Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امیرِ عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ حالات و خدمات و شہادت

  حضرت مولانا علامہ حق نواز جھنگوی شہیدؒ

امیرِ عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ

حالات و خدمات و شہادت

پیدائش: مولانا 1952ء میں کھچی والا موضع چیلہ تھانہ مسن تحصیل وضلع جھنگ میں پیدا ہوئے۔

خاندان: آپ کا تعلق سپراجٹ قوم سے ہے آپ کے والد کا نام ولی محمد تھا آپ کے دو بھائی اور سات بہنیں ہیں۔

تعلیم و اساتذہ: آپ نے پرائمری تعلیم کے بعد قرآن مجید اپنے ماموں حافظ جان محمد سے دو سال میں کیا بعد ازاں بقیہ تعلیم مشہور معروف دینی درسگاہ دارالعلوم کبیر والا سے حاصل کی اور 1971ء میں ادارہ خیر المدارس سے دورہ حدیث کی تکمیل کی۔

فن ومناظرہ: دورانِ تعلیم آپ نے علامہ دوست محمد قریشیؒ اور مولانا عبدالستار تونسویؒ سے علم مناظرہ حاصل کیا۔

عملی زندگی: تعلیم سے فراغت کے بعد آپ ملک میں نفاذ اسلام کے لیے جمیعتہ العلماء اسلام میں شامل ہوئے اور بعد میں پنجاب کے نائب امیر بنے 1973ء میں جامعہ مسجد پپلیاں والی جھنگ صدر میں بطورِ خطیب تشریف لائے یہ مسجد اب جامعہ مسجد حق نواز شہیدؒ کے نام سے مشہور ہے۔

سپاہِ صحابہؓ کی بنیاد: پاکستان میں شیعوں کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہ گستاخیوں پر آپ نے اس فتنے کے خلاف 20 ذی الحجہ 1405ھ بمطابق 6 ستمبر 1985ء کو اپنی مسجد میں انجمن سپاہِ صحابہؓ کی بنیاد رکھی بعد ازاں یہ جماعت ملک کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم بن گئی۔

امیر و عزیمت: آپ کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی آپ کے خلاف مقدمات کا جال بچھایا گیا گرفتاریاں نظربندیاں اور زباں بندیاں ایک معمول بن گیا آپ پر ظلم و تشدد کا ہر حربہ آزمایا گیا لیکن آپ کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی چنانچہ ایک اجلاس میں آپ کو مشترکہ طور پر امیرِ عزیمت کا لقب دیا گیا۔

قاتلانے حملے اور شہادت: آپ کی آواز شیعت کے خلاف عالم اسلام کی آواز بن چکی تھی اور ذریتِ ابنِ سبا آپ کی آواز کو خمینی انقلاب کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھنے لگے اور آپ پر قاتلانہ حملے ہوئے اور بلآخر مؤرخہ 22 فروری 1990 رات سوا آٹھ بجے اپنے ہی مکان کی دہلیز پر عظمتِ صحابہؓ کے زمزمے سنانے والی اس زبان کو ہمیشہ کے لیے خاموش کروا دیا گیا انا للہ وانا الیہ راجعون۔

آپ نے کل عمر 38 سال پائی اور آپ جس دن شہید کیا گیا وہ دن جمعرات کا تھا اور جمعۃ المبارک کے دن عصر کے وقت آپ کی نماز جنازہ ادا حافظ الحدیث مولانا عبداللہ درخواستیؒ کی اقتدار میں ادا کی گئی اور شب معراج کی رات آپ کی تدفین ہوئی حضرت حافظ الحدیث نے جنازے کے قبل آنسوؤں کی برسات میں فرمایا کہ آج میں آسمان سے فرشتوں کو اترتے دیکھ رہا ہوں۔

شہید ناموسِ صحابہ: حضرت جھنگوی شہیدؒ کی زندگی میں ہی انہیں امیرِ عزیمت کا لقب ملا اور شہادت کے بعد انہیں اس سے بھی خوبصورت خطاب شہید ناموسِ صحابہؓ کا اضافہ ہوا۔ 

شعلہ مستعجلہ: داعی قرآن شہید اسلام حضرت مولانا اسلم شیخوپوریؒ اپنے ایک مضمون میں حضرت جھنگوی شہیدؒ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس کام کو کرنے کے لیے تحریک کو کئی کئی سال لگ جاتی ہے لیکن وہ کام اس شعلہ مستعجلہ نے اتنی کم عمر میں کر دکھایا۔

خدا رحمت کندایں عاشقان پاک طینت را۔

خطبہ مسنون کے بعد:

معزز سامعین (قارئین)۔ 

آپ حضرات کو بخوبی معلوم ہے کہ سپاہِ صحابہؓ بہت قلیل عرصہ میں طویل سفر طےکر چکی ہے دو سال کا عرصہ کسی بھی جماعت کے لئے اتنی بڑی مدت نہیں ہے

کہ جس مدت میں وہ پورے ملک میں پھیل جائے آپ کسی بھی جماعت کی تاریخ پڑھ لیں جہاں تک میری معلومات ہے تو اتنی کم مدت میں کوئی جماعت ملکی لیول وسطح پر نہیں آئی اگر آئی ہے تو شہری حد تک آئی دیہاتی تک نہیں پہنچ سکی ایک طویل عرصہ محنت کرنے کے بعد جماعتیں ملکی سطح پر آتی ہیں اور خصوصی حیثیت ان کی یہ بھی ہوتی ہے کہ ان جماعتوں کو بڑھانے والے اور ان جماعتوں کی بنیاد رکھنے والے بہت بڑی شخصیت ہوتی ہیں یہ ایک تاریخ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی ہے جبکہ سپاہِ صحابہؓ کی پوزیشن اس کے برعکس ہے اس کی بنیاد میں نے ڈالی ہے اور میری کوئی حیثیت نہیں میں آپ کی طرح ایک مذہبی کارکن ہوں دل میں ایک خواہش تھی تڑپ تھی۔ 

 شیعت پر میرا مطالعہ:

ایک عرصہ سے میں شیعہ جارحیت کے خلاف کام کرتا چلا آیا ہوں اور وہ کام بھی طالب علمی کے زمانے سے بلکہ یوں سمجھے کہ طالب علمی کے زمانے سے بھی پہلے میں نے ابھی دینی تعلیم کو پڑھنا شروع بھی نہیں کیا تھا میرے والد صاحب ایک کسان تھے کچھ تھوڑا سا ہمارا اپنا رقبہ تھا اس کے کاروبار کے لیے ہمارے اپنے گھر کے آدمی تھوڑے تھے اس لیے والد بزرگوار نے ایک ملازم رکھ لیا جو عقیدے کے لحاظ سے شیعہ تھا ایک دن شام کو وہ ملازم اور میں اپنے جانوروں کو چارہ چروانے کے لیے کھیتوں میں گے تو اس خبیث نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو (نعوذ باللہ) گالی دی میں اتنا تو جانتا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ صحابی رسولﷺ‎ ہیں تو میں نے اس سے کہا کہ میں اتنا مولوی ضرور بنوں گا کہ تمہارے شیعوں کے کفر کا اعلان کر سکو کہ تم کافر ہو اسی دوران میں نے قرآن مجید پڑھنے لگ گیا قرآن مجید پڑھنے کے بعد میرے دل میں یہ خواہش آئی کی کتابیں بھی پڑھوں میرے گھر کا ماحول قطعاََ یہ نہیں تھا کہ وہ دین پڑھیں پوری برادری میں کوئی ایسا نہیں تھا جس نے دینی تعلیم حاصل کی ہو بلکہ ظلم یہ تھا کہ میرے برادری کے کچھ لوگ شیعہ ہیں بالآخر میں دینی تعلیم حاصل کرنے لگا دورانِ تعلیم دارالعلوم عیدگاہ کبیر والا کے کُتب خانے میں کچھ رسالے موجود تھے انجم یہ وہ رسالہ ہے جسے امام اہلِ سنت علامہ عبدالشکور لکھنویؒ ہر مہینے نکالا کرتے تھے مجھے اسباق سے کچھ فرصت ملتی تو میں دارالعلوم کے کُتب خانے سے اور رسالہ نکلوا کر ان کو پڑھتا رہتا اس سے گویا شیعہ جارحیت کے خلاف تربیت ہونے لگی اور میں اسی طالب علمی کے زمانے سے ہی ان کو کافر کہنے لگا میرے جماعت کے وہ ساتھی گواہ ہیں میں اس وقت بھی کہتا تھا شیعہ کائنات کا بدترین کافر ہے۔

شیعہ کو علی الاطلاق کافر کہنے کی وجہ:

بہرحال یہ ایک ذہن بنتا رہا تعلیم سے فراغت کے بعد کیونکہ میرا ضلع جھنگ تھا اور اس میں شیعہ جارحیت زور پر تھی اور جن کو آج بھی ثانی لکھنؤ شمار کیا جاتا ہے (واضح رہے لکھنؤ شیعہ جارحیت کا گڑھ ہے) اسی دوران مجھے شیعت پر مطالعہ وسیع کرنے کا موقع ملا جہاں شیعہ کُتب کا مطالعہ کیا وہاں میری برادری کے جو لوگ شیعہ تھے ان کو مسلمان بنانے کی کوشش کی کیونکہ میری برادری کے سب لوگ ان پڑھ تھے اس لیے میں نے سوچا کہ ان کو جلد ہی مسلمان کروں گا لیکن آپ یقین کریں جس وجہ سے میں شیعہ کو علی الاطلاق کافر کہنے پر مجبور ہوگیا وہ یہ ہے کہ ایک ان پڑھ (شیعہ) آدمی بھی وہی تمام نظریات رکھتا ہے جو ایک شیعہ مجتہد و عالم یا رہنما کے ہوتے ہیں مثلاََ صاف لفظوں میں میری برادری کے ایک فرد جو اردو کا ایک لفظ بھی نہیں پڑھا ہوا اس نے صاف صاف لفظوں میں مجھے کہہ دیا کہ مولوی صاحب تم یہ کیا بات کرتے ہو یہ قرآن تو محض لکیریں ہیں جو سیدنا عثمان غنیؓ نے کھینچی ہیں یہ اصل قرآن نہیں (نعوذ باللہ) یہ ہے وہ حقیقت جو سارے حضرات پر اس لیے نہیں کھلتی کہ ان کا اتنا واسطہ شیعت سے نہیں پڑا جتنا مجھے پڑا ہے برادری کے لحاظ سے جھنگ کے لحاظ سے پھر شروع سے شیعہ لٹریچر پڑھنے کے لحاظ سے تو اس کی یہ بات سن کر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ایک ان پڑھ آدمی عام شیعہ وہ بھی میرے ساتھ یہ گفتگو قرآن کے متعلق کر رہا ہے تو ان کے ہر آدمی کا قطعاََ یہ عقیدہ رکھتا ہے چاہے وہ اس کا اظہار کسی مجبوری کے تحت نہ کرے یہ سب کچھ جب میرے سامنے آیا تو پھر ان کو میں نے کافر کہنا شروع کر دیا ایک وقت تھا میں شیعہ کو خطبہ جمعہ میں یا کسی جلسے کے دوران تقریر کافر کہہ دیتا اس کو کوئی نعرے کی شکل نہیں ملی جس کی وجہ سے عام لوگوں کو معلوم نہیں ہوا میں ان کو کب سے کافر کہہ رہا ہوں

 جماعتی طور پر کام کی ابتداء:

انہی دنوں ایک رات میں کسی جلسے سے واپسی گھر آرہا تھا کہ راستے میں چوک پر ایک نوجوان مجھے ملا میں نے اس سے کہا کہ کتنی بہترین جوانی ہے یونہی چوک پر کھڑے ضائع کر رہے ہو اگر اس جوانی کو کسی اچھے کام پر لگا دیتے تو کیا اچھا تھا اس نے کہا کس کام پر لگاؤں؟ میں نے کہا دیکھو شیعہ کتنی جارحیت پر اترے ہوئے ہیں انہوں نے اپنی تنظیمیں بنالی ہیں خمینی کے انقلاب کے لیے راستے ہموار کر رہے ہیں ہم لوگ کم از کم اکٹھے ہو جائیں کچھ کام ہمیں بھی کرنا چاہیے خیر اس نے میری بات سن لی اور میں گھر چلا آیا وہ نوجوان اب ہماری جماعت سپاہِ صحابہؓ کا آفس سیکرٹری ہے اشفاق نام ہے اس کا اللہ اس کی عمر دراز کرے تو اس نے راتوں رات اپنے کچھ ساتھی کو اکٹھا کر کے دیوار پر لکھ دیا 

سیدنا صدیقؓ کا منکر کافر سیدنا عمرؓ کا منکر کافر

سیدنا عثمانؓ کا منکر کافر سیدنا علیؓ کا منکر کافر 

قرآن کا منکر کافر سیدہ امی عائشہؓ کا منکر کافر

اور ان نعروں کے نیچے وہی سنی ایکشن کمیٹی لکھتے گئے یہ باتیں انہوں نے پہلے سے میری جمعہ کی تقریر میں سنی ہوئی تھی صبح لوگوں نے جب دیواروں پر دیکھا تو حیران ہوگئے کہ راتوں رات یہ کمیٹی کہاں سے نکل آئی میں بھی حیران رہ گیا اشفاق جب مجھے ملا تو مجھے کہنے لگا جی دیکھا آپ نے دیواروں پر کیا لکھا ہوا ہے میں نے کہا ہاں میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ یہ کام بڑا اچھا ہوا ہے کس نے کیا ہے پھر میں نے کہا بس یہ کام اب ہونا چاہیے۔

انجمن سپاہِ صحابہؓ کی بنیاد اور اس کی خصوصیت:

اس دن ہم نے انجمن سپاہِ صحابہؓ کی بنیاد ڈالی پہلے پہل محلے کی محدود تھی پھر شہر میں کام کرنا شروع کر دیا جلسوں میں ذہن بنانا شروع کیا نوجوانوں پر محنت شروع کی تو دو سال کے قلیل عرصے میں یہ جماعت اتنی پھیل گئی کہ میں آج بلامبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ ملک کا کوئی حصہ نہیں جہاں سپاہِ صحابہؓ کی کوئی نہ کوئی شاخ نہ ہو چھوٹی یا بڑی ضرور ہوگی اگر کوئی جگہ ایسی ہو بھی جہاں کوئی یونٹ نہیں ہے تو سپاہِ صحابہؓ کے ذہن کا ایک نہ ایک آدمی ضرور مل جائے گا جو سپاہِ صحابہؓ کا بیچ لگاتا ہو یا جذبات رکھتا ہو۔ 

قلندر ہرچہ گوید دیدہ گوید:

دو سال کا قلیل عرصہ کسی بھی جماعت کے لیے بہت ہی تھوڑا وقت ہے اور پھر میں نے کہا اس جماعت کی بنیاد میں نے خود رکھی ہے میری نہ تو کوئی پیری اور بزرگی اور نہ کوئی استادی ہے اور نہ کسی بھی قسم کی کوئی اہمیت ہے میں آپ کی طرح ایک ادنیٰ سا رضا کار ہو ایک کارکن ہوں دل میں تڑپ تھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ محبت تھی اس لیے ہر خطرہ مول لے کر اس میں کام کر رہا ہوں اس مقدس کام پر اپنا آخری خون کا قطرہ بہا دینا اپنے لیے سعادت سمجھتا ہوں۔

جماعت پر مشکلات:

ایک تو اس جماعت کا اس قلیل مدت میں اتنا زیادہ پھیل جانا اور اس سے بڑھ کر اس قلیل عرصے میں جماعتی کارکنوں نے جو قربانیاں دیں اور پھر بھی اس جماعت سے وابستہ رہے تو اس کو میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کرامت کا نام دے سکتا ہوں اور کچھ نہیں کہہ سکتا تین کارکن ہمارے شہید ہوئے تقریباً 500 کے قریب ہمارے کارکن گرفتار ہوئے انہی تھانوں میں الٹا لٹکا کر ننگا کر کے مارا گیا تشدد کیا گیا جیلوں میں رکھا گیا زخمی ہوئے کئی مرتبہ شیعوں کے مقابلے میں مسلح ہو کر آئے دو سال کے قلیل عرصے میں اتنی زیادہ مشکلات میں گزارنا اور پھر یہ کہ جماعت نے اپنے کارکن کو اتنا تحفظ مہیا کیا الحمدللہ لیہ کا واقعہ آپ نے سنا ہوگا وہاں جتنے بھی کارکن ہمارے جیلوں میں تھے تقریباً اڑھائی سو کے قریب اس میں ہماری جماعت نے کیس لڑا 60 رٹس کی خود حکومت کے خلاف ہائیکورٹ میں اور ان تمام کے اخراجات برداشت کیے ڈپٹی کمیشز پر ہم نے قتل کا پرچہ دائر کیا ایس پی کے خلاف اس سے وہ لوگ ہمارے آگے جھکے اور ان کو ہمارے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا اور انہوں نے ہمارے کارکن جن پر 302 کے جھوٹے مقدمات قائم کیے تھے یعنی آدمی بھی ہمارے قتل ہوئے اور مقدمے بھی ہم پر اس کے بعد ہم نے ہائیکورٹ پر اپیل کی اس پر وہ لوگ ہمارے سامنے جھکے اور انہوں نے مقدمات واپس لیے اور جو آدمی شہید ہوئے ان کا معاوضہ بھی ادا کیا پھر جھنگ میں جھگڑا ہوا اس میں وہی حرکات اس میں بھی ہمارے 300 آدمی گرفتار ہوئے اس پر بھی ہم نے عدالتی لڑائی لڑی مظاہروں جلوسوں اور احتجاج کرتے ہوئے جماعت کو اس سٹیج پر لے آئے کہ اب ہمارے صرف دو آدمی اندر ہیں اور وہ بھی بہت جلد ان شاءاللہ رہا ہو جائیں گے تو اس مدت میں جماعت کا اس قدر پھیل جانا اس کی اتنی لڑائی لڑنا اور اخراجات کا برداشت کرنا اور ظلم کا برداشت کرنا پھر کارکنوں کا نہ ٹوٹنا جماعت سے وابستہ ہونا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اصحابِ رسولﷺ‎ کی کرامت ہی ہے وگرنہ کوئی آدمی آج کے اس دور میں جماعت کے لیے اتنی مار مصیبتیں برداشت نہیں کرسکتا اور سپاہِ صحابہؓ کے جذبات و احساسات گویا کہ دن رات بڑھتے جا رہے ہیں یہ تو ہے کیفیت اس جماعت کی مختصر مدت میں پھیلنے کی جس سے آپ کو یہ اندازہ ہوگا الحمدللہ سپاہِ صحابہؓ باقاعدہ ایک جماعت ہے اور خلوص و دیانت داری کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ 

کفر کا فتویٰ:

دوسری بات شیعہ کے کفر کی ہے تو میں بڑی مسرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ اب دارالعلوم دیوبند نے شیعہ کے کفر کا الاعلان فتویٰ دیا اس کے بعد تو دیوبندی علماء کے لیے کسی قسم کی حُجت باقی نہیں رہتی اور پھر لطف کی بات یہ ہے کہ شیخ العرب والعجم علامہ حسین احمد مدنیؒ نے کے فرزند ارجمند سید اسد مدنیؒ نے جو میرے پیر و مرشد ہیں میں ان کے ہاتھ پر بیعت ہوں انہوں نے بھی اس فتویٰ پر دستخط کیے اور یہ الفاظ لکھ کر کہے کہ علمائے فقہاء نے شیعہ کے کفر کا فتویٰ دیا ہے میں اگرچہ فتویٰ نہیں دیا کرتا لیکن میں اس میں بھی اس فتویٰ کی تائید کر کے اس جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہوں تو جہاں تک شیعہ کے کفر کا مسئلہ ہے تو علماء اور فقہاء نے شیعہ کی کفر پر مستقل دستخط کر دیے ہیں اور یہ بات کہ شیعہ کافر کیوں ہیں ان کے کفریہ عقائد کیا ہیں تو اس کے دلیل پیش کرنے کے لیے کافی وقت کی ضرورت ہے اور لمبی چوری گفتگو ہے مختصراً کچھ کہنا چاہتا ہوں۔

شیعوں کا عقیدہ قرآن کے بارے میں:

قرآن مجید کے متعلق شیعہ کا اجتماعی اور اجتہادی یہی عقیدہ ہے کہ قرآن مجید اصلی نہیں اسمیں کفر کے ستون کھڑے کر دیے گئے صرف چار آدمی شیعوں کی تیرہ سو سالہ زندگی میں ایسے ہیں جنہوں نے اس قرآن کی تائید کی ہے سیدنا عثمان غنیؓ کے دور میں شیعہ فرقہ پیدا ہوا اور عبداللہ بن سبا یہودیوں کے اشارے پر شیعہ فرقے کی بنیاد ڈالی گئی اور یوں سیدنا علیؓ کی خلافت کا مسئلہ کھڑا کر دیا اور دوسرے مسائل وہاں سے پیدا ہوئے آج تقریباً تیرہ سو سال اس کی تاریخ کے بنتے ہیں پھر اس دوران انہوں نے کن کن اسلامی سلطنتوں کے تخت الٹے کہاں کہاں سازشیں کی ہلاکوں اور چنگیز کو دعوت دینے والے یہ لوگ ہیں ہندوستان میں انگریز کی حمایت کا انہوں نے کھل کر اعلان کیا کہ ہم انگریزوں کے ساتھ ہیں یہ بھی ایک لمبی داستان ہے بغداد کی تباہی میں ابنِ علقمی کا ہاتھ ہے اور جس نے بغداد میں سنیوں کے دس لاکھ آدمی ذبح کروائے یہ ان کی خونی داستان ہے کہ شیعوں نے کہاں کہاں تباہی مچائی کن کن سلطنتوں کے تختے الٹے اور کہاں کہاں سازشیں کیں تاہم بنیادی طور پر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن مجید کے متعلق شیعہ کا اجتماعی عقیدہ ہے کہ یہ قرآن اصلی قرآن نہیں پورے تیرہ سالہ دور میں ان کے چار آدمی نکلے ہیں جنہوں نے اس قرآن کو اصلی قرآن کہا ہے لیکن شیعہ کی کتاب "انوار نعمانیہ" میں مصنف قرآن کے مسئلے پر بحث کرتے کرتے اس سوال کو اٹھاتا ہے کہ شیعہ کے ہاں یہ متفقہ مسئلہ تو نہ رہا کہ یہ قرآن اصلی قرآن نہیں کیونکہ شیعہ کے چار بزرگ اس قرآن کی تائید کر چکے ہیں جبکہ باقی شیعہ اس قرآن کو اصلی قرآن نہیں سمجھتے تو اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وہ لکھتا ہے کہ اصل میں وہ چار بزرگ بھی ہمارے ساتھ متفق ہیں البتہ انہوں نے جب حالات سے مجبور ہو کر مصلحتاً تقیہ کر کےکہہ دیا ہے کہ قرآن اصلی قرآن ہے حقیقت میں ان کا عقیدہ اس قرآن کی اصل ہونے کا نہیں پھر وہ اس کی دلیل دیتا ہے کہ ان کا عقیدہ اس قرآن کے اصلی ہونے کا اس لیے نہیں کہ ان کے اپنے ہاتھوں سے لکھی ہوئی یہ کتاب محفوظ ہےکہ جن پر لکھا ہوا ہے کہ یہ قرآن اصلی قرآن نہیں اور یہ کتاب اصلی کتاب نہیں ہے کہ جس میں اس قرآن کی تائید کی گئی ہے اس کو تبدیل کیا گیا ہے اور وہ بھی ہمارے ساتھ اس مسئلے پر متفق تھے کہ یہ قرآن اصلی قرآن نہیں۔

شیعہ جارحیت:

یہ ہیں ان کے عربی کُتب کی کچھ تاریخ اور اب تو جارحیت یہاں تک آگئی کہ شیعوں نے اردو زبان میں لٹریچر شائع کرنا شروع کر دیا ہے کراچی سے ایک کتاب شائع ہوئی ایک ہزار تمہاری دس ہماری حضرت علامہ دوست محمد قریشیؒ نے ایک ہزار سوال شیعہ سے کیا تھا ان کی زندگی میں شیعہ کو جواب دینے کی جرات نہیں ہوئی ان کی وفات کے بعد مصنف نے جواب دیا اور قرآن کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ سنیوں جس قرآن کو تم مانتے ہو اس میں پاکستان کا ذکر نہیں اور جس قرآن کو ہم مانتے ہیں اس میں پاکستان کا ذکر ہے یہ کتاب کراچی سے شائع ہوئی اور دھڑا دھڑ بازاروں میں فروخت ہو رہی ہے اس پر نہ کوئی پابندی لگائی گئی اور نہ ضبط کیا گیا الٹا اگر ہم نے اس کفر کے خلاف احتجاج کیا تو ہم کو 302 کے جھوٹے مقدمات میں ملوث کر کے بالکل ختم کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہماری داخلہ بندیاں کی گئیں۔

شیعوں کو چیلنج:

اس طرح اگر میں کفریات پیش کرتا جاؤں تو وقت لگ جائے گا میں نے پورا اطمینان حاصل کرنے کے بعد اس کفر کے خلاف زبان اٹھائی اور میں نے شیعہ کو کافر کہا اور مجھے کوئی جھجھک کوئی خوف اور کوئی ڈر نہیں میں نے تو اپنی قبر اور آخرت کو سنوارنے کے لیے اسی میں خیر سمجھی ہے اور میں نے امتِ مسلمہ کو اس سے آگاہ کرنا شروع کر دیا ہے اور اللہ کا فضل ہے کہ میں نے ہر موڑ ہر چوک ہر بازار ہر جلسے میں شیعوں کو چیلنج کیا ہے میرا یہ لفظ (شیعہ کافر) ہے تمہیں چھپتا ہے تو تم میرے خلاف ہائی کورٹ میں پرچہ درج کرواؤ اور مجھے ملزم کی حیثیت سے طلب کرو اگر میں تمہارا کفر عدالت میں ثابت نہ کر سکوں تو میں عدالت عالیہ کو لکھ کردوں گا کہ مجھے سرعام گولی مار دی جائے لیکن شیعہ کو جرأت نہیں ہوئی مجھے وہ اس عنوان پر عدالتی چیلنج کریں لیکن وہ اس عنوان پر مجھے عدالتی چیلنج نہیں کر سکتا اور آپ کی خوشی کے لیے عرض ہے کہ کراچی میں مجھے وکیل ملا جس کی ایک لائبریری ہے اس لائبریری میں ہر قسم کی شیعہ کتابیں موجود ہیں تین منزلہ لائبریری ہے شاید دنیا کی کوئی ایسی کتاب شیعہ کی نہ ہو جو اس لائبریری میں نہ ہو وہ ہائیکورٹ کا وکیل ہے اس نے کہا کہ میں یہ کیس لڑتا ہوں اور پورے تعاون کا اظہار کیا۔

یہ نعرہ سپاہِ صحابہؓ کی بنیاد ہے:

ہم عوام کے سامنے ایک ثبوت لانا چاہتے ہیں کہ جس کو عوام بخوشی قبول کرلے ہم کوئی پاگل تو نہیں کہ کافر کافر شیعہ کافر کہنے لگے ہمارے پاس اس نعرے کے دلائل موجود ہیں اور یہ بھی واضح کردوں کہ یہ نعرہ کافر کافر شیعہ کافر سپاہِ صحابہؓ کی بنیاد ہے اور اس کو سپاہِ صحابہؓ کا منشور تصور کرلیں یہ الگ بات ہے کہ آج ہم کس انداز میں کام کر رہے ہیں کل کس انداز میں کریں گے بہرحال ہمارا مؤقف یہی ہے کہ شیعہ کائنات کا بدترین کافر ہے۔

ہمارا حکومت سے مطالبہ:

اب ہمارا حکومت سے بھی یہی مطالبہ ہے کہ اسمبلی میں یا عدالت میں شیعہ کے کفر کا اعلان کیا جائے اور اگر یہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو ہمارے ساتھ بات کریں اور اگر غیر مسلم ہیں تو مسلمان کی طرح حقوق کیوں حاصل کر رہے ہیں مسلمان کی طرح ماحول اور معاشرے میں گھسے ہوئے کیوں ہیں اور ان کے مسلم ہونے کی شہرت میں جو مسلم لڑکیاں ان کے نکاحوں میں جا رہی ہیں یہ نکاح ہوتا ہی نہیں (نعوذ باللہ) زنا ہے اور ان کو بچانے کے لیے ہمارے پاس کیا طریقہ ہے ہم سنی بچیوں کو اس عذاب سے بچالیں اور دوسرے حقوق جن پر وہ مسلم کی حیثیت سے غاصبانہ قبضہ کیے ہوئے ہیں اس کے لیے ہمارے پاس کیا دفعہ ہے پھر اب جو صورتحال ہے وہ یہ ہے کہ اب شیعہ زیرِ زمین تربیت حاصل کر رہے ہیں اور اس فوجی تربیت کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ خمینی انقلاب کے لیے اپنا راستہ ہموار کر رہے ہیں اور یہ ساری تربیت خمینی کی ایما پر ہورہی ہے اور ساری چالیں حکومت کی نظر میں ہیں اس کے علاوہ انہوں نے شیعہ امل ملیشیاء کے نام سے پاکستان میں ایک تنظیم بنالی ہے جو کبھی کہیں اور بنی ہوئی تھی اب اس کا دفتر یہاں کھل چکا ہے جس کا باقاعدہ منشور ہے جس کی فوٹو کاپی ہمارے پاس موجود ہے اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ہم عزاداری کے تحفظ کے لیے مسلح ہو کر آئیں گے اور ہم پوری قوت سے مظاہرہ کریں گے ایک طرف انہوں نے فوجی تربیت حاصل کی ہے اور دوسری طرف شیعہ امل ملیشیاء بنا کر یہاں پر وہی کرتوت کرنا چاہتے ہیں جو انہوں نے فلسطینیوں کے مسلمانوں کے ساتھ کیے آپ نے اخبارات میں پڑھا ہوگا کہ فلسطینیوں کو کتوں اور بلیوں کا گوشت کھانے پر مجبور کرنے والے شیعہ امل ملیشیاء۔

اسرائیل سے بڑا ظالم شیعہ:

اسرائیل ضرور ظلم کر رہا ہے لیکن اس سے بڑھ کر ظلم کرنے والی شیعہ امل ملیشیاء ہے اور یہ اخبار کے ریکارڈ میں موجود ہے یعنی یہی حالات اور واقعات تھے جن کی وجہ سے ہمارا غفلت میں رہنا ہماری تباہی کا باعث بنے گا اگر ہم اسکو فرقہ سمجھ لیتے ہیں کہ جلوس نکال لیتے ہیں ماتم کر لیتے ہیں یہ نہیں ہے یہ باقاعدہ ایک سیاسی فتنہ ہے اور بین الاقوامی فتنہ ہے اور پوری تیاری میں ہے اور حکومت کی مشینری میں گھسے ہوئے ہیں اور یہاں میں خمینی انقلاب لانا چاہتے ہیں اور سنیت کو مکمل طور پر کریش کرنا چاہتے ہیں اور ان تمام چیزوں کی روک تھام کے لیے ہمیں مزید سپاہِ صحابہؓ کو منظم اور فعال کرنا ہوگا کہ پوری سنی قوم کو بیدار کرنا ہوگا اور ایک اور بات یہ کہ دشمن (شیعہ) کے عرصہ دراز سے ایک ہتھیار استعمال کرتا آیا ہے اور کر رہا ہے اور یہ ہتھیار جلوس ہے اور ان جلوسوں کے ذریعے انہوں نے اپنی تعزیے اور گھوڑے (دلدل) کی وہ قدر منوالی ہے جو آج تک کسی سنی نے اپنے کسی رہنما کو نہیں منوائی گویا جلوسوں نے ذہن بنا لیا ہے کہ عوام کا کہ جن جن شخصیات کا جلوس نکلتا ہے وہ کوئی بڑی شخصیات ہوں گی اور یہاں ایسا ہی ہے آپ کسی بچے سے پوچھ لیں بچے 25 دسمبر کا دن کیوں منایا جاتا ہے تو فوراً کہے گا محمد علی جناح بانی پاکستان پیدا ہوئے اسی لیے یہ دن منایا جاتا ہے اگر کسی بچے سے خلفاءِ راشدینؓ کے نام تک پوچھیں جائیں تو اسے نہیں آئیں گئے یہ اس بچے کا قصور نہیں ہے یہ ہمارا قصور ہے کہ ہم نے سیدنا صدیقؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمان غنیؓ سیدنا علیؓ کا وہ مقام حاصل نہیں کیا جو ایک شیعہ نے اپنے گھوڑے اور ٹٹوؤں کامنوالیا ہے۔   

یوم سیدنا صدیقِ اکبرؓ منانے کا اعلان:

اس توڑ کے لیے ہم نے سپاہِ صحابہؓ کی طرف سے ایک اعلان کیا ہے کہ ہم یوم سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو جلوس کی شکل میں منائیں گے آپ نے اگر دو چار سال تک اس کو نظم و نسق کے ساتھ نکال لیا تو اس سے یہ ہوگا کہ جیسے محرم کے ایام میں ریڈیو ٹیلی ویژن صدر اور وزیراعظم اور دوسرے سرکاری وڈیرے بولتے ہیں جی یہ مقدس ایام ہیں انہیں مقدس طریقے سے منایا جائے سیدنا حسینؓ سب مشترک ہے بھائی بھائی بن کر مناؤ سب کا مشترک ہے ریڈیو ٹیلی ویژن پر بس سب اسی پر لگے رہتے ہیں حتیٰ کہ سیاستدان مجبور ہو کر کہتے ہیں سیدنا حسینؓ سب کا مشترک ہے مل جل کر منالو یہ ہم بھی کہتے ہیں کہ حسینؓ سیدنا ہمارا بھی ہے لیکن جو ایام مقدس ہے انہیں مقدس طریقے سے منایا جائے لیکن تم ان ایام میں بھی ماتم کرتے ہو برچی مارتے جلوس نکالتے ہو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن و تشنیع کرتے ہو ان تمام تخریب کاری کو تقدس کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے تو ہم نے سوچا کہ جلوس اتنی بڑی طاقت ہے کہ حکومت مجبور ہے امن رکھنے پر امن کا درس دینے اور اگر ہم بھی یوم سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا جلوس تین چار سال منظم و ضبط کے ساتھ نکال لیں تو یہی وذراء یہی گورنر یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے سیدنا صدیقِ اکبر مشترک ہستی ہے اس کا یوم بھی امن و امان سے بھائی بھائی بن کر مناؤ اور اس پر بھی اخبارات کو بھی مضامین لکھنے پڑیں گے سیدنا ابوبکر صدیقؓ جو غار یار و مزار رسول اللہﷺ ہے وہ بھی ایک اہم شخصیت ہے جس نے سب سے پہلے رسول اللہﷺ کا کلمہ پڑھا اور جس کے لیے پیغمبرﷺ نے فرمایا:

افضل البشر بعد الانبیاء۔

 انبیاء کے بعد افضل آدمی سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہے تو اس صورت میں جلوس نکلنے سے دو فائدے ہوں گے ایک تو سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی ذات کو متعارف کروا لیں گے اور سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے مانے جانے پر وہ سب لوگ خود بخود مانے جائیں گے جنہوں نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تو اس طرح پوری خلافت راشدہ مانی جائے گی گویا کہ یہ جڑ ہے تمام اصحابِ رسولﷺ کی جماعت کی پھر کسی شیعہ کو اس کے خلاف بھونکنے کی جرأت نہیں ہوگی۔ 

لکھنؤ کی تاریخ:

یا پھر دوسرا رزلٹ یہ نکلے گا کہ شیعہ کہیں گا ہم بھی جلوس بند کرتے ہیں وہ بھی جلوس بند کریں اسی طرح ہوا ہے کہ لکھنؤ میں اس کی مثال موجود ہے لکھنؤ میں مولانا عبد الشکور لکھنؤیؒ مدح اصحابِ رسولﷺ کاجلوس نکالتے تھے کچھ دن انہوں نے نکالا شیعہ نہیں ہیں لیکن سنی تو سیلاب کی طرح امڈ آتے تھےاور پھر اس جلوس کی قیادت بھی مولانا لکھنؤیؒ کرتے تھے جب وہ چوک پر کھڑے ہو کر شیعہ کا کفر بیان کرتے اور اس کا رد کرتے تو گویا کہ ایک طوفان ہوتا تھا تور شیعوں نے مجبوراََ لکھ دیا کہ ہم محرم کا جلوس نہ نکالیں تو جلوس لکھنؤ میں اس دن سے آج تک بند ہے اب یا تو ہمارے جلوس نکالے جانے سے سارے جلوس بند ہو جائیں گے یا اتنا ضرور ہوگا کہ مدح اصحابِ رسولﷺ عام پبلک کے سامنے کر سکیں گے چوک پر کھڑے ہو کر جہاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا دشمن کھڑا ہو کر تبرا بازی کر رہا ہے ہمیں تو مسجد کے محراب پر بھی بات نہیں کرنے دی جاتی دشمنِ سیدنا صدیقؓ چوک پر کھڑے ہو کر بکواس کر رہا ہے اس بنیاد پر ہم نے اعلان کر دیا ہے کہ ہم یومِ سیدنا صدیقِ اکبرؓ جلوس کی صورت میں منائیں گے اور جہاں کہیں بھی سپاہِ صحابہؓ کا ایک کارکن بھی ہوگا وہ اکیلا جھنڈا لے کر اس دن سڑک پر نکل آئے گا۔

شیعہ کا کفر ہمارا ایمان:

ہم چاہتے ہیں کہ اصحابِ رسولﷺ پر تبرا بازی کی زبان بند ہو ان پر لعن طعن بند ہو شیعہ کا کفر سنی پر واضح ہو شیعہ جارحیت اور اس کی تخریب کاری سے سنی قوم واقف ہو ہر وقت اس کی انسدادی کاروائی قوم بھی اور حکومت بھی کرسکے ہم ختمِ نبوت کے طرز ہی پر سپاہِ صحابہؓ کو لے کر چلنا چاہتے ہیں اور اس کو غیر متنازعہ لے کر چلنا چاہتے ہیں اور اس پلیٹ فارم کو مشترکہ لے کر چلنا چاہتے ہیں تاکہ ہم اصل منزل تک پہنچ سکیں اور امید ہے کہ آپ اس مسئلے کو لے کر بڑھیں گے مزید زیادہ دیر نہیں سوچیں گے اور اسی طرح نیک نیتی سے کام کرتے رہیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اللہ کی نصرت ہمارے شامل حال نہ ہو اور یہ نہیں کہ ہم کسی جذبات کی رو میں آ کر شیعہ کافر کہنے لگے یہ عقیدہ کی بات ہے ہم اس پر دلائل رکھتے ہیں سوچ و بچار کے بعد ہم نے اس مسئلے کو اٹھایا ہے نیک نیتی سے اٹھایا ہے اور اصحابِ رسولﷺ کی مدح اور ان کے دشمنوں کے کفر کے مسئلے میں اللہ گواہ ہے ہمارے دل میں کسی قسم کی کوئی منافقت نہیں ہے۔ 

ہمارا کام اخلاص پر مبنی ہے:

ہم جتنا کام بھی کر رہے ہیں اپنی قبر و آخرت سنوارنے کے لیے کر رہے ہیں اور اس مسئلے پر ہم مار کھا چکے ہیں مار کھانا آسان بات نہیں اپنی زبان سے کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے پولیس نیم ننگا کر کے گھر سے پکڑ کر لے گئی صرف ایک چادر بنیان میں کیا کوئی آدمی نہیں چاہتا کہ وہ عزت کی زندگی گزارے نہ چور نہ ڈاکو نہ اچکا نہ بدمعاش نہ اسمگلر کچھ بھی نہیں رات کے دو بجے پولیس کا بغیر خبر گھر میں داخل ہونا اوراس سے بڑھ کر بے عزتی اور کون سی ہوسکتی ہے پھر اس حالت میں کہ ایک بنیان اور چادر کے ساتھ داڑھی سے پکڑ کر گھر سے گھسیٹتے ہوئے اور گلی سے گھسیٹ کر لے جانا اس سے زیادہ بےعزتی اور کونسی ہوسکتی ہے پھر جیل میں مجھے ننگا کر کے مارا گیا الٹا لٹکا کر مارا گیا اور پھر بھی اللہ کے فضل سے میں اپنے مؤقف پر کھڑا ہوں اور میرے مؤقف پر ذرا بھر لچک نہیں آئی میں کہتا ہوں شیعہ قادیانی سکھ ہندو سب کافر ہیں۔

منزل ضرور آئے گی ان شاء اللہ:

یہی چند باتیں ہیں میں نےآپ سے کہنی تھیں مجھے امید ہے کہ اب آپ ان کو اپنے دلوں میں جگہ دیں گے اور مزید ہمارے ساتھ آپ قوت بن کر چلیں گے اور ان شاء اللہ ایک نہ ایک دن ہم منزل پر پہنچ جائیں گے ہماری زندگیوں میں یہ منزل نہ آئے باالفرض جیسے امیرِ شریعت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے دور میں قادیانیت کی منزل نہیں آئی اور حضرت کی وفات کے بعد یہ منزل آئی تو ایک نا ایک دن یہ منزل بھی ضرور آئے گی چاہے ہماری زندگیوں میں آئے یا بعد میں آئے ان شاء اللہ آئے گی ضرور اس لیے کہ مسئلہ کے لحاظ سے شیعہ کے کفر میں خلجان نہیں ہیں اللہ رب العزت مجھے آپ کی نیک نیتی کے ساتھ کام کرنے کی توفیق بخش (آمین ثم آمین)۔

ہمارا مشن اور سیّدہ عائشہ صدیقہؓ:

ہاں بات ختم کر رہا ہوں لیکن ایک بات ذہن میں آگئی ہماری جماعت کا اس وقت جو صدر ہے وہ اب جیل میں ہے اس کو خواب میں سیّدہ عائشہ صدیقہؓ نے اپنے ہاتھوں سے پانی پلایا اس پر وہ آمادہ ہوا کہ یہ کام میں ساری عمر کروں گا مجھے اس نے بیان کیا انتہائی مبارک خواب تھا حالانکہ وہ دکاندار ہے اور اس کی دکان تباہ ہوگئی ہے سال ہوگیا ہے اسے جیل میں گئے ہوئے لیکن الحمد للہ وہ اپنے مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے جو حالات ہمارے سامنے ہیں بڑے مبارک ہیں اور یقیناً ہم سمجھتے ہیں کہ اس راستے سے ہمیں جنت ملے گی ان شاء اللہ ضرور ملے گی ہر آدمی کوشش کرتا ہے کہ عذاب الہٰی سے چھٹکارا حاصل کرلیں گناہ ہر انسان سے ہوتے ہیں کوشش یہی ہے کہ قیامت کے دن ہم اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچ جائیں ہمیں اللہ نے زبان بھی دی ہے جوانی بھی دی ہے معلومات بھی فراہم کی ہیں اور اصحابِ رسولﷺ پر تبرا بازی بھی ہوتی ہو ہم اس کے لیے کوئی کاروائی نہ کریں تو میں سمجھتا ہوں تو پھر قیامت کے دن چھٹکارا حاصل مشکل ہوگا ہم کرسکتے تھے اور کچھ نہ کیا اس لیے میری آپ سے بارہا امید ہے کہ آپ اپنی جوانی کو کام میں لائیں نظم و ضبط کے ساتھ اس کام کو سنبھال لیں دن رات کی کوشش کریں اس سے زیادہ سے زیادہ منظم کریں گے اور اصحابِ رسولﷺ کا پورا پورا دفاع کریں گے میں انہی الفاظ پر اپنی گزارشات ختم کرتا ہوں۔ والسلام۔