراں اور قادسیہ کے مجاہدین کامیاب ہو چکے ہیں، ان کے پاس زمیندار قسم کے ذمی لوگ آئے ہیں جو اپنے عہد و پیمان پر قائم رہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں تمہاری کیا آراء ہیں جو کہتے ہیں کہ فارسی فوج نے ہمیں عہد توڑنے پر مجبور کیا تھا اور مسلمانوں کے خلاف آمادہ جنگ کیا تھا اور کچھ ایسے ہیں جو فارسی فوج کو متہم تو نہیں کرتے، لیکن اپنے عہد پر باقی نہ رہے اور عراق سے نکل بھاگے اور کچھ ایسے ہیں جو اپنے عہد پر قائم رہے، عراق چھوڑ کر بھاگے بھی نہیں اور فارسیوں کو متہم بھی نہیں کرتے۔ جب کہ کچھ ایسے بھی ہیں جو راضی برضا جزیہ دیتے رہے اور اب بھی دینے کو تیار ہیں۔
سب نے باتفاق رائے یہ مشورہ دیا کہ جو ذمی لوگ اپنے عہد پر قائم رہے اور مسلمانوں کے خلاف آمادہ جنگ نہ ہوئے اور خیر ہی میں آگے بڑھے، ان کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیا جائے اور جو یہ کہتا ہو کہ فارسی فوج نے عہد توڑنے پر مجھے مجبور کیا تھا، پھر اس کی صداقت کے ثبوت فراہم ہو جائیں تو انہیں بھی ذمیوں کے حکم میں شمار کیا جائے اور اگر ان کے دعویٰ کی تصدیق نہ ہو سکے تو ان کا پہلا معاہدہ باطل سمجھا جائے اور وہ دوبارہ صلح کریں اور جو لوگ عراق چھوڑ کر دشمن سے جا ملے تھے اگر وہ دوبارہ لوٹنا چاہتے ہیں تو ان میں جسے مناسب سمجھیں تحقیق و تفتیش کے بعد ذمیوں کی فہرست میں شمار کر لیں اور اگر مناسب سمجھیں تو دوبارہ انہیں ان کی زمینیں نہ دیں اور عراق سے نکال دیں۔ رہے وہ لوگ جو اپنے عہد پر قائم رہے، راضی برضا جزیہ دیتے رہے اور آمادۂ جنگ نہ ہوئے ان کے بارے میں اختیار ہے اور ان کے بارے میں بھی اختیار ہے جو اپنے عہد پر قائم رہے اور جزیہ دیا یا عراق سے نکل بھاگے تھے، ایسے ہی ذمی کسانوں کے بارے میں تمہیں اختیار ہے جو مناسب سمجھو فیصلہ کر لو۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 410)