امیر عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ حالات…

امیر عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ حالات و خدمات و شہادت

  حضرت مولانا علامہ حق نواز جھنگوی شہیدؒ

صفحہ 5 از 6

اسرائیل ضرور ظلم کر رہا ہے لیکن اس سے بڑھ کر ظلم کرنے والی شیعہ امل ملیشیاء ہے اور یہ اخبار کے ریکارڈ میں موجود ہے یعنی یہی حالات اور واقعات تھے جن کی وجہ سے ہمارا غفلت میں رہنا ہماری تباہی کا باعث بنے گا اگر ہم اسکو فرقہ سمجھ لیتے ہیں کہ جلوس نکال لیتے ہیں ماتم کر لیتے ہیں یہ نہیں ہے یہ باقاعدہ ایک سیاسی فتنہ ہے اور بین الاقوامی فتنہ ہے اور پوری تیاری میں ہے اور حکومت کی مشینری میں گھسے ہوئے ہیں اور یہاں میں خمینی انقلاب لانا چاہتے ہیں اور سنیت کو مکمل طور پر کریش کرنا چاہتے ہیں اور ان تمام چیزوں کی روک تھام کے لیے ہمیں مزید سپاہِ صحابہؓ کو منظم اور فعال کرنا ہوگا کہ پوری سنی قوم کو بیدار کرنا ہوگا اور ایک اور بات یہ کہ دشمن (شیعہ) کے عرصہ دراز سے ایک ہتھیار استعمال کرتا آیا ہے اور کر رہا ہے اور یہ ہتھیار جلوس ہے اور ان جلوسوں کے ذریعے انہوں نے اپنی تعزیے اور گھوڑے (دلدل) کی وہ قدر منوالی ہے جو آج تک کسی سنی نے اپنے کسی رہنما کو نہیں منوائی گویا جلوسوں نے ذہن بنا لیا ہے کہ عوام کا کہ جن جن شخصیات کا جلوس نکلتا ہے وہ کوئی بڑی شخصیات ہوں گی اور یہاں ایسا ہی ہے آپ کسی بچے سے پوچھ لیں بچے 25 دسمبر کا دن کیوں منایا جاتا ہے تو فوراً کہے گا محمد علی جناح بانی پاکستان پیدا ہوئے اسی لیے یہ دن منایا جاتا ہے اگر کسی بچے سے خلفاءِ راشدینؓ کے نام تک پوچھیں جائیں تو اسے نہیں آئیں گئے یہ اس بچے کا قصور نہیں ہے یہ ہمارا قصور ہے کہ ہم نے سیدنا صدیقؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمان غنیؓ سیدنا علیؓ کا وہ مقام حاصل نہیں کیا جو ایک شیعہ نے اپنے گھوڑے اور ٹٹوؤں کامنوالیا ہے۔   

یوم سیدنا صدیقِ اکبرؓ منانے کا اعلان:

اس توڑ کے لیے ہم نے سپاہِ صحابہؓ کی طرف سے ایک اعلان کیا ہے کہ ہم یوم سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو جلوس کی شکل میں منائیں گے آپ نے اگر دو چار سال تک اس کو نظم و نسق کے ساتھ نکال لیا تو اس سے یہ ہوگا کہ جیسے محرم کے ایام میں ریڈیو ٹیلی ویژن صدر اور وزیراعظم اور دوسرے سرکاری وڈیرے بولتے ہیں جی یہ مقدس ایام ہیں انہیں مقدس طریقے سے منایا جائے سیدنا حسینؓ سب مشترک ہے بھائی بھائی بن کر مناؤ سب کا مشترک ہے ریڈیو ٹیلی ویژن پر بس سب اسی پر لگے رہتے ہیں حتیٰ کہ سیاستدان مجبور ہو کر کہتے ہیں سیدنا حسینؓ سب کا مشترک ہے مل جل کر منالو یہ ہم بھی کہتے ہیں کہ حسینؓ سیدنا ہمارا بھی ہے لیکن جو ایام مقدس ہے انہیں مقدس طریقے سے منایا جائے لیکن تم ان ایام میں بھی ماتم کرتے ہو برچی مارتے جلوس نکالتے ہو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن و تشنیع کرتے ہو ان تمام تخریب کاری کو تقدس کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے تو ہم نے سوچا کہ جلوس اتنی بڑی طاقت ہے کہ حکومت مجبور ہے امن رکھنے پر امن کا درس دینے اور اگر ہم بھی یوم سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا جلوس تین چار سال منظم و ضبط کے ساتھ نکال لیں تو یہی وذراء یہی گورنر یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے سیدنا صدیقِ اکبر مشترک ہستی ہے اس کا یوم بھی امن و امان سے بھائی بھائی بن کر مناؤ اور اس پر بھی اخبارات کو بھی مضامین لکھنے پڑیں گے سیدنا ابوبکر صدیقؓ جو غار یار و مزار رسول اللہﷺ ہے وہ بھی ایک اہم شخصیت ہے جس نے سب سے پہلے رسول اللہﷺ کا کلمہ پڑھا اور جس کے لیے پیغمبرﷺ نے فرمایا:

افضل البشر بعد الانبیاء۔

 انبیاء کے بعد افضل آدمی سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہے تو اس صورت میں جلوس نکلنے سے دو فائدے ہوں گے ایک تو سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی ذات کو متعارف کروا لیں گے اور سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے مانے جانے پر وہ سب لوگ خود بخود مانے جائیں گے جنہوں نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تو اس طرح پوری خلافت راشدہ مانی جائے گی گویا کہ یہ جڑ ہے تمام اصحابِ رسولﷺ کی جماعت کی پھر کسی شیعہ کو اس کے خلاف بھونکنے کی جرأت نہیں ہوگی۔ 

لکھنؤ کی تاریخ:

یا پھر دوسرا رزلٹ یہ نکلے گا کہ شیعہ کہیں گا ہم بھی جلوس بند کرتے ہیں وہ بھی جلوس بند کریں اسی طرح ہوا ہے کہ لکھنؤ میں اس کی مثال موجود ہے لکھنؤ میں مولانا عبد الشکور لکھنؤیؒ مدح اصحابِ رسولﷺ کاجلوس نکالتے تھے کچھ دن انہوں نے نکالا شیعہ نہیں ہیں لیکن سنی تو سیلاب کی طرح امڈ آتے تھےاور پھر اس جلوس کی قیادت بھی مولانا لکھنؤیؒ کرتے تھے جب وہ چوک پر کھڑے ہو کر شیعہ کا کفر بیان کرتے اور اس کا رد کرتے تو گویا کہ ایک طوفان ہوتا تھا تور شیعوں نے مجبوراََ لکھ دیا کہ ہم محرم کا جلوس نہ نکالیں تو جلوس لکھنؤ میں اس دن سے آج تک بند ہے اب یا تو ہمارے جلوس نکالے جانے سے سارے جلوس بند ہو جائیں گے یا اتنا ضرور ہوگا کہ مدح اصحابِ رسولﷺ عام پبلک کے سامنے کر سکیں گے چوک پر کھڑے ہو کر جہاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا دشمن کھڑا ہو کر تبرا بازی کر رہا ہے ہمیں تو مسجد کے محراب پر بھی بات نہیں کرنے دی جاتی دشمنِ سیدنا صدیقؓ چوک پر کھڑے ہو کر بکواس کر رہا ہے اس بنیاد پر ہم نے اعلان کر دیا ہے کہ ہم یومِ سیدنا صدیقِ اکبرؓ جلوس کی صورت میں منائیں گے اور جہاں کہیں بھی سپاہِ صحابہؓ کا ایک کارکن بھی ہوگا وہ اکیلا جھنڈا لے کر اس دن سڑک پر نکل آئے گا۔

شیعہ کا کفر ہمارا ایمان:

صفحہ 5 از 6