امیر عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ حالات…

امیر عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ حالات و خدمات و شہادت

  حضرت مولانا علامہ حق نواز جھنگوی شہیدؒ

صفحہ 6 از 6

ہم چاہتے ہیں کہ اصحابِ رسولﷺ پر تبرا بازی کی زبان بند ہو ان پر لعن طعن بند ہو شیعہ کا کفر سنی پر واضح ہو شیعہ جارحیت اور اس کی تخریب کاری سے سنی قوم واقف ہو ہر وقت اس کی انسدادی کاروائی قوم بھی اور حکومت بھی کرسکے ہم ختمِ نبوت کے طرز ہی پر سپاہِ صحابہؓ کو لے کر چلنا چاہتے ہیں اور اس کو غیر متنازعہ لے کر چلنا چاہتے ہیں اور اس پلیٹ فارم کو مشترکہ لے کر چلنا چاہتے ہیں تاکہ ہم اصل منزل تک پہنچ سکیں اور امید ہے کہ آپ اس مسئلے کو لے کر بڑھیں گے مزید زیادہ دیر نہیں سوچیں گے اور اسی طرح نیک نیتی سے کام کرتے رہیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اللہ کی نصرت ہمارے شامل حال نہ ہو اور یہ نہیں کہ ہم کسی جذبات کی رو میں آ کر شیعہ کافر کہنے لگے یہ عقیدہ کی بات ہے ہم اس پر دلائل رکھتے ہیں سوچ و بچار کے بعد ہم نے اس مسئلے کو اٹھایا ہے نیک نیتی سے اٹھایا ہے اور اصحابِ رسولﷺ کی مدح اور ان کے دشمنوں کے کفر کے مسئلے میں اللہ گواہ ہے ہمارے دل میں کسی قسم کی کوئی منافقت نہیں ہے۔ 

ہمارا کام اخلاص پر مبنی ہے:

ہم جتنا کام بھی کر رہے ہیں اپنی قبر و آخرت سنوارنے کے لیے کر رہے ہیں اور اس مسئلے پر ہم مار کھا چکے ہیں مار کھانا آسان بات نہیں اپنی زبان سے کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے پولیس نیم ننگا کر کے گھر سے پکڑ کر لے گئی صرف ایک چادر بنیان میں کیا کوئی آدمی نہیں چاہتا کہ وہ عزت کی زندگی گزارے نہ چور نہ ڈاکو نہ اچکا نہ بدمعاش نہ اسمگلر کچھ بھی نہیں رات کے دو بجے پولیس کا بغیر خبر گھر میں داخل ہونا اوراس سے بڑھ کر بے عزتی اور کون سی ہوسکتی ہے پھر اس حالت میں کہ ایک بنیان اور چادر کے ساتھ داڑھی سے پکڑ کر گھر سے گھسیٹتے ہوئے اور گلی سے گھسیٹ کر لے جانا اس سے زیادہ بےعزتی اور کونسی ہوسکتی ہے پھر جیل میں مجھے ننگا کر کے مارا گیا الٹا لٹکا کر مارا گیا اور پھر بھی اللہ کے فضل سے میں اپنے مؤقف پر کھڑا ہوں اور میرے مؤقف پر ذرا بھر لچک نہیں آئی میں کہتا ہوں شیعہ قادیانی سکھ ہندو سب کافر ہیں۔

منزل ضرور آئے گی ان شاء اللہ:

یہی چند باتیں ہیں میں نےآپ سے کہنی تھیں مجھے امید ہے کہ اب آپ ان کو اپنے دلوں میں جگہ دیں گے اور مزید ہمارے ساتھ آپ قوت بن کر چلیں گے اور ان شاء اللہ ایک نہ ایک دن ہم منزل پر پہنچ جائیں گے ہماری زندگیوں میں یہ منزل نہ آئے باالفرض جیسے امیرِ شریعت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے دور میں قادیانیت کی منزل نہیں آئی اور حضرت کی وفات کے بعد یہ منزل آئی تو ایک نا ایک دن یہ منزل بھی ضرور آئے گی چاہے ہماری زندگیوں میں آئے یا بعد میں آئے ان شاء اللہ آئے گی ضرور اس لیے کہ مسئلہ کے لحاظ سے شیعہ کے کفر میں خلجان نہیں ہیں اللہ رب العزت مجھے آپ کی نیک نیتی کے ساتھ کام کرنے کی توفیق بخش (آمین ثم آمین)۔

ہمارا مشن اور سیّدہ عائشہ صدیقہؓ:

ہاں بات ختم کر رہا ہوں لیکن ایک بات ذہن میں آگئی ہماری جماعت کا اس وقت جو صدر ہے وہ اب جیل میں ہے اس کو خواب میں سیّدہ عائشہ صدیقہؓ نے اپنے ہاتھوں سے پانی پلایا اس پر وہ آمادہ ہوا کہ یہ کام میں ساری عمر کروں گا مجھے اس نے بیان کیا انتہائی مبارک خواب تھا حالانکہ وہ دکاندار ہے اور اس کی دکان تباہ ہوگئی ہے سال ہوگیا ہے اسے جیل میں گئے ہوئے لیکن الحمد للہ وہ اپنے مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے جو حالات ہمارے سامنے ہیں بڑے مبارک ہیں اور یقیناً ہم سمجھتے ہیں کہ اس راستے سے ہمیں جنت ملے گی ان شاء اللہ ضرور ملے گی ہر آدمی کوشش کرتا ہے کہ عذاب الہٰی سے چھٹکارا حاصل کرلیں گناہ ہر انسان سے ہوتے ہیں کوشش یہی ہے کہ قیامت کے دن ہم اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچ جائیں ہمیں اللہ نے زبان بھی دی ہے جوانی بھی دی ہے معلومات بھی فراہم کی ہیں اور اصحابِ رسولﷺ پر تبرا بازی بھی ہوتی ہو ہم اس کے لیے کوئی کاروائی نہ کریں تو میں سمجھتا ہوں تو پھر قیامت کے دن چھٹکارا حاصل مشکل ہوگا ہم کرسکتے تھے اور کچھ نہ کیا اس لیے میری آپ سے بارہا امید ہے کہ آپ اپنی جوانی کو کام میں لائیں نظم و ضبط کے ساتھ اس کام کو سنبھال لیں دن رات کی کوشش کریں اس سے زیادہ سے زیادہ منظم کریں گے اور اصحابِ رسولﷺ کا پورا پورا دفاع کریں گے میں انہی الفاظ پر اپنی گزارشات ختم کرتا ہوں۔ والسلام۔


صفحہ 6 از 6