معرکہ قادسیہ میں ملنے والے خمس کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجاہدین میں لوٹا دیا اور نمایاں کارنامے انجام دینے والوں کو بہترین بدلے سے نوازا
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فتح قادسیہ کے بعد حکم دیا کہ مال غنیمت کا خمس بھی مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے۔ چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے حکم فاروقی کو نافذ کیا۔ درحقیقت اس مقام پر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ اجتہاد بالکل اسی طرح عظیم مصلحتوں پر مشتمل تھا جس طرح عراق کی قابل زراعت زمینوں کو کاشت کاروں کے ہاتھ میں چھوڑ دینے کے لیے آپؓ نے اجتہاد کیا تھا۔ اسلامی سلطنت کی عظیم مصلحتوں کے پیش نظر سیدنا عمرؓ نے مناسب سمجھا کہ مال غنیمت کا خمس بھی مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے تاکہ ان کی ہمت افزائی ہو، وہ کشادگی کی زندگی پائیں اور ان کے قابل تحسین کارناموں کا انہیں بہترین صلہ ملے۔
(أمیرالمومنین عمر بن خطاب الخلیفۃ المجتہد، العمرانی: صفحہ 163 )
سیدنا عمرؓ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس چار تلواریں اور چار گھوڑے بھیجے تاکہ جنگ عراق میں کارہائے نمایاں انجام دینے والوں کو بطور اعزاز یہ تلواریں اور گھوڑے دیے جائیں۔ چنانچہ بنو اسد کے تین مرد میداں یعنی حمال بن مالک، ربیل بن عمرو بن ربیعہ اور طلیحہ بن خویلد کو تین تلواریں اور چوتھی تلوار چوتھے سرفروش یعنی حضرت عاصم بن عمرو تمیمی رضی اللہ عنہ کو اعزاز میں عطا کی گئی اور گھوڑوں میں سے ایک گھوڑا حضرت قعقاع بن عمرو تمیمی رضی اللہ عنہ کو اور تین گھوڑے ان یربوعی حضرات کو دیے گئے، جنہوں نے معرکہ اغواث کی شام بہادری کے بے مثال جوہر دکھائے تھے۔
(خلافۃ الصدیق والفاروق، الثعالبی: صفحہ 253)
یہ ہیں مجاہدین اسلام کے عزم و حوصلے کو بلند کرنے اور ان کے مجاہدانہ کارناموں میں نکھار لانے کے فاروقی وسائل جن سے عظیم و شریف ترین مقاصد کا حصول مطلوب تھا۔