امیر عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ حالات…

امیر عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ حالات و خدمات و شہادت

  حضرت مولانا علامہ حق نواز جھنگوی شہیدؒ

صفحہ 2 از 6

بہرحال یہ ایک ذہن بنتا رہا تعلیم سے فراغت کے بعد کیونکہ میرا ضلع جھنگ تھا اور اس میں شیعہ جارحیت زور پر تھی اور جن کو آج بھی ثانی لکھنؤ شمار کیا جاتا ہے (واضح رہے لکھنؤ شیعہ جارحیت کا گڑھ ہے) اسی دوران مجھے شیعت پر مطالعہ وسیع کرنے کا موقع ملا جہاں شیعہ کُتب کا مطالعہ کیا وہاں میری برادری کے جو لوگ شیعہ تھے ان کو مسلمان بنانے کی کوشش کی کیونکہ میری برادری کے سب لوگ ان پڑھ تھے اس لیے میں نے سوچا کہ ان کو جلد ہی مسلمان کروں گا لیکن آپ یقین کریں جس وجہ سے میں شیعہ کو علی الاطلاق کافر کہنے پر مجبور ہوگیا وہ یہ ہے کہ ایک ان پڑھ (شیعہ) آدمی بھی وہی تمام نظریات رکھتا ہے جو ایک شیعہ مجتہد و عالم یا رہنما کے ہوتے ہیں مثلاََ صاف لفظوں میں میری برادری کے ایک فرد جو اردو کا ایک لفظ بھی نہیں پڑھا ہوا اس نے صاف صاف لفظوں میں مجھے کہہ دیا کہ مولوی صاحب تم یہ کیا بات کرتے ہو یہ قرآن تو محض لکیریں ہیں جو سیدنا عثمان غنیؓ نے کھینچی ہیں یہ اصل قرآن نہیں (نعوذ باللہ) یہ ہے وہ حقیقت جو سارے حضرات پر اس لیے نہیں کھلتی کہ ان کا اتنا واسطہ شیعت سے نہیں پڑا جتنا مجھے پڑا ہے برادری کے لحاظ سے جھنگ کے لحاظ سے پھر شروع سے شیعہ لٹریچر پڑھنے کے لحاظ سے تو اس کی یہ بات سن کر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ایک ان پڑھ آدمی عام شیعہ وہ بھی میرے ساتھ یہ گفتگو قرآن کے متعلق کر رہا ہے تو ان کے ہر آدمی کا قطعاََ یہ عقیدہ رکھتا ہے چاہے وہ اس کا اظہار کسی مجبوری کے تحت نہ کرے یہ سب کچھ جب میرے سامنے آیا تو پھر ان کو میں نے کافر کہنا شروع کر دیا ایک وقت تھا میں شیعہ کو خطبہ جمعہ میں یا کسی جلسے کے دوران تقریر کافر کہہ دیتا اس کو کوئی نعرے کی شکل نہیں ملی جس کی وجہ سے عام لوگوں کو معلوم نہیں ہوا میں ان کو کب سے کافر کہہ رہا ہوں

 جماعتی طور پر کام کی ابتداء:

انہی دنوں ایک رات میں کسی جلسے سے واپسی گھر آرہا تھا کہ راستے میں چوک پر ایک نوجوان مجھے ملا میں نے اس سے کہا کہ کتنی بہترین جوانی ہے یونہی چوک پر کھڑے ضائع کر رہے ہو اگر اس جوانی کو کسی اچھے کام پر لگا دیتے تو کیا اچھا تھا اس نے کہا کس کام پر لگاؤں؟ میں نے کہا دیکھو شیعہ کتنی جارحیت پر اترے ہوئے ہیں انہوں نے اپنی تنظیمیں بنالی ہیں خمینی کے انقلاب کے لیے راستے ہموار کر رہے ہیں ہم لوگ کم از کم اکٹھے ہو جائیں کچھ کام ہمیں بھی کرنا چاہیے خیر اس نے میری بات سن لی اور میں گھر چلا آیا وہ نوجوان اب ہماری جماعت سپاہِ صحابہؓ کا آفس سیکرٹری ہے اشفاق نام ہے اس کا اللہ اس کی عمر دراز کرے تو اس نے راتوں رات اپنے کچھ ساتھی کو اکٹھا کر کے دیوار پر لکھ دیا 

سیدنا صدیقؓ کا منکر کافر سیدنا عمرؓ کا منکر کافر

سیدنا عثمانؓ کا منکر کافر سیدنا علیؓ کا منکر کافر 

قرآن کا منکر کافر سیدہ امی عائشہؓ کا منکر کافر

اور ان نعروں کے نیچے وہی سنی ایکشن کمیٹی لکھتے گئے یہ باتیں انہوں نے پہلے سے میری جمعہ کی تقریر میں سنی ہوئی تھی صبح لوگوں نے جب دیواروں پر دیکھا تو حیران ہوگئے کہ راتوں رات یہ کمیٹی کہاں سے نکل آئی میں بھی حیران رہ گیا اشفاق جب مجھے ملا تو مجھے کہنے لگا جی دیکھا آپ نے دیواروں پر کیا لکھا ہوا ہے میں نے کہا ہاں میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ یہ کام بڑا اچھا ہوا ہے کس نے کیا ہے پھر میں نے کہا بس یہ کام اب ہونا چاہیے۔

انجمن سپاہِ صحابہؓ کی بنیاد اور اس کی خصوصیت:

اس دن ہم نے انجمن سپاہِ صحابہؓ کی بنیاد ڈالی پہلے پہل محلے کی محدود تھی پھر شہر میں کام کرنا شروع کر دیا جلسوں میں ذہن بنانا شروع کیا نوجوانوں پر محنت شروع کی تو دو سال کے قلیل عرصے میں یہ جماعت اتنی پھیل گئی کہ میں آج بلامبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ ملک کا کوئی حصہ نہیں جہاں سپاہِ صحابہؓ کی کوئی نہ کوئی شاخ نہ ہو چھوٹی یا بڑی ضرور ہوگی اگر کوئی جگہ ایسی ہو بھی جہاں کوئی یونٹ نہیں ہے تو سپاہِ صحابہؓ کے ذہن کا ایک نہ ایک آدمی ضرور مل جائے گا جو سپاہِ صحابہؓ کا بیچ لگاتا ہو یا جذبات رکھتا ہو۔ 

قلندر ہرچہ گوید دیدہ گوید:

دو سال کا قلیل عرصہ کسی بھی جماعت کے لیے بہت ہی تھوڑا وقت ہے اور پھر میں نے کہا اس جماعت کی بنیاد میں نے خود رکھی ہے میری نہ تو کوئی پیری اور بزرگی اور نہ کوئی استادی ہے اور نہ کسی بھی قسم کی کوئی اہمیت ہے میں آپ کی طرح ایک ادنیٰ سا رضا کار ہو ایک کارکن ہوں دل میں تڑپ تھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ محبت تھی اس لیے ہر خطرہ مول لے کر اس میں کام کر رہا ہوں اس مقدس کام پر اپنا آخری خون کا قطرہ بہا دینا اپنے لیے سعادت سمجھتا ہوں۔

جماعت پر مشکلات:

صفحہ 2 از 6