امیر عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ حالات…

امیر عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ حالات و خدمات و شہادت

  حضرت مولانا علامہ حق نواز جھنگوی شہیدؒ

صفحہ 1 از 6

امیرِ عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ

حالات و خدمات و شہادت

پیدائش: مولانا 1952ء میں کھچی والا موضع چیلہ تھانہ مسن تحصیل وضلع جھنگ میں پیدا ہوئے۔
خاندان: آپ کا تعلق سپراجٹ قوم سے ہے آپ کے والد کا نام ولی محمد تھا آپ کے دو بھائی اور سات بہنیں ہیں۔
تعلیم و اساتذہ: آپ نے پرائمری تعلیم کے بعد قرآن مجید اپنے ماموں حافظ جان محمد سے دو سال میں کیا بعد ازاں بقیہ تعلیم مشہور معروف دینی درسگاہ دارالعلوم کبیر والا سے حاصل کی اور 1971ء میں ادارہ خیر المدارس سے دورہ حدیث کی تکمیل کی۔
فن ومناظرہ: دورانِ تعلیم آپ نے علامہ دوست محمد قریشیؒ اور مولانا عبدالستار تونسویؒ سے علم مناظرہ حاصل کیا۔
عملی زندگی: تعلیم سے فراغت کے بعد آپ ملک میں نفاذ اسلام کے لیے جمیعتہ العلماء اسلام میں شامل ہوئے اور بعد میں پنجاب کے نائب امیر بنے 1973ء میں جامعہ مسجد پپلیاں والی جھنگ صدر میں بطورِ خطیب تشریف لائے یہ مسجد اب جامعہ مسجد حق نواز شہیدؒ کے نام سے مشہور ہے۔
سپاہِ صحابہؓ کی بنیاد: پاکستان میں شیعوں کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہ گستاخیوں پر آپ نے اس فتنے کے خلاف 20 ذی الحجہ 1405ھ بمطابق 6 ستمبر 1985ء کو اپنی مسجد میں انجمن سپاہِ صحابہؓ کی بنیاد رکھی بعد ازاں یہ جماعت ملک کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم بن گئی۔
امیر و عزیمت: آپ کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی آپ کے خلاف مقدمات کا جال بچھایا گیا گرفتاریاں نظربندیاں اور زباں بندیاں ایک معمول بن گیا آپ پر ظلم و تشدد کا ہر حربہ آزمایا گیا لیکن آپ کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی چنانچہ ایک اجلاس میں آپ کو مشترکہ طور پر امیرِ عزیمت کا لقب دیا گیا۔
قاتلانے حملے اور شہادت: آپ کی آواز شیعت کے خلاف عالم اسلام کی آواز بن چکی تھی اور ذریتِ ابنِ سبا آپ کی آواز کو خمینی انقلاب کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھنے لگے اور آپ پر قاتلانہ حملے ہوئے اور بلآخر مؤرخہ 22 فروری 1990 رات سوا آٹھ بجے اپنے ہی مکان کی دہلیز پر عظمتِ صحابہؓ کے زمزمے سنانے والی اس زبان کو ہمیشہ کے لیے خاموش کروا دیا گیا انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آپ نے کل عمر 38 سال پائی اور آپ جس دن شہید کیا گیا وہ دن جمعرات کا تھا اور جمعۃ المبارک کے دن عصر کے وقت آپ کی نماز جنازہ ادا حافظ الحدیث مولانا عبداللہ درخواستیؒ کی اقتدار میں ادا کی گئی اور شب معراج کی رات آپ کی تدفین ہوئی حضرت حافظ الحدیث نے جنازے کے قبل آنسوؤں کی برسات میں فرمایا کہ آج میں آسمان سے فرشتوں کو اترتے دیکھ رہا ہوں۔
شہید ناموسِ صحابہ: حضرت جھنگوی شہیدؒ کی زندگی میں ہی انہیں امیرِ عزیمت کا لقب ملا اور شہادت کے بعد انہیں اس سے بھی خوبصورت خطاب شہید ناموسِ صحابہؓ کا اضافہ ہوا۔ 
شعلہ مستعجلہ: داعی قرآن شہید اسلام حضرت مولانا اسلم شیخوپوریؒ اپنے ایک مضمون میں حضرت جھنگوی شہیدؒ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس کام کو کرنے کے لیے تحریک کو کئی کئی سال لگ جاتی ہے لیکن وہ کام اس شعلہ مستعجلہ نے اتنی کم عمر میں کر دکھایا۔
خدا رحمت کندایں عاشقان پاک طینت را۔

خطبہ مسنون کے بعد:

معزز سامعین (قارئین)!

آپ حضرات کو بخوبی معلوم ہے کہ سپاہِ صحابہؓ بہت قلیل عرصہ میں طویل سفر طےکر چکی ہے دو سال کا عرصہ کسی بھی جماعت کے لئے اتنی بڑی مدت نہیں ہے

کہ جس مدت میں وہ پورے ملک میں پھیل جائے آپ کسی بھی جماعت کی تاریخ پڑھ لیں جہاں تک میری معلومات ہے تو اتنی کم مدت میں کوئی جماعت ملکی لیول وسطح پر نہیں آئی اگر آئی ہے تو شہری حد تک آئی دیہاتی تک نہیں پہنچ سکی ایک طویل عرصہ محنت کرنے کے بعد جماعتیں ملکی سطح پر آتی ہیں اور خصوصی حیثیت ان کی یہ بھی ہوتی ہے کہ ان جماعتوں کو بڑھانے والے اور ان جماعتوں کی بنیاد رکھنے والے بہت بڑی شخصیت ہوتی ہیں یہ ایک تاریخ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی ہے جبکہ سپاہِ صحابہؓ کی پوزیشن اس کے برعکس ہے اس کی بنیاد میں نے ڈالی ہے اور میری کوئی حیثیت نہیں میں آپ کی طرح ایک مذہبی کارکن ہوں دل میں ایک خواہش تھی تڑپ تھی۔ 

 شیعت پر میرا مطالعہ:

ایک عرصہ سے میں شیعہ جارحیت کے خلاف کام کرتا چلا آیا ہوں اور وہ کام بھی طالب علمی کے زمانے سے بلکہ یوں سمجھے کہ طالب علمی کے زمانے سے بھی پہلے میں نے ابھی دینی تعلیم کو پڑھنا شروع بھی نہیں کیا تھا میرے والد صاحب ایک کسان تھے کچھ تھوڑا سا ہمارا اپنا رقبہ تھا اس کے کاروبار کے لیے ہمارے اپنے گھر کے آدمی تھوڑے تھے اس لیے والد بزرگوار نے ایک ملازم رکھ لیا جو عقیدے کے لحاظ سے شیعہ تھا ایک دن شام کو وہ ملازم اور میں اپنے جانوروں کو چارہ چروانے کے لیے کھیتوں میں گے تو اس خبیث نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو (نعوذ باللہ) گالی دی میں اتنا تو جانتا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ صحابی رسولﷺ‎ ہیں تو میں نے اس سے کہا کہ میں اتنا مولوی ضرور بنوں گا کہ تمہارے شیعوں کے کفر کا اعلان کر سکو کہ تم کافر ہو اسی دوران میں نے قرآن مجید پڑھنے لگ گیا قرآن مجید پڑھنے کے بعد میرے دل میں یہ خواہش آئی کی کتابیں بھی پڑھوں میرے گھر کا ماحول قطعاََ یہ نہیں تھا کہ وہ دین پڑھیں پوری برادری میں کوئی ایسا نہیں تھا جس نے دینی تعلیم حاصل کی ہو بلکہ ظلم یہ تھا کہ میرے برادری کے کچھ لوگ شیعہ ہیں بالآخر میں دینی تعلیم حاصل کرنے لگا دورانِ تعلیم دارالعلوم عیدگاہ کبیر والا کے کُتب خانے میں کچھ رسالے موجود تھے انجم یہ وہ رسالہ ہے جسے امام اہلِ سنت علامہ عبدالشکور لکھنویؒ ہر مہینے نکالا کرتے تھے مجھے اسباق سے کچھ فرصت ملتی تو میں دارالعلوم کے کُتب خانے سے اور رسالہ نکلوا کر ان کو پڑھتا رہتا اس سے گویا شیعہ جارحیت کے خلاف تربیت ہونے لگی اور میں اسی طالب علمی کے زمانے سے ہی ان کو کافر کہنے لگا میرے جماعت کے وہ ساتھی گواہ ہیں میں اس وقت بھی کہتا تھا شیعہ کائنات کا بدترین کافر ہے۔

شیعہ کو علی الاطلاق کافر کہنے کی وجہ:

صفحہ 1 از 6