امیر عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ حالات…

امیر عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ حالات و خدمات و شہادت

  حضرت مولانا علامہ حق نواز جھنگوی شہیدؒ

صفحہ 3 از 6

ایک تو اس جماعت کا اس قلیل مدت میں اتنا زیادہ پھیل جانا اور اس سے بڑھ کر اس قلیل عرصے میں جماعتی کارکنوں نے جو قربانیاں دیں اور پھر بھی اس جماعت سے وابستہ رہے تو اس کو میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کرامت کا نام دے سکتا ہوں اور کچھ نہیں کہہ سکتا تین کارکن ہمارے شہید ہوئے تقریباً 500 کے قریب ہمارے کارکن گرفتار ہوئے انہی تھانوں میں الٹا لٹکا کر ننگا کر کے مارا گیا تشدد کیا گیا جیلوں میں رکھا گیا زخمی ہوئے کئی مرتبہ شیعوں کے مقابلے میں مسلح ہو کر آئے دو سال کے قلیل عرصے میں اتنی زیادہ مشکلات میں گزارنا اور پھر یہ کہ جماعت نے اپنے کارکن کو اتنا تحفظ مہیا کیا الحمدللہ لیہ کا واقعہ آپ نے سنا ہوگا وہاں جتنے بھی کارکن ہمارے جیلوں میں تھے تقریباً اڑھائی سو کے قریب اس میں ہماری جماعت نے کیس لڑا 60 رٹس کی خود حکومت کے خلاف ہائیکورٹ میں اور ان تمام کے اخراجات برداشت کیے ڈپٹی کمیشز پر ہم نے قتل کا پرچہ دائر کیا ایس پی کے خلاف اس سے وہ لوگ ہمارے آگے جھکے اور ان کو ہمارے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا اور انہوں نے ہمارے کارکن جن پر 302 کے جھوٹے مقدمات قائم کیے تھے یعنی آدمی بھی ہمارے قتل ہوئے اور مقدمے بھی ہم پر اس کے بعد ہم نے ہائیکورٹ پر اپیل کی اس پر وہ لوگ ہمارے سامنے جھکے اور انہوں نے مقدمات واپس لیے اور جو آدمی شہید ہوئے ان کا معاوضہ بھی ادا کیا پھر جھنگ میں جھگڑا ہوا اس میں وہی حرکات اس میں بھی ہمارے 300 آدمی گرفتار ہوئے اس پر بھی ہم نے عدالتی لڑائی لڑی مظاہروں جلوسوں اور احتجاج کرتے ہوئے جماعت کو اس سٹیج پر لے آئے کہ اب ہمارے صرف دو آدمی اندر ہیں اور وہ بھی بہت جلد ان شاءاللہ رہا ہو جائیں گے تو اس مدت میں جماعت کا اس قدر پھیل جانا اس کی اتنی لڑائی لڑنا اور اخراجات کا برداشت کرنا اور ظلم کا برداشت کرنا پھر کارکنوں کا نہ ٹوٹنا جماعت سے وابستہ ہونا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اصحابِ رسولﷺ‎ کی کرامت ہی ہے وگرنہ کوئی آدمی آج کے اس دور میں جماعت کے لیے اتنی مار مصیبتیں برداشت نہیں کرسکتا اور سپاہِ صحابہؓ کے جذبات و احساسات گویا کہ دن رات بڑھتے جا رہے ہیں یہ تو ہے کیفیت اس جماعت کی مختصر مدت میں پھیلنے کی جس سے آپ کو یہ اندازہ ہوگا الحمدللہ سپاہِ صحابہؓ باقاعدہ ایک جماعت ہے اور خلوص و دیانت داری کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ 

کفر کا فتویٰ:

دوسری بات شیعہ کے کفر کی ہے تو میں بڑی مسرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ اب دارالعلوم دیوبند نے شیعہ کے کفر کا الاعلان فتویٰ دیا اس کے بعد تو دیوبندی علماء کے لیے کسی قسم کی حُجت باقی نہیں رہتی اور پھر لطف کی بات یہ ہے کہ شیخ العرب والعجم علامہ حسین احمد مدنیؒ نے کے فرزند ارجمند سید اسد مدنیؒ نے جو میرے پیر و مرشد ہیں میں ان کے ہاتھ پر بیعت ہوں انہوں نے بھی اس فتویٰ پر دستخط کیے اور یہ الفاظ لکھ کر کہے کہ علمائے فقہاء نے شیعہ کے کفر کا فتویٰ دیا ہے میں اگرچہ فتویٰ نہیں دیا کرتا لیکن میں اس میں بھی اس فتویٰ کی تائید کر کے اس جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہوں تو جہاں تک شیعہ کے کفر کا مسئلہ ہے تو علماء اور فقہاء نے شیعہ کی کفر پر مستقل دستخط کر دیے ہیں اور یہ بات کہ شیعہ کافر کیوں ہیں ان کے کفریہ عقائد کیا ہیں تو اس کے دلیل پیش کرنے کے لیے کافی وقت کی ضرورت ہے اور لمبی چوری گفتگو ہے مختصراً کچھ کہنا چاہتا ہوں۔

شیعوں کا عقیدہ قرآن کے بارے میں:

قرآن مجید کے متعلق شیعہ کا اجتماعی اور اجتہادی یہی عقیدہ ہے کہ قرآن مجید اصلی نہیں اسمیں کفر کے ستون کھڑے کر دیے گئے صرف چار آدمی شیعوں کی تیرہ سو سالہ زندگی میں ایسے ہیں جنہوں نے اس قرآن کی تائید کی ہے سیدنا عثمان غنیؓ کے دور میں شیعہ فرقہ پیدا ہوا اور عبداللہ بن سبا یہودیوں کے اشارے پر شیعہ فرقے کی بنیاد ڈالی گئی اور یوں سیدنا علیؓ کی خلافت کا مسئلہ کھڑا کر دیا اور دوسرے مسائل وہاں سے پیدا ہوئے آج تقریباً تیرہ سو سال اس کی تاریخ کے بنتے ہیں پھر اس دوران انہوں نے کن کن اسلامی سلطنتوں کے تخت الٹے کہاں کہاں سازشیں کی ہلاکوں اور چنگیز کو دعوت دینے والے یہ لوگ ہیں ہندوستان میں انگریز کی حمایت کا انہوں نے کھل کر اعلان کیا کہ ہم انگریزوں کے ساتھ ہیں یہ بھی ایک لمبی داستان ہے بغداد کی تباہی میں ابنِ علقمی کا ہاتھ ہے اور جس نے بغداد میں سنیوں کے دس لاکھ آدمی ذبح کروائے یہ ان کی خونی داستان ہے کہ شیعوں نے کہاں کہاں تباہی مچائی کن کن سلطنتوں کے تختے الٹے اور کہاں کہاں سازشیں کیں تاہم بنیادی طور پر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن مجید کے متعلق شیعہ کا اجتماعی عقیدہ ہے کہ یہ قرآن اصلی قرآن نہیں پورے تیرہ سالہ دور میں ان کے چار آدمی نکلے ہیں جنہوں نے اس قرآن کو اصلی قرآن کہا ہے لیکن شیعہ کی کتاب "انوار نعمانیہ" میں مصنف قرآن کے مسئلے پر بحث کرتے کرتے اس سوال کو اٹھاتا ہے کہ شیعہ کے ہاں یہ متفقہ مسئلہ تو نہ رہا کہ یہ قرآن اصلی قرآن نہیں کیونکہ شیعہ کے چار بزرگ اس قرآن کی تائید کر چکے ہیں جبکہ باقی شیعہ اس قرآن کو اصلی قرآن نہیں سمجھتے تو اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وہ لکھتا ہے کہ اصل میں وہ چار بزرگ بھی ہمارے ساتھ متفق ہیں البتہ انہوں نے جب حالات سے مجبور ہو کر مصلحتاً تقیہ کر کےکہہ دیا ہے کہ قرآن اصلی قرآن ہے حقیقت میں ان کا عقیدہ اس قرآن کی اصل ہونے کا نہیں پھر وہ اس کی دلیل دیتا ہے کہ ان کا عقیدہ اس قرآن کے اصلی ہونے کا اس لیے نہیں کہ ان کے اپنے ہاتھوں سے لکھی ہوئی یہ کتاب محفوظ ہےکہ جن پر لکھا ہوا ہے کہ یہ قرآن اصلی قرآن نہیں اور یہ کتاب اصلی کتاب نہیں ہے کہ جس میں اس قرآن کی تائید کی گئی ہے اس کو تبدیل کیا گیا ہے اور وہ بھی ہمارے ساتھ اس مسئلے پر متفق تھے کہ یہ قرآن اصلی قرآن نہیں۔

شیعہ جارحیت:

صفحہ 3 از 6