امیر عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ حالات…

امیر عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ حالات و خدمات و شہادت

  حضرت مولانا علامہ حق نواز جھنگوی شہیدؒ

صفحہ 4 از 6

یہ ہیں ان کے عربی کُتب کی کچھ تاریخ اور اب تو جارحیت یہاں تک آگئی کہ شیعوں نے اردو زبان میں لٹریچر شائع کرنا شروع کر دیا ہے کراچی سے ایک کتاب شائع ہوئی ایک ہزار تمہاری دس ہماری حضرت علامہ دوست محمد قریشیؒ نے ایک ہزار سوال شیعہ سے کیا تھا ان کی زندگی میں شیعہ کو جواب دینے کی جرات نہیں ہوئی ان کی وفات کے بعد مصنف نے جواب دیا اور قرآن کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ سنیوں جس قرآن کو تم مانتے ہو اس میں پاکستان کا ذکر نہیں اور جس قرآن کو ہم مانتے ہیں اس میں پاکستان کا ذکر ہے یہ کتاب کراچی سے شائع ہوئی اور دھڑا دھڑ بازاروں میں فروخت ہو رہی ہے اس پر نہ کوئی پابندی لگائی گئی اور نہ ضبط کیا گیا الٹا اگر ہم نے اس کفر کے خلاف احتجاج کیا تو ہم کو 302 کے جھوٹے مقدمات میں ملوث کر کے بالکل ختم کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہماری داخلہ بندیاں کی گئیں۔

شیعوں کو چیلنج:

اس طرح اگر میں کفریات پیش کرتا جاؤں تو وقت لگ جائے گا میں نے پورا اطمینان حاصل کرنے کے بعد اس کفر کے خلاف زبان اٹھائی اور میں نے شیعہ کو کافر کہا اور مجھے کوئی جھجھک کوئی خوف اور کوئی ڈر نہیں میں نے تو اپنی قبر اور آخرت کو سنوارنے کے لیے اسی میں خیر سمجھی ہے اور میں نے امتِ مسلمہ کو اس سے آگاہ کرنا شروع کر دیا ہے اور اللہ کا فضل ہے کہ میں نے ہر موڑ ہر چوک ہر بازار ہر جلسے میں شیعوں کو چیلنج کیا ہے میرا یہ لفظ (شیعہ کافر) ہے تمہیں چھپتا ہے تو تم میرے خلاف ہائی کورٹ میں پرچہ درج کرواؤ اور مجھے ملزم کی حیثیت سے طلب کرو اگر میں تمہارا کفر عدالت میں ثابت نہ کر سکوں تو میں عدالت عالیہ کو لکھ کردوں گا کہ مجھے سرعام گولی مار دی جائے لیکن شیعہ کو جرأت نہیں ہوئی مجھے وہ اس عنوان پر عدالتی چیلنج کریں لیکن وہ اس عنوان پر مجھے عدالتی چیلنج نہیں کر سکتا اور آپ کی خوشی کے لیے عرض ہے کہ کراچی میں مجھے وکیل ملا جس کی ایک لائبریری ہے اس لائبریری میں ہر قسم کی شیعہ کتابیں موجود ہیں تین منزلہ لائبریری ہے شاید دنیا کی کوئی ایسی کتاب شیعہ کی نہ ہو جو اس لائبریری میں نہ ہو وہ ہائیکورٹ کا وکیل ہے اس نے کہا کہ میں یہ کیس لڑتا ہوں اور پورے تعاون کا اظہار کیا۔

یہ نعرہ سپاہِ صحابہؓ کی بنیاد ہے:

ہم عوام کے سامنے ایک ثبوت لانا چاہتے ہیں کہ جس کو عوام بخوشی قبول کرلے ہم کوئی پاگل تو نہیں کہ کافر کافر شیعہ کافر کہنے لگے ہمارے پاس اس نعرے کے دلائل موجود ہیں اور یہ بھی واضح کردوں کہ یہ نعرہ کافر کافر شیعہ کافر سپاہِ صحابہؓ کی بنیاد ہے اور اس کو سپاہِ صحابہؓ کا منشور تصور کرلیں یہ الگ بات ہے کہ آج ہم کس انداز میں کام کر رہے ہیں کل کس انداز میں کریں گے بہرحال ہمارا مؤقف یہی ہے کہ شیعہ کائنات کا بدترین کافر ہے۔

ہمارا حکومت سے مطالبہ:

اب ہمارا حکومت سے بھی یہی مطالبہ ہے کہ اسمبلی میں یا عدالت میں شیعہ کے کفر کا اعلان کیا جائے اور اگر یہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو ہمارے ساتھ بات کریں اور اگر غیر مسلم ہیں تو مسلمان کی طرح حقوق کیوں حاصل کر رہے ہیں مسلمان کی طرح ماحول اور معاشرے میں گھسے ہوئے کیوں ہیں اور ان کے مسلم ہونے کی شہرت میں جو مسلم لڑکیاں ان کے نکاحوں میں جا رہی ہیں یہ نکاح ہوتا ہی نہیں (نعوذ باللہ) زنا ہے اور ان کو بچانے کے لیے ہمارے پاس کیا طریقہ ہے ہم سنی بچیوں کو اس عذاب سے بچالیں اور دوسرے حقوق جن پر وہ مسلم کی حیثیت سے غاصبانہ قبضہ کیے ہوئے ہیں اس کے لیے ہمارے پاس کیا دفعہ ہے پھر اب جو صورتحال ہے وہ یہ ہے کہ اب شیعہ زیرِ زمین تربیت حاصل کر رہے ہیں اور اس فوجی تربیت کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ خمینی انقلاب کے لیے اپنا راستہ ہموار کر رہے ہیں اور یہ ساری تربیت خمینی کی ایما پر ہورہی ہے اور ساری چالیں حکومت کی نظر میں ہیں اس کے علاوہ انہوں نے شیعہ امل ملیشیاء کے نام سے پاکستان میں ایک تنظیم بنالی ہے جو کبھی کہیں اور بنی ہوئی تھی اب اس کا دفتر یہاں کھل چکا ہے جس کا باقاعدہ منشور ہے جس کی فوٹو کاپی ہمارے پاس موجود ہے اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ہم عزاداری کے تحفظ کے لیے مسلح ہو کر آئیں گے اور ہم پوری قوت سے مظاہرہ کریں گے ایک طرف انہوں نے فوجی تربیت حاصل کی ہے اور دوسری طرف شیعہ امل ملیشیاء بنا کر یہاں پر وہی کرتوت کرنا چاہتے ہیں جو انہوں نے فلسطینیوں کے مسلمانوں کے ساتھ کیے آپ نے اخبارات میں پڑھا ہوگا کہ فلسطینیوں کو کتوں اور بلیوں کا گوشت کھانے پر مجبور کرنے والے شیعہ امل ملیشیاء۔

اسرائیل سے بڑا ظالم شیعہ:

صفحہ 4 از 6