شیعہ کی جارحیت اور مولانا حق نوازؓ کی جدوجہد کا آغاز
ابو ریحان فاروقیشیعہ کی جارحیت اور مولانا حق نوازؓ کی جدوجہد کا آغاز:
تاریخِ اسلام: کی ورق گردانی کرنے والا ہر انسان اس حقیقت سے واقف ہے کہ عبداللہ ابنِ سبا کی ستم کاریوں سے لے کر بغداد کے ابنِ علقمی تک مصر کے ابنِ طالوت عراقی سے لے کر ایران کے میمون القداح بن دیصان تک بغداد کے معز الدولہ سے لے کر قم کے حسن بن صباح حمیری تک شیعہ کا ہر سرغنہ اسلام کے سینے کو چھیدتا رہا ایک طرف سیّدنا عثمان غنیؓ کی شہادت دوسری طرف خود سیّدنا حسینؓ پر تیشه کاری کہیں بغداد کی تارا جی اور کہیں صلاح الدین ایوبی کے خلاف سازشوں کی گہرائیاں ایک طرف فاطمیوں کی تعدی تو دوسری طرف سلجوقیوں کا تجاوز وہاں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ تو یہاں مغلیہ دور میں نور جہاں کا تفوق میرجعفر رافضی کے ہاتھوں سراج الدولہ کا قتل ہوا تو میرصادق سبائی کے دست ستم کش سے ٹیپو سلطان کی گردن کاٹی گئی الغرض کس کس عہد کی ابتلاؤں کا رونا رویا جائے کس کس دور کے المیے کی تاریخ یاد کر کے اشک بہائے جائیں صنفِ نازک کے ذریعے ہر عہد کے شیعہ نے مسلم حکمرانوں کے دماغوں کو ماؤف کیا حرص و آز کے دریچے کھول کر مذہبی پیشواؤں کو ہمنواء بنایا برصغیر میں انگریزی استبداد کو خوش آمدید کہہ کر نو نو سو مربع زمین الاٹ کرانے والے رافضی جاگیرداروں نے عہد ماضی کی تاریخ کو دہرایا اسلام کے نام پر اہلِ اسلام میں اثر و نفوذ کیا غریب مسلم عوام سنیت کی رواداری اور اعتدال و مصلحت کی بھینٹ چڑھتے رہے شیعہ نے مسلم قومیت میں اس قدر گہرا رشتہ استوار کر لیا کہ امام مالکؒ کے فتاویٰ شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی تصریحات امام غزالیؒ کی وضاحتیں ابنِ تیمیہؒ کا واویلا حضرت مجدد الف ثانیؒ کا غوغا مولانا عبدالشکور لکنھویؒ کی چیخ و پکار بھی ان کفر کے اماموں کو امت مسلمہ سے علیحدہ نہ کرسکی بلاشبہ ان اکابرین کے اتمامِ حُجت اور محنت شاقہ نے ایک عظیم مسلم طبقے کے ایمان کی حفاظت کی اور اسلام اور کفر کی حد فاصل کو واضح کیا اس طرح قیامِ پاکستان کے بعد بھی شیعہ ایک مسلم فرقے کے طور پر ملتِ اسلامیہ کوفریب دیتے رہے شیعہ اور مسلمانوں کے جغرافیائی روابط اور تمدنی الصاق و ارتباط نے علماءِ حق کی چیخ و پکار کو درخور اعتناءنہ سمجھا بلاشبہ قیامِ پاکستان کے بعد سے لے کر آج کے بڑے بڑے علماء تک مختلف جماعتوں کے ذریعے کئی شخصیتوں نے اصحابِ رسولﷺ کی تعلیمات کے فروغ میں قابلِ قدر خدمات سرانجام دیں ایک حد تک امتِ مسلمہ کی اکثریت علماء کی اسی جدوجہد کی وجہ سے شیعہ کے دجل و تلبیس سے محفوظ رہی پاکستان کے بعض علاقوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ماں بہن کی ننگی گالیاں دی گئیں تحریر و تقریر کے ذریعے رفقائے نبوت کو کافر مرتد بدمعاش زانی شرابی خائن اور ہر قسم کے من گھڑت الزامات کا مورد ٹھرایا گیا قرآن کی 700 آیات کے مطابق دنیا کی جو جماعت قدسی الاصل اور محمدیﷺ شریعت کے عینی گواہوں کی حیثیت رکھتی تھی اسے دنیا کی سب سے بدترین
جماعت کہا گیا غلاظت و کثافت کی یہ سڑاند تو شیعہ مذہب کے بانی عبداللہ بن سبا کے دور سے ہی مسلم معاشرے کو متعفن کرتی رہی تھی لیکن اس غلیظ اور بدبودار لٹریچر کو 13 زبانوں میں شائع کر کے دنیا بھر میں پھیلانے اور اپنے اصلی چہرے سے نقاب کھول کر خود کو آشکار کرنے کا سہرا عہد حاضر کے نام نہاد ایرانی پیشواء جناب خمینی صاحب کے حصہ میں آیا 11 فروری 1979 ء کو خمینی کے شیعہ انقلاب نے سینکڑوں برس کی بادشاہت کا خاتمہ کر کے جب اقتدار پر قبضہ جمایا تو امت مسلمہ کے ایک طبقے نے شاہِ ایران کی زیادتیوں کے باعث خمینی کے اسلامی دعوؤں سے ایسا فریب کھایا کہ وہ عصر حاضر کے ابنِ سباء اسلام کی بنیادوں کو منہدم کرنے والے اس دشمن اسلام کی کارگزاری کو اسلامی انقلاب قرار دینے لگے ایرانی انقلاب کی سالگرہ کے نام پر ہر سال جب یہاں کے بعض علماء اور اعتدال و مصلحت کے شکار چند دینی پیشواؤں کو ایران جا کر قریب سے "خمینیت" کو دیکھنے کا موقع ملا تو ان میں بیشتر بلبلا اٹھے غلط فہمی کا شکار ہونے والے ایک بڑے طبقے نے کھلے عام ایرانی انقلاب کو خالص شیعہ انقلاب قرار دیا رفتہ رفتہ ایرانی ذرائع ابلاغ ہی کے ذریعے ان کی اسلامیت کی قلعی کھلنے لگی خانہ کعبہ میں ہنگامہ آرائی عراق کے خلاف جنگ میں ایران کی ہٹ دھرمی اور پوری اسلامی دنیا کے موقف سے انحراف نے دنیا بھر میں خمینی اور اس کے حواریوں کے چہرے سے نقاب اتار کر اسے چوراہے میں ننگا کر دیا ایرانی ریڈیو اور ٹیلیویژن کا پروپیگنڈہ اس زور سے جاری رہا کہ 44 اسلامی ملک بشمول پاکستان ایران کی خمینی حکومت کو ملتِ اسلامیہ کا ایک حصہ گردانتے رہے جناب خمینی کے انقلاب نے دنیا کے ایک طبقہ کو اپنی طرف متوجہ ضرور کیا لیکن خمینی کے اپنے خطبات اور ان کی تصانیف جب مختلف ملکوں میں پہنچیں تو دنیائے اسلام ورطۂ حیرت میں ڈوب گئی دنیا بھر سے مختلف آراء سامنے آنے لگیں مسجدوں کے حجروں میں تبصرے ہوتے رہے جلسوں اور کانفرنسوں میں دبے لفظوں میں اختلاف کی چنگاری پھوٹنے لگی تاہم ایرانی حکومت نے ریڈیو ٹیلی ویژن اور اخبارات کے علاوہ دنیا بھر میں خانہ فرہنگ ہائے ایران کے نام پر تمام مسلم اور غیر مسلم ممالک میں ایسے سازشی سینٹر قائم کئے کہ جنہوں نے ایک طرف صحابہ کرام عضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف متعلقہ ممالک کی زبانوں میں لٹریچر کے انبار لگائے تو دوسری طرف ہر ملک کی شیعہ اقلیت کو سرمایہ اور اسلحہ فراہم کیا نتیجتاً دنیا بھر میں ایران کے شیعہ انقلاب کو برآمد کرنے کی مہم زور شور سے جاری رہی بد قسمتی سے دنیا کے تمام اسلامی ممالک میں کوئی حکومت مذہبی اور دینی اقدار کے احیاء میں اس قدر حساس اور اور مہم جو نہ تھی جو ایران کے اس طوفانی لٹریچر اور پر پیگنڈے کا مؤثر جواب دیتی شیعہ کی ایک مذہبی حکومت خود اپنے سبائی اور شیعی نظریات کو عین اسلام قرار دینے کیلئے کبھی لا شرقیہ و لا غربیہ اسلامیہ اسلامیہ کا نعرہ لگاتی رہی کبھی امریکی اور روسی سامراج کے خلاف اعلانِ جنگ سے امت مسلمہ کے ایک طبقے کو گمراہ کرتی رہی کبھی شیعہ سنی اتفاق و اتحاد کا واویلا کرتی رہی ایک طرف وہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے اتحاد کی دعویدار بن رہی ہے دوسری طرف سیّدنا ابوبکر صدیقؓ سیّدنا عمرؓ اور سیّدنا عثمان غنیؓ کو کافر اور زندیق لکھتی رہی ایک طرف تمام امت مسلمہ ایک ہے کا راگ الاپتی رہی دوسری طرف ایران کی 34 فیصد سُنی آبادی کو ایک مسجد کے قیام سے سختی کے ساتھ روکتی رہی ایرانی حکومت نے ایک طرف کہا کہ شیعہ و سُنی میں جو تفریق کرتا ہے وہ نہ شیعہ ہے نہ سُنی تو دوسری طرف اپنے ہی حکومتی دستور میں اس کی دھجیاں یوں بکھیریں کہ ایران کا صدر وزیر اعظم وزراء حتیٰ کہ ایرانی پارلیمنٹ کا ممبر بھی اثنا عشری شیعہ ہی ہوگا اندریں حالات پاکستان میں جس پہلے انسان نے نہایت جرات اور بے مثال استقلال کے ساتھ کھلے عام خمینی کے کفریہ عقائد کو جلسوں اور کانفرنسوں میں آشکار کیا۔ وہ مولانا حقنواز جھنگوی شہیدؒ کی ذات گرامی تھی۔
آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے:
اذا ظهرت الفتن او البدع و سبت اصحابی فيظهر العالم علمه و ان لم يفعل ذالك فعليه لعنة الله والملائكة والناس اجمعين۔
ترجمہ: جب فتنے ظاہر ہو جائیں بدعات پھیلنے لگیں اور میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دی جانے لگیں تو عالم کو چاہیے اپنا علم ظاہر کرے اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس پر اللہ فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہوگی۔
آنحضرت ﷺ کے انہی ارشادات کا تقاضا تھا کہ تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالی دینے اور کافر قرار دینے والے گروہ کے خلاف علماء اٹھ کھڑے ہوں اپنی تمام توانائیاں اس عظیم فتنہ کی سرکوبی کے لئے صرف کریں آسائش و آرام اور عافیت و سکون کو تج کر اس کھلے کفر کو جو صرف دولت کے بل بوتے پر پروپیگنڈے کے ذریعے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ساری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے للکارا جائے اس کے کفریہ عقائد کو ہر شہر ہر کوچے ہر بستی اور ہر ملک میں کھول کر دنیا کے ایک عرب بیس کروڑ مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کی جائے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر سبِ و شتم سے علماء پر جو محمدیﷺ احکام کے مطابق ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس سے عہدہ برآ ہوا جائے ایسے حالات میں پاکستان میں اسلامی سوچ رکھنے والی ایسی کوئی حکومت نہ تھی بیورو کریس میں ہر جگہ شیعہ کے جراثیم تھے مختلف علاقوں میں شیعہ جاگیرداروں کا تسلط تھا اس عظیم مشن کی تکمیل کس طرح ممکن تھی جب ہر علاقے اور ہر شہر کے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی اسلام کے اس عظیم الشان فریضہ کی ادائیگی کو فرقہ واریت قرار دے رہے ہوں پاکستان کے تمام سیاستدان اپنی اپنی مصلحتوں اور مجبوریوں کے باعث اس خاردار وادی میں قدم رکھنے سے لرزاں ہوں اپنی اپنی چودھراہٹوں اور قیادتوں کی باہمی جنگ کو تو اصولی قرار دیتے ہوں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کھلے عام کافر قرار دینے والوں کے خلاف سخت لہجے کو ملکی حالات کی خرابی کے پر فریب الفاظ کے ذریعے ملک کے مفاد کے خلاف قرار دے رہے ہوں بہت مشکل تھا کہ کوئی شخص صرف دینی حمیت کا پیرہن اوڑھ کر کارزار میں اترے عواقب و نتائج سے بے نیاز ہو کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مدح اور ان کے دشمنوں سے نمٹنے کیلئے تنہا آتش خیرابات میں کود پڑے۔
مولانا حق نواز جھنگویؒ پاکستان کے پہلے عالم دین اور مجاہد خطیب تھے جنہوں نے بے سروسامانی کے عالم میں مشکلات کا سینہ چیر کر مصائب کے سمندر میں شناوری کی انہوں نے مسلمانوں کے سامنے شیعہ کے کفر کو ایسے واضح دلائل سے آشکار کیا کہ لاکھوں کے اجتماعات میں ایک بھی ایسا شخص نہ ہوتا تھا جو ان کی تقریر کے بعد خمینی اور اس کے حواریوں کے کافر ہونے کا انکار کرے۔
مولانا حق نواز جھنگویؒ کی قائم کردہ تنظیم سپاہِ پاکستان نے صرف پانچ سال کے مختصر عرصہ میں کالجوں سکولوں یونیورسٹیوں میں اہلِ سنت کے تمام نوجوانوں کو لاکھوں کی تعداد میں ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے اس عظیم مشن کی تکمیل کی ان کو تخریب کار فسادی فرقہ پرور کہا گیا ان کے لہجے کو سخت ان کی تقریر کو شور و غل کا عنوان دیا گیا لیکن اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ انہوں نے 15 سالہ خطابت کے دوران کوئی تقریر ایسی نہیں کی جو دلائل و براہین سے خالی ہو وہ اپنے موقف پر انتہائی مضبوط شواہد پیش کرتے وہ جانتے تھے کہ میرا مقابلہ ایک ایسے کفر کے ساتھ ہے کہ جو نہ صرف یہ کہ ریڈیو ٹیلی ویژن اخبارات سے لیس ہے بلکہ کروڑوں ڈالر ہر سال اپنے کفریہ عقائد کو اسلام ثابت کرنے پر خرچ کرتا ہے لیکن حکومتی تعاون کے بغیر بے سرو سامانی کے عالم میں امت مسلمہ کی خوابیدہ روحوں کو جس ہمت اور پامردی سے بیدار کیا وہ انہی کا حصہ تھا تاریخ کے دریچے سے جھانکنے والا ہر شخص جانتا تھا کہ سیدنا سعید بن جبیرؓ امام ابوحنیفہؒ امام احمد بن حنبلؒ حضرت مجدد الف ثانیؒ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہابؒ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور شیخ الہند محمود الحسنؒ تاریخ اسلام کی وہ درخشندہ شخصیتیں ہیں جنہیں اپنے اپنے عہد میں ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا انکے سامنے حکومتوں کے مظالم اپنوں کی بے وفائی اور ہر راہ پر کانٹوں کی مالا تھی ہر عہد آفرین شخص جب دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اس کے اخلاص وللہیت کے باعث اس کے مشن کی حقانیت سورج کی طرح آشکار ہوجاتی ہے اس کے مخالف بھی اس کے موقف کی تائید کرنے لگتے ہیں اسکو برا کہنے والے بھی اس کے مدح سرا ہوتے ہیں اس کے نصب العین سے اختلاف رکھنے والے بھی خود اس کے پروگرام کے علمبردار بن جاتے ہیں ایسی صورتِ حال شہید اسلام مولانا حق نواز جھنگویؒ کے بعد پیش آئی ہزاروں انسان ان کی قبر پر اشکبار نظر آتے ہیں ان کے مخالف بھی ان کے موقف سے یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں ان کے جنازے کے بے شمار لاکھ انسانوں میں ہر شخص دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا حکومتی پابندیوں کے باوجود اتنا بڑا جنازہ پاکستان کی تاریخ میں چند بڑے جنازوں میں سے ایک تھا سپاہِ صحابہؓ کے قیام کے بعد 6 ستمبر 1984 ء سے مولانا حق نوازؒ خمینی کے کفریہ عقائد کھلے دجل و فریب اور ان کے حواریوں اور پیشواؤں کی غلیظ تحریروں کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں آگئے تھے انہوں نے صرف 5 سال میں پاکستان میں ایسی فضا تیار کر دی تھی کہ عامتہ الناس میں خمینی اور ان کے ہمنواؤں کی صفائی پیش کرنا مشکل ہوگیا تھا ان کے اس چیلنج نے شیعہ کو ایسا لاجواب کر دیا وہ دلائل کا سامنا نہ کرسکے اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ان کے قتل پر اتر آئے۔
مولانا حق نواز کا چیلنج یہ تھا۔
پاکستان اور دنیا بھر کے شیعو میں نے تمہارے کفریہ عقائد اور اسلام کے لبادے کو تار تار کر دیا ہے تمہیں میری تقریروں اور میری جماعت کی بڑھتی ہوئی ترقی سے بے حد تکلیف ہے میں جو کہتا ہوں وہ تمہاری کتابوں میں موجود ہے تمہارے امام خمینی نے سیدنا عمرؓ اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کافر اور مرتد لکھا ہے اگر تم سمجھتے ہو کہ میں غلط کہہ رہا ہوں تو تم ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ میں میرے خلاف دعویٰ کرو کہ حق نواز ہمیں بلاوجہ کافر قرار دے رہا ہے حالانکہ ہم مسلمان ہیں۔
اگر عدالت کے کٹہرے میں میں تم کو تمہارے عقائد و کتابوں کی روشنی میں کافر ثابت نہ کرسکا تو مجھے عدالت ہی میں گولی مار دی جائے میرا خون تمہارے لئے معاف ہے مولانا حق نواز شہیدؒ کے اس چیلنج نے پاکستان اور ایران کے شیعہ میں کھلبلی مچادی تھی ان کے پیہم دلائل ایسے مضبوط ہوتے تھے کہ آج تک خمینی کا کوئی ہمنوا ان کے چیلنج کا جواب نہ دے سکا بالاخر ان کو حق گوئی کی پاداش میں گولیوں سے چھلنی کر کے شہید کر دیا گیا۔
مولانا حق نواز کا مکمل تعارف:
ابتدائی تعلیم تبلیغی جد وجہد روافض کے خلاف کام کی تاریخ شہادت:
وطن پیدائش ابتدائی تعلیم: حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شهیدؒ چاہ کچھی والا موضع چیلہ تھانہ مسن تحصیل و ضلع جھنگ کے مقام پر پیدا ہوئے جو دریائے چناب اور دریائے جہلم کے سنگم پر واقع ہے ضلع جھنگ ایک انتہائی پسماندہ ضلع ہے یہاں بہتر تعلیمی سہولتیں اور ذرائع آمد و رفت دیگر قریبی اضلاع کے مقابلہ میں آج بھی بہت محدود ہیں مولانا شہیدؒ کا علاقہ تو بہت ہی زیادہ پسماندہ ہے جب مولانا نے اس علاقہ میں آنکھ کھولی تو اس علاقہ میں کوئی پختہ سڑک نہ تھی ریلوے اسٹیشن چنڈ بھی وہاں سے تقریباً دس میل کے فاصلہ پر تھا علاقہ بجلی سے محروم تھا زراعت کے اعتبار سے آبپاشی کے وسائل سیلابی پانی یا بارش کے سوا نہ تھے نہ نہری پانی تھا نہ کوئی ٹیوب ویل اکثر علاقہ دریائے جہلم کے طوفانی اور کبھی کبھار دریائے چناب کی طغیانی کا بھی شکار ہو جاتا ہے سیاسی لحاظ سے یہ علاقہ شاہ جیونہ کے شیعہ جاگیرداروں کی سیاسی اجارہ داری کی چکی میں پس رہا تھا چیلہ میں ایک مڈل سکول تھا دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے پورے ضلع میں کوئی ایسا ادارہ نہ تھا جہاں سے قرآنُ و حدیث کی تعلیم کی تکمیل کی جاسکے البتہ درجۂ حفظ و قرآن کی حد تک دیہاتوں اور شہر میں متعدد ادارے موجود تھے ضلع جھنگ رافضیت اور قادیانیت کے فتنوں کا ہیڈ کوارٹر تھا ایسے تاریک ماحول میں اللہ تعالیٰ نے موضع چیلہ میں علم و حکمت کا ایک انتہائی روشن ستارہ نمودار کیا جس نے اس ضلع میں خصوصاً اور پورے ملک میں عموماً ہر شعبہ میں تاریکی دور کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
خاندان: حضرت مولانا حق نواز شہیدؒ سپرا جٹ قوم کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے آپ کے والد صاحب کا نام ولی محمد تھا آپ کے علاوہ 2 بھائی اور ہیں بڑے بھائی کا نام شیر محمد آپ سے چھوٹے بھائی کا نام شمس الحق ہے جبکہ سات بہنیں بھی موجود ہیں آپ جب ایک سال کے تھے تو آپ کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوگیا تھا آپ کے بھائی شمس الحق سوتیلی والدہ سے ہیں آپ کے والد علاقہ کے مشہور کھوجی تھے اور چوروں کی نشاندہی کرنے میں منفرد مقام رکھتے تھے صرف 18 ایکڑ رقبہ ہے جس میں مولانا شہید سمیت 3 بھائی اور سات بہنوں کا حصہ ہے مولانا کے بھائی اس رقبہ کو خود کاشت کرتے ہیں مولانا شہیدؒ کی شادی مارچ 1977 ء میں اپنے ننھیال میں ہوئی اور اب مولانا شہیدؒ نے ایک بیوہ اور تین بیٹے چھوڑے ہیں بڑا بچہ اظہار الحق ہے جو تقریباً 10 ۔ 12 سال کا ہے اس سے چھوٹا حسنین معاویہ جو تقریباً 8 سال کا ہے اور سب سے چھوٹا مسرور نواز جو تقریباً 3 سال کا ہے یہ عجیب اتفاق ہے کہ تینوں بچوں کی پیدائش کے وقت مولانا جیل میں تھے مولانا شہیدؒ کو اپنے اہلِ خاندان سے بڑی محبت تھی لیکن یہ محبت ان کے مشن کی راہ میں کبھی بھی رکاوٹ نہ بنی۔
عمر: مولانا شہید 1952 ء میں پیدا ہوئے اور 22 فروری 1990 ء بروز جمعرات کو سوا آٹھ بجے شہید کر دیئے گئے اس طرح مولانا کی عمر 38 سال بنتی ہے مولانا کی یہ بہت بڑی سعادت ہے کہ ان کو فضیلتوں والی رات یعنی شب جمعہ میں شہید کر دیا گیا ان کا
جنازہ سید الایام جمعتہ المبارک کو عصر کے وقت ہوا اور تدفین عظیم رات شب معراج میں ہوئی نماز جنازہ حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ نے پڑھائی۔
تعلیم و اساتذه: مولانا شہدؒ کے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ مڈل اسکول چیلہ سے حاصل کی پرائمری تعلیم کے بعد اپنے ہی گاؤں میں اپنے ماموں حافظ جان محمد سے دو سال میں قرآن پاک حفظ کیا پھر مسجد شیخاں والی عبد الحکیم ضلع خانیوال میں قاری تاج محمود صاحب سے علم قرات حاصل کیا اور اس کے بعد ملک کی معروف دینی درسگاہ دار العلوم کبیر والا ضلع ملتان سے تفسیر حدیث فقہ ادب تاریخ فلسفہ منطق صرف و نحو کے علوم حاصل کئے آپ نے 1971 ء میں دورہ حدیث کی تکمیل معروف دینی ادارہ خیر المدارس ملتان سے کی دوران تعلیم ہی آپ نے کوٹ ادو ضلع مظفر گڑھ میں رئیس المناظرین حضرت مولانا دوست محمد قریشیؒ اور مولانا عبد الستار صاحب تونسوی مدظلہالعالی سے علم مناظرہ حاصل کیا آپ کے اساتذہ کرام میں حضرت مولانا محمد شریف کاشمیری صاحبؒ حضرت مولانا محمد صدیق صاحب صوفی محمد سرور صاحب مولانا منظور الحق صاحب مولانا ظہور الحق صاحب جیسے متجر عالم شامل ہیں۔
عملی زندگی اسلامی خدمات: تعلیم سے فراغت کے بعد مولانا شہیدؒ ملک میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کے لئے جمیعت العلماء اسلام میں شامل ہوئے اور میں مولانا شہیدؒ کا ٹوبہ میں ایک دینی مدرستہ میں بطورِ مدرس تقرر ہوا اور بعد میں پنجاب کے نائب امیر بنے۔
1974 ء میں جامع مسجد پیلیانوالی جھنگ صدر جس کا نام اب جامع مسجد حق نواز شہیدؒ رکھ دیا گیا ہے میں بطورِ خطیب تشریف لائے آپ کی خطابت کا انداز ایک منفرد حیثیت کا حامل تھا آپ کی تقریر قصوں کہانیوں یا لطیفوں پر مبنی نہ ہوتی تھی بلکہ آپ کسی بھی موضوع پر اس کے بنیادی فلسفہ کو قرآن و حدیث کی روشنی میں عام فہم اور مضبوط دلائل سے مزین کر کے عوام کو ذہن نشین کراتے تھے اس عجیب انداز خطابت کی بناء پر آپ ایک محلہ کی مسجد کے خطیب نہ رہے بلکہ بہت جلد پورے شہر کے خطیب بن گئے دور دور کے محلوں سے لوگ آکر حضرت مولاناؒ کی خطابت سے مستفیض ہوتے تھے اور یہ معاملہ یہاں تک بڑھا کہ اب تو ہر جمعہ کو نہ صرف دیہاتوں کے عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد تشریف لاتی تھی بلکہ اکثر فیصل آباد ٹوبہ سرگودها ملتان خانیوال و دیگر اضلاع کے لوگ مولانا شہیدؒ کی تقریر سننے کیلئے تشریف لاتے تھے مولانا کی تقاریر سے صرف عوام الناس ہی مستفید نہ ہوتے تھے بلکہ علماء کرام بھی اپنی مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مولانا کی مسجد میں تشریف لاکر مولانا کی تقریر سماعت فرماتے تھے اور اپنے آپ کو نئے اور مضبوط دلائل سے مزین فرماتے تھے مولانا نے ابتداء میں توحید و رسالت کے موضوعات پر بڑی محنت فرمائی لیکن بہت جلد یہ محسوس کیا کہ جب تک نبوت کے گواہاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت کو تسلیم نہ کرا لیا جائے اس وقت تک کوئی مسئلہ تسلیم نہیں کرایا جاسکتا مولانا شہیدؒ کا اس مسئلہ کی طرف بھر پور توجہ دینے کی وجہ جھنگ کے مخصوص مذہبی اور سیاسی حالات بھی تھے پورے ضلع میں تمام بڑے زمیندار شیعہ نظریات کے حامل تھے اور اہلِ سنت ہر لحاظ سے سیاسی جبرو استبداد کی چکی میں پس رہے تھے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر سرعام تبر بازی کی جاتی تھی۔
1960 میں حسو بلیل میں سیدنا عمرؓ کا پتلا جلایا گیا تھا روڈو سلطان میں مولانا دوست محمدؒ کو شیعوں نے شہید کر دیا تھا۔ 1969 ء میں جھنگ شہر میں باب عمر کا سانحہ پیش آچکا تھا جہاں مولانا شیریںؒ سمیت 5 اہلِ سنت شہید ہوئے تھے اور پھر 1970 ء کا الیکشن پورے ضلع میں اہلِ سنت نظریات کی بنیاد پر جیتا گیا تھا ککی نو تحصیل شور کوٹ میں شیعوں نے حافظ محمد نوازؒ کو تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا تھا ان حالات کی وجہ سے حضرت مولانا شہیدؒ نے عظمتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تسلیم کرانے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف ہر قسم کی تقریری و تحریری تبرا بازی کا خاتمہ کرانے کیلئے اپنی تمام تر توجہ اس مسئلہ پر مرکوز فرمادی مولانا شہیدؒ نے تمام دیوبندی بریلوی اور اہلِ حدیث علماء کرام اور عوام الناس کو اپنے فروعی اختلافات کو نظر انداز کر کے شیعیت کے عظیم اور خطرناک ترین فتنہ کی سرکوبی کے لئے متحد ہونے کی دعوت دی اور ان کو ایک سٹیج پر لانے میں اکثر کامیاب ہوئے تحفظ ناموس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام سے ایک کمیٹی بنائی جس میں تینوں مکاتبِ فکر کے دو دو علماء کرام شامل تھےجو کافی عرصہ تک اس فتنہ کے خلاف کام کرتی رہی لیکن اس کی جدوجہد صرف اپنے شہر تک یا زیادہ سے زیادہ اپنے ضلع تک محدود تھی اس سے آگے وہ اپنا دائرہ کار نہ بڑھا سکی مولانا شہیدؒ نے بزمِ امیر شریعت بھی قائم کی تھی لیکن وہ بھی محرم میں احرار پارک کا سالانہ جلسہ یا کسی اور جلسہ کے انعقاد کی حد تک رہی ایران میں خمینی کی حکومت آجانے کے بعد پاکستان میں بھی شیعوں کی ریشہ دوانیاں حد سے بڑھنے لگیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف تبرا بازی پر مشتمل اردو زبان میں ایرانی لٹریچر کی بھرمار ہونے لگی گڑھ مہاراجہ میں قرآنِ پاک کو آگ لگائی گئی ڈیرہ غازی خان میں مولانا شہیدؒ نے ایرانی انقلاب اور خمینی نظریات پر کڑی تنقید کی تو ان کے خلاف مارشل لاء ضوابط کے تحت مقدمہ بنا کر ڈیرہ غازی خان جیل میں قید کر دیا گیا ان حالات میں مولانا شہیدؒ نے محسوس کیا کہ اس فتنہ کا مقابلہ کرنے کے لئے نوجوانوں پر مشتمل ایک مستقل جماعت قائم کی جائے۔
سپاهِ صحابہؓ پاکستان: چنانچہ 20 ذی الحجه 1405 ھ بمطابق 6 ستمبر 1985 کو اپنی مسجد میں ہی سپاہِ صحابہؓ پاکستان کی بنیاد رکھی یہ شروع میں تو صرف ایک محلہ کی تنظیم تھی لیکن بہت جلد پورے ملک کی ایک بہت بڑی بلکہ کارکنوں کے اعتبار سے ملک کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم بن گئی سپاہِ صحابہؓ نے ابتداء میں ہی جھنگ میں ایک عظیم الشان تاریخی دفاعِ صحابہؓ منعقد کر کے مقبولیت و محبوبیت حاصل کرلی اور سپاہِ صحابہؓ کے موجودہ قائد مولانا ضیاء الرحمن فاروقی جیل میں تھے جلسہ کے شرکاء نےدھمکی دی کہ اگر آج شام تک مولانا فاروقی کو رہا نہ کیا گیا تو شاہراہ بند کر دی جائے گی لہٰذا رات ہی کو مولانا فاروقی کو رہا کر دیا گیا اور کانفرنس میں آخری خطاب انہی کا ہوا جو رات 2 بجے سے تین بجے تک جاری رہا اس مقبولیت سے خائف ہو کر سپاہِ صحابہؓ کے ذمہ دار افراد بشمول امیر عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگویؒ خلاف شیعوں نے گھناؤنی سازشیں شروع کر دیں اور 31 مئی 1986 ء بمطابق 21 رمضان المبارک 1406 ھ جھنگ کے شیعوں نے اپنا ایک آدمی خود ہی قتل کر کے مولانا شہیدؒ سپاہِ صحابہؓ کے مرکزی صدر شیخ حاکم علی اس وقت مرکزی جنرل سیکرٹری نسیم صدیقی جھنگ کے سابق ایم پی اے شیخ محمد یوسف کے دو صاحبزادوں سمیت سترہ افراد کے خلاف قتل کا جھوٹا مقدمہ قائم کر کے فیصل آباد جیل میں پابند سلاسل کر دیا گیا جس سے پورے ملک میں اہلِ سنت میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی جوں جوں محرم قریب آتا گیا بےچینی بڑھتی گئی آخر شیعوں کے سر کردہ افراد نے محرم پر ماتمی جلوسوں کے عدمِ تحفظ کے خدشہ کی بناء پر اکابر اہلِ سنت سے خود درخواست کر کے ایک معاہدہ کیا جس میں شیعوں نے ہر قسم کی تبرا بازی بند کرنے کی پابندی قبول کی اور اہلِ سنت کے امیران رہا ہوئے یہ معاہدہ سپاہِ صحابہؓ کی بہت بڑی کامیابی تھی۔
سپاہ صحابہؓ کے قائد حضرت مولانا حق نواز جھنگویؒ کے خلاف پورے ملک میں 16 ایم پی او دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات کا ایک جال بچھا دیا گیا گرفتاریاں نظر بندیاں زبان بندیاں ایک معمول بن گیا بیک وقت مقدمات کا شمار ایک سو سے تجاوز کر چکا تھا لیکن مولانا شہیدؒ کے پائے استقامت میں ذرا سی بھی لغزش نہ آئی آپ نے اپنے مشن میں ذرہ بھر بھی لچک پیدا نہ کی اس استقامت و عزیمت کو سراہتے ہوئے سپاہِ صحابہّ کے ایک اہم اور بھر پور اجلا میں سپاہِ صحابہؓ کے ایک اور معزز رکن اکرام الحق صدیقی نے حضرت مولانا شہیدؒ کے لئے امیر عزیمت کا خطاب تجویز کیا جسے ہاؤس نے متفقہ طور پر منظور کر لیا اور پھر اس خطاب کو ایسی مقبولیت حاصل ہوئی کہ شہادت تک حضرت مولانا شہیدؒ کی دیگر صفات میں یہ خطاب سب سے زیادہ نمایاں اور معروف تھا شہادت کے بعد اب اس سے بھی بہتر خطاب "شہید ناموسِ صحابہؓ " کا اضافہ ہوا امیر عزیمت حضرت مولانا حق نواز شهیدؒ رخصت پر عمل فرما سکتے تھے لیکن آپ نےتادم زندگی عزیمیت کو اختیار فرما کر امیر عزیمت ہونے کا حق ادا فرما دیا۔
سانحہ لیہ: 13 جون 1987ء کا سانحہ یہ مولانا شہیدؒ کی زندگی کا ایک عظیم سانحہ تھا جمن شاہ ضلع لیہ میں جامع رحمانیہ کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد میں مولانا شہیدؒ نے اپنے مخصوص عنوان اور انداز میں تقریر فرمائی جلسہ بعافیت ختم ہوگیا لیکن لیہ انتظامیہ نے بلا جواز رات کی تاریکی میں گھروں پر چھاپے مار کر گرفتاریاں شروع کر دیں مولانا شہیدؒ ان کے ڈرائیور محمد مقبول سپاہِ صحابہؓ لیہ کے سرپرست مولانا عبد الصمد آزاد شہیدؒ اور صدر قاری محمد منور سمیت کافی افراد گرفتار کر لئے گئے مولانا شہیدؒ مولانا آزاد اور قاری محمد منور کو ملتان جیل میں نظر بند کر دیا گیا ضلعی انتظامیہ لیہ کو حالات کی درستگی کے لئے سپاہِ صحابہؓ کے مرکزی صدر شیخ حاکم علی جنرل سیکرٹری محمد یوسف مجاہد و کنویز پنجاب مولانا محمد ایثار القاسمی شہیدؒ ایم این اے جھنگ نے ایک ہفتہ کی مہلت دی اور حالات کی سنگینی کا احساس دلایا لیکن نااہل انتظامیہ نے کوئی مثبت کارروائی نہ کی آخر 19 جون 1987ء کو سپاہِ صحابہؓ کی اپیل پر ایک بہت بڑا لیکن پر امن جلوس لیہ کی طرف مولانا ضیاء الرحمن فاروقی کی قیادت میں روانہ ہوا راستہ میں چوبارہ کے مقام پر جلوس روکے جانے کی وجہ سے مشتعل عوام نے اسٹنٹ کمشنر تحصیل چوبارہ کو اغواء کرلیا تب ضلعی انتظامیہ لیہ کو حالات کی سنگینی کا احساس ہوا اور انہوں نے اپنے اے سی کے بدلہ مولانا شہیدؒ کو فوراََ رہا کرنے کا وعدہ کیا یہ عظیم الشان جلوس پر امن طریقہ سے لیہ سے واپس جھنگ آرہا تھا کہ چند خبیث اور نا اہل شیعہ پولیس افسران نے چوک اعظم اور چوبارہ کے درمیان گھیرے میں لے کر جلوس پر انتہائی ظالمانہ طریقہ سے اندھا دھند فائرنگ کر کے تین افراد ضیاء الرحمن ساجد (فیصل آباد) محمد بخش (کبیر والا) اور صوفی عبدالغفار (عبدالحکیم) کو موقعہ پر شہید کر دیا اس ظلم و بربریت پر کراچی سے خیبر تک زبردست احتجاج ہوا ضلعی انتظامیہ لیہ کے خلاف قانونی اور عدالتی چارہ جوئی کی گئی آخر ڈی سی لیہ اور حکومت پنجاب گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی مولانا شہیدؒ مولانا عبد الصمد آزاد اور قاری محمد منور کی نظر بندی کا خاتمہ اور تمام مقدمات میں رہائی کا فیصلہ کیا گیا اور ضلعی انتظامیہ ملتان خود اپنی نگرانی میں گاڑیوں کے ایک طویل جلوس کی شکل میں اپنی ضلعی حدود تک پہنچا کر گئی مولانا کو ملتان جیل سے مورخہ 27 اگست1987 ء کو رات 8 بجے رہا کیا گیا تھا لیکن راستہ میں جگہ جگہ کارکن استقبال کیلئے موجود تھے اسلئے جگہ جگہ رکنا پڑا اس طرح رات کو 2 بجے ایک بڑے جلوس کی شکل میں جھنگ پہنچے کارکنان کی محبت و عقیدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کارکنان نے وہ کار جس میں مولانا تشریف فرما تھے اپنے کندھوں پر اٹھالی۔
سانحہ پرانی عیدگاه: ملتان جیل سے رہائی کے اگلے روز جمعہ تھا مولانا کی رہائی کی خبر ایک روز قبل اخبارات میں آ چکی تھی چنانچہ نماز جمعہ میں شرکت اور مولانا شہیدؒ سے ملاقات کے لئے ملک کے طول و عرض سے ہزاروں نوجوان تشریف لائے ہوئے تھے کہ محلہ کی گلیوں میں دور دور تک نماز کی صفیں بنانی پڑیں شیعیت سربگریباں تھی کہ اس طوفان کا مقابلہ کیسے کیا جائے چنانچہ ازلی سازشی طبقہ نے فوراً ایک نئی سازش تیار کی اور اہلِ سنت کے دو بڑے گروہوں میں غلط فہمیاں پیدا کر کے ان کو آپس میں لڑا دیا جس کے نتیجہ میں اہلِ سنت (بریلوی مسلک) کے دو افراد قتل ہوگئے اس بات کے قوی شواہد موجود ہیں کہ وقوعہ کے وقت مہدی قصائی اور شاقا قاضی جو انتہائی شر پسند شیعہ ہیں فائرنگ کرتے دیکھے گئے بہرحال شیعیت اپنی سازش میں کامیاب ہوئی جانی نقصان بھی اہلِ سنت کا ہوا اور قتل کے جرم میں گرفتار بھی اہلِ سنت ہی ہوئے ایک مرتبہ پھر مولانا حق نواز جھنگویؒ اور سپاہِ صحابہؓ کے مرکزی صدر شیخ حاکم علی جنرل سیکرٹری محمد یوسف مجاہد اور ناظم دفتر شیخ محمد اشفاق چودھری طارق افضال کو مقدمہ قتل میں ملوث کر دیا گیا ہزاروں افراد اس بات کے گواہ تھے کہ سپاہِ صحابہؓ کے قائدین کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن شیعیت نے پس پردہ رہ کر مولاناؒ کو گرفتار کرا لیا اسی طرح شیخ حاکم علی محمد یوسف مجاہد اور شیخ محمد اشفاق پر انتہائی ظالمانہ تشدد کیا گیا اور ان تینوں کو بھی مولاناؒ کے ساتھ ہی میانوالی جیل میں نظر بند کر دیا گیا مولانا شہیدؒ اور ان کے ساتھیوں نے اس ظلم کو بڑے تحمل اور بردباری سے برداشت کیا اور 12 میں سے 10 افراد ضمانت پر رہا ہو گئے جبکہ شیخ حاکم علی اور چودھری طارق افضال تقریباََ ساڑھے تین سال تک جیل میں رہے اور آخر اہلِ سنت کی آپس میں صلح ہونے پر انتظامیہ کو انہیں رہا کرنا پڑا۔
قاتلانہ حملے اور شہادت: ان تمام مصائب و مشکلات کے باوجود مولانا شہیدؒ اور سپاہِ صحابہؓ بڑی سرعت کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہے اور اب عالمی دفاعِ صحابہؓ کانفرنس کی تیاری کی جا رہی تھی تاکہ شیعیت کے خلاف پورے عالم اسلام کی ایک آواز بن کر ابھرے اب شیعیت یہ محسوس کرچکی تھی کہ مولانا حق نواز جھنگویؒ کو ہمیشہ کے لئے اپنے راستے سے ہٹائے بغیر پاکستان میں ایرانی انقلاب کا راستہ ہموار نہیں کیا جاسکتا چنانچہ نئی حکمت عملی کے تحت ان پر قاتلانہ حملے کئے گئے پہلا حملہ مورخہ89ـ10ـ29 کو جھنگ سرگودھا روڈ پر ہوا جس کا پرچہ درج کرا دیا گیا فقہ جعفریہ کے قائد ساجد نقوی جھنگ کا شیعہ عالم غلام عباس نجفی ایم پی اے سید ظفر عباس شاہ اور عابدہ حسین ایم این اے کے نام نامزد کئے گئے تھے لیکن اس ایف آئی آر کا کوئی ملزم بھی گرفتار نہیں کیا گیا چند دن بعد 90۔1۔25 کو جڑانوالہ کا ایک شخص طفیل علی مولانا شہیدؒ کے گھر مولانا کے قتل کے ارادہ سے داخل ہوا جس کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا لیکن اس کے اقبالِ جرم کے باوجود اس سے بھی کوئی مزید پوچھ گچھ نہ کی گئی 15 فروری 1990ء کو مولانا شہیدؒ کو بیرون ملک سے ایک فون آتا ہے جس میں مطلع کیا جاتا ہے کہ ان کے مولانا عبدالستار تونسویؒ اور مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کے قتل کے منصوبہ کی بین الاقوامی سازشیں تیار کی جاچکی ہیں مولانا شہیدؒ نےمورخہ 16 فروری کے جمعہ کے خطبہ میں حکومت کو خبردار کیا کہ اس سازش کو ناکام بنایا جائے مولاناؒ نے اس سلسلہ میں صدر پاکستان جناب غلام اسحاق خان صاحب کو ایک خط بھی لکھا کیونکہ مولاناؒ سمجھتے تھے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں باہمی چپقلش کی وجہ سے کوئی بھی تعمیری کام نہیں کر رہی ہیں اس لئے انہوں نے یہ خط صدرِ پاکستان کو لکھا تھا جو یقیناً ان کو مل گیا ہوگا لیکن شاید ان کے عملہ میں موجود کسی شیعہ نے یہ خط خرد برد کر لیا ہو البتہ یہ بات قطعی ناقابل یقین ہے کہ ضلعی انتظامیہ تک 6 روز گزر جانے کے بعد بھی مولاناؒ کی تقریر کی رپورٹ نہ پہنچی ہو جبکہ مولانا ؒ کی ہر تقریر کی رپورٹ کے لئے کئی سرکاری ایجنسیاں ہمیشہ موجود ہوتی تھیں مولانا حق نواز شہیدؒ کو مورخه 22 فروری 1990ء کو رات سوا آٹھ بجے ان کے مکان کے دروازے پر ریوالوار سے پے در پے گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا انا للہ وانا اليه راجعون۔
مولانا شہیدؒ کی شہادت کی خبر اندرون و بیرون ملک جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگوں میں ایک کہرام مچ گیا مولاناؒ کی شہادت کے بعد ضلعی انتظامیہ جھنگ نے جس انداز میں واقعات کو ٹمٹایا اور اہلِ سنت سے جو زیادتیاں کیں انکی وجہ سے اب یقین ہوچلا ہے کہ مولاناؒ کے انتباہ کے باوجود ان کی حفاظت کا قصداً بندوبست نہیں کیا اور ان کے قتل کی سازش میں انتظامیہ براہ راست ملوث ہے جس کا قطعی ثبوت یہ ہے کہ مولانا صاحبؒ پر 9۔10۔29 کے قاتلانہ حملہ کے بعد شہر میں ہڑتال ہوئی احتجاجی جلسہ ہوا ملزم نامزد کئے گئے لیکن کسی ایک شخص کی بھی گرفتاری نہ ہوئی دوسرے حملہ میں طفیل نامی شخص نے سرعام کہا کہ وہ مولانا حق نوازؒ کو قتل کرنے آیا ہے اس اقبالِ جرم کے باوجود اس کو چھوڑ دیا گیا واقعہ شہادت سے چھ روز قبل مولانا صاحبؒ اپنی جمعہ کی تقریر میں اپنے قتل کے منصوبہ کی نشاندہی فرماتے ہیں شہر میں بچہ بچہ کی زبان پر یہ بات عام ہوگئی تھی لیکن ضلعی انتظامیہ نے مولاناؒ کے تحفظ کے لئے کوئی معمولی اقدام بھی نہ کیا کیا یہ سارے امور اس بات کا کافی ثبوت نہ ہیں کہ ضلعی انتظامیہ مولاناؒ کے قتل میں براہِ راست ملوث تھی۔
تحاریک اور انتخابات: 1ـ مولانا شہیدؒ دار العلوم کبیر والا میں ابھی زیر تعلیم ہی تھے کہ ایوبی آمریت کے خلاف 1969ء میں پورے ملک میں تحریک چلی۔ جمعیتہ علماءِ اسلام نے بھی اس تحریک میں حصہ لیا مولاناؒ نے بحیثیت ایک کارکن اس تحریک میں حصہ لیا اور پہلی مرتبہ گرفتار ہوئے۔
2ـ 1974ء میں تحریک ختم نبوت میں بھر پور انداز میں حصہ لیا اس وقت مولاناؒ بطورِ کارکن خطیب جامع مسجد پپلیانوالی (جامع مسجد حق نواز شہیدؒ ) میں تشریف لاچکے تھے جھنگ میں اس تحریک میں حصہ لینے والے دیگر قائدین کے مقابلہ میں مولانا شہیدؒ کی تقاریر منفرد مقام رکھتی تھی اور عوام میں ایک نیا جذبہ اور لگن پیدا کر رہی تھیں اس تحریک میں بھی مولانا شہیدؒ کو گرفتار کیا گیا۔
3ـ 1978ء میں تحریک نظامِ مصطفیٰﷺ اس میں مولانا شہیدؒ نے بھٹو آمریت کے خلاف سر دھڑ کی بازی لگادی اور انہیں ایک مرتبہ پھر پس دیوار زنداں جانا پڑا۔
4ـ پاکستان میں کسی فوجی آمر کی حکومت ہو یا کسی سول آمر کی مولانا شہیدؒ نے ہر آمریت کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔ مارشل لاء دور میں بھی متعدد مرتبہ گرفتار ہوئے بحالی جمہوریت کے لئے اپنی آواز بلند فرماتے رہے لیکن اس تحریک میں اتنی احتیاط فرماتے رہے کہ جھنگ میں پیپلز پارٹی کے شیعہ لیڈروں کے ساتھ اس سٹیج پر کبھی نہیں آئے اپنی مسجد سے تحریک بحالی جمہوریت کے لئے کام کرتے رہے۔
5ـ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات ہوئے تو جمعیتہ علماءِ اسلام نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا لیکن مولاناؒ نے جماعت سے اجازت لے کر جھنگ میں عابدہ حسین اور امان اللہ خان سیال شیعہ امیدواروں کی مخالفت میں تقاریر فرمائیں اور انتخابی دورے کئے بلکہ عابدہ حسین کے مقابلہ میں ایک سنی امیدوار غلام احمد گاڈی کو مولاناؒ نےخود کھڑا کیا تاکہ عابدہ حسین بلا مقابلہ کامیاب نہ ہو جائے۔
6ـ 1988ء میں جماعتی انتخابات ہوئے تو جمعیتہ علماءِ اسلام کے ٹکٹ سے مولانا شہیدؒ نے جھنگ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 18 سے الیکشن میں حصہ لیا آپ کے مقابلہ میں شیعہ لیڈر عابدہ حسین بطورِ آزاد امیدوار اور ذوالفقار علی بخاری بطورِ امیدوار پیپلز پارٹی تھے یہ سب پرانے پارلیمیٹرین تھے مولاناؒ نے کسی بھی الیکشن میں ذاتی طور پر پہلی مرتبہ حصہ لیا تھا وسائل کے اعتبار سے مولاناؒ کا اپنے مخالفین سے کوئی مقابلہ ہی نہ تھا بہرحال مولاناؒ نے اپنے مثبت پروگرام کی وجہ سے شہر میں انتہائی مقبولیت حاصل کر لی البتہ دیہی علاقہ کی انتخابی مہم میں عدم وسائل عدم رابطہ اور وقت کی کمی کے باوجود مولاناؒ نے تقریباً چالیس ہزار ووٹ حاصل کئے اور شہری علاقہ میں اپنے مدِمقابل امیدوار سے 15000 ووٹوں کی برتری حاصل کی پڑھے لکھے لوگوں نے مولاناؒ کے موقف کو بڑی تیزی سے قبول کیا اور تعلیم یافتہ لوگوں کے ووٹ سب سے زیادہ مولاناؒ ہی کو ملے اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ریٹرنگ آفیسر کے دفتر میں جب سرکاری ملازمین کے ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ووٹ گئے تو مولاناؒ کے حق میں ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد 174 اور پیپلز پارٹی کے امیدوار سید ذوالفقار علی بخاری کے حق میں ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد صرف 54 تھی اس طرح باقی تینوں امیدواروں کے حاصل کردہ مجموعی ووٹوں سے مولاناؒ کے حاصل کردہ ووٹ زیادہ تھے اب مولانا شہیدؒ عوام کے مسائل حل کرانے میں بھر پور توجہ دے رہے تھے اور اس وقت آئندہ الیکشن کے اعتبار سے رائے عامہ مولاناؒ کے حق میں سب سے زیادہ تھی اور یہ بات مخالفین خصوصاً عابدہ حسین سے مخفی نہ تھی مولاناؒ کو اپنے راستہ سے ہٹانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔
7ـ جہار افغانستان میں سپاہِ صحابہؓ کے بہت سے کارکنوں نے عملی طور پر حصہ لیا کچھ کارکن شہید بھی ہوئے مارچ 1990ء میں خود مولانا شہیدؒ کا اپنی جماعت کے تقریباً 30 افراد کے ہمراہ جہاد افغانستان میں شمولیت کا ارادہ تھا۔
8ـ جہاد کشمیر کے سلسلہ میں 5 فروری 1990ء کو ملک گیر ہڑتال ہوئی تو مولاناؒ نے فوراہ چوک (حق نواز شہیدؒ چوک) میں ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب فرماتے ہوئے حکومت کو پیش کش کی کہ اگر حکومت مجاہدین کو کشمیر بھیجنے کا بندوبست کرے تو وہ سپاہِ صحابہؓ کی جانب سے 50 ہزار مجاہدین بھیجنے کیلئے تیار ہیں مولاناؒ کی شہادت پر شدید رکاوٹوں کے باوجود مولاناؒ کے جنازہ میں ملک کے طول و عرض سے اتنی کثیر تعداد میں لوگوں کی شمولیت سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ 50 ہزار مجاہدین کا مہیا کرنا مولاناؒ کے لئے کوئی مشکل نہ تھا۔
9۔ سندھ کی صورت حال پر مولاناؒ کو بڑی تشویش تھی آپ نے کراچی حیدر آباد سکھر اور اندرون سندھ کے دورے کئے وہاں کے عوام کو علاقائی عصبیت کے نقصانات اور باہمی اخوت و محبت کی برکات سے آگاہ فرمایا اور حکومت سے صورت حال کو بروقت کنٹرول کرنے کی اپیل کی آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی آپس کی محبت کی مثالیں بیان فرمایا کرتے تھے آپ مہاجر اور سندھی نوجوانوں سے فرمایا کرتے تھے کے اگر وہ اپنی مہاجر یا سندھی ماں کیلئے نہ لڑیں بلکہ سب کی سیدہ امی عائشہ صدیقہؓ کے مقدس دوپٹہ کی عظمت کے لئے لڑیں تو اس سے بڑی کیا سعادت ہوسکتی ہے۔
10ـ مرکز اور پنجاب کی اس دور کی محاذ آرائی پر مولاناؒ کو بڑی تشویش تھی مولاناؒ فرمایا کرتے تھے کہ اس ساری کارروائی کے پیچھے دونوں طرف کے شیعہ لیڈروں کا ہاتھ ہے وہ قوم کو آپس میں لڑا کر پاکستان میں ایرانی انقلاب کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔
جامعہ محمودیہ: جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا کہ جھنگ میں قرآنُ و حدیث کا کوئی ایسا معیاری ادارہ نہ تھا جس میں درس نظامی کی مکمل تعلیم دی جاتی ہو مولانا شہیدؒ نے اس کمی کو دور فرمانے کیلئے گوجرہ روڈ پر تقریباً 7 کنال جگہ لے کر حضرت مولانا مفتی محمود نور اللہ مرقدہ سے منسوب کر کے محمودیہ کی بنیاد رکھی جس نے چند سالوں میں نامساعد حالات کے باوجود نمایاں ترقی کی اور اب اس میں تقریباً دو سو طلباء قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جامعہ محمودیہ کے لئے ایک مرتبہ ضلعی چیئرمین عشر زکوٰۃ کمیٹی چودھری محمد ادریس نے ایک لاکھ روپے زکوٰۃ فنڈ سے ارسال کیا تو مولانا شہیدؒ نے یہ لکھ کر واپس فرما دیا کہ ہمارا مدرسہ سرکاری زکوٰۃ کی خطیر رقم کے مقابلہ میں غریب عوام کی پر خلوص امداد کو ترجیح دیتا ہے۔
امیر عزیمت مولانا حق نواز شہیدؒ بیک وقت ایک بے مثال خطیب مبلغ مجاہد سیاسی لیڈر سماجی کارکن جمیعتہ علماءِ اسلام کے رہنما سپاہِ صحابہؓ کے سرپرست اعلیٰ متحدہ علماء کونسل کے رہنما جامعہ محمودیہ کے مہتمم ایک خاوند ایک باپ ایک بھائی لاکھوں دلوں کی دھڑکن تھے اور سینوں کے بے تاج بادشاہ تھے۔
مولانا حق نواز شہیدؒ کی تقاریر سے اقتباسات
سپاہ صحابہؓ کی تحریک پھولوں کی سیج نہیں ہے:
سپاہ صحابہؓ کی تحریک پھولوں کی سیج نہیں ہے اس میں مشکلات و مصائب سے دو چار ہونا لازمی امر ہے جو نوجوان ہمارے ساتھ شریک ہونا چاہتا ہے اسے خوب سوچ سمجھ کر اس وادی پرخار میں قدم رکھنا ہوگا اس پر ہر قسم کے طعنے دہرنے کا کام پہلے اپنوں کی طرف سے شروع ہوگا اس کے نظریات کی پختگی اور اپنے موقف پر سختی سے کاربند رہنے کو موردِ طعن قرار دیا جائے گا عافیت کوش اودوں ہمت علماء بھی اسے مصلحت براری کا درس دیں گے لیکن میرے نزدیک ایسے ماحول میں جبکہ بازاروں میں اصحابِِ رسولﷺ کو گالیاں دی جارہی ہوں ازواجِ مطہراتؓ کے خلاف غلیظ زبان و قلم استعمال ہو رہی ہو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بیٹیوں کی شفاف چادر کو طعن و تشنیع سے آلودہ کیا جا رہا ہو ایسے کھلے کفر کے خلاف کھل کر کام کر لینا ہی اسلاف کی سنیت طیبہ ہے۔
(کبير والا ضلع ملتان میں کارکنوں سے خطاب)
میرا مشن مدح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فروغ ہے:
سپاہِ صحابہؓ عالم اسلام میں امام اہلِ سنت مولانا عبدالشکور لکھنؤیؒ کی تحریک کو زندہ کرنا چاہتی ہے اس کا مشن دراصل انہی تعلیمات کا فروغ ہے جو حضرت امام شاہ ولی اللہؒ کی نامور کتاب ازالتہُ الحفاء سے عیاں ہیں حضرت شاہ ولی اللہؒ کے انہی افکار کا غازہ سب سے پہلے حضرت مولانا عبد الشکور لکھنؤیؒ نے نمودار کیا تھا ان کے دور میں شیعہ کی سرگرمیاں تصنیف و تحریر اور وعظ و تقاریر تک محدود تھیں لیکن آج جبکہ ایران میں ایک متعقب شیعہ حکومت قائم ہوچکی ہے شام میں حافظ الاسد نے شیعہ کے نصیری فرقہ کے افکار کو نظام حکومت کی بنیاد قرار دے رکھا ہے لبنان کے ایک حصہ میں شیعہ ریاست قائم ہے عراق میں 55 فیصد آبادی متعقب شیعہ سے تعلق رکھتی ہے یہ سب لوگ اپنی اپنی جگہ پر اپنے نظریات کے فروغ میں سرگرم عمل ہیں ایران سے براہ راست پاکستان کے شیعہ کی سرپرستی کی جارہی ہے ایسے حالات میں لازمی امر ہے کہ سنی بیدار ہوں تحریفِ قرآن اور بغضِ صحابہؓ سے بھری ہوئی غلیظ ذہنیتوں کے عزائم خاک میں ملائیں اگر ایسے ماحول میں بھی اہلِ سنت بیدار نہیں ہوتے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ ان کا ضمیر مردہ ہوچکا ہے وہ اسلاف کی عزت و ناموس کی محافظت کا امین نہیں رہا ہے اسے دنیوی حرص و آر نے اسلامی اقدار سے دور کر دیا ہے اس طرح خدائی عذاب اور پیغمبرﷺ کی ناراضگی اس کا مقدر بن چکی ہے۔
مشن پر پختگی کا یقین سب سے پہلی بات ہے:
مجھے سب سے زیادہ خطرہ کھلے کفر سے نہیں بلکہ ایسی ذہنیت اور ایسی سوچ سے ہے جسے اپنے مشن کی صداقت کا یقین نہ ہو جس کے نظریات میں اطمینان کی بجائے اضمحلال ہو اتحاد کی بجائے اختلاف ہو جوانمردی کی بجائے پژمردگی ہو سپاہِ صحابہؓ سمندری فیصل آباد میں افطاری کے ایک اجتماع سے خطاب:
ماں کی عزت کے لئے نکل:
میرے ہاتھ میں شیعہ کی طرف سے شائع ہونے سالی ایک تازہ کتاب "حقیقت فقہ خفیہ" ہے جس میں ام المومنین سیدہ عائشہؓ کے بارے میں العیاذ باللہ یہ لکھا گیا ہے سیدہ عائشہؓ عورت تھی کہ بندریا اُف اے سُنی تیری حیا کہاں ہے تیری غیرت کدھر ہے تیرا ایمان کہاں سُوگیا ہے تو جوان بھی ہو تیرے پاس پیسہ بھی ہو تیری عزت بھی ہو تیری اکثریت بھی ہو تیرا ملک بھی ہو پھر تیری ماں کی بے عزتی ہو اور تیرے اوپر غفلت کا پردہ پڑا رہے تو آسودہ خواب ہو تو مصلحت آشنا ہو تو عافیت کوش ہو تو دنیا پرست ہو تو صرف اپنے کاروبار میں مصروف ہو تیری اماں کی ناموس کی چادر تار تار رسول اللہﷺ کی گھر والیاں آج تیرے ملک میں اتنی بے بس اور لاچار ہوگئی ہیں کہ ان کو بندروں سے تشبیہ دی جانے لگی ہے یہ میرے ہاتھ میں آنگن ڈائجسٹ کا شمارہ (لاہور) ہے جس میں سیدنا معاویہؓ کی بیٹی کو العیاذ باللہ کنجری کے روپ میں پیش کیا گیا ہے تیری اور میری بیٹی کی عزت محفوظ ہو لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بیٹیاں تیرے شہر میں طعنوں کا نشانہ بن چکی ہیں تیری ماں کو شیعہ گالیاں دیں تیری بہن کو بازاری عورت کہیں پھر بھی تو مصلحت کا درس دے آج فیصلہ کر کہ تو سُنی ہے یا شیعہ مسلمان ہے یا کافر ہے ماں کی عزت کا رکھوالا ہے یا دشمن ہے۔
ہائے وہ سیدہ اماں عائشہؓ جس کو رسول اللہﷺ اے پیارے حمیرا کہتے تھے۔
جس کے بستر پر قرآن اترتا تھا۔
جس کو کبھی جبرائیلؑ کا سلام آتا تھا۔
جس کا تذکرہ قرآن کی سترہ آیتوں میں ہے۔
جس کی محبت ایمان کی علامت بتائی گئی ہے۔
اے سُنی اٹھ اور ماں کی عزت کا رکھوالا بن چھوڑ دے اور سب کچھ چھوڑ دے غیرت و حیاء کے زیور سے آراستہ ہو جرات و ہمت کا زیور اوڑھ ماں کے دشمنوں کے خلاف سینہ سپر ہو جا۔
اگر تیرے شہر کا سُنی مولوی بے غیرت ہوچکا ہے تو اس سے بھی بے نیاز ہو جا تیرے شہر کا سُنی ڈی سی سُنی ایس پی تھانیدار سُنی وزیر سُنی سپاہی سب دولت حیاء سے محروم ہوچکے تب بھی نکل خدا پر بھروسہ کر استقامت کا جوہر اپنا کر ایک مشن ایک فکر کے لئے سپاہِ صحابہؓ کے پرچم کو تھام۔
سپاہِ صحابہؓ سٹوڈنٹس فیڈریشن مظفر گڑھ کے 5000 ہزار نوجوانوں سے تاریخی خطاب 1 جون 1987ء:
شیعہ کے کفر پر مسلمانوں کے تمام فرقوں کا اتفاق ہے:
آج ہمیں کہا جاتا ہے کہ تم شیعہ کو کافر کیوں کہتے ہو یہ بات پہلے تو کبھی نہیں سُنی تھی میں نے آج اس بات کا اظہار کرنا ہے۔
شیعہ فرقہ کو تاریخ کی زبان میں آلِ یہود بھی کہا جاتا ہے اس کا بانی عبداللہ بن سبا نسلاََ یہودی تھا اس کی ستم کاریوں سے اسلام کا سینہ ربع صدی تک چھلنی رہا اس نے سب سے پہلے خلفاء ثلاثہؓ پر عدم اعتماد کا اعلان کر کے سیدنا علیؓ کی خلافت و وصایت کا منافقانہ نعرہ بلند کیا تھا یہ ایک حقیقت ہے کہ پھر اس کے نام لیواؤں نے کوفہ میں سیدنا علیؓ کو شہید کیا تھا اس کی اولاد نے کوفہ میں سیدنا حسنؓ پر قاتلانہ حملہ اور بعد ازاں سیدنا حسینؓ کو خود بلا کر شہید کر دیا۔
ابنِ سبا کے نعروں کی بنیاد پر شیعہ کے دنیا میں 170 فرقے پیدا ہوئے آئمہ تلبیس کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد دعوی نبوت کرنے والوں کی اکثریت بھی شیعہ مذہب سے تعلق رکھتی ہے شیعہ کے خلاف جزوی کام تو ہر دور میں ہوا لیکن ان کے نظریات کے خلاف پہلی آواز بلند کرنے والی شخصیت حضرت پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانیؒ ہیں ان کی معرکة الاراء کتاب غنیة الطالبین اس کا بین ثبوت ہے بعد ازان امام غزالیؒ امام ابن تیمیہؒ امام رازیؒ حافظ عماد الدین ابنِ کثیرؒ اور حضرت مجدد الف ثانیؒ نے وضاحت کے ساتھ شیعہ کی ضلالت و گمراہی اور ان کی اسلام سے دوری کا ذکر کیا۔
امام الهند شاہ ولی اللہؒ نے ازالة الخفاء اور ان کے نامور فرزند حضرت شاہ عبدالعزیز دہلویؒ نے تحفہ اثنا عشریہ میں ان کے کفر کی بے شمار وجوہ بیان کی ہیں۔
ہندوستان میں بیسویں صدی کے دوران جن علماء نے شیعہ پر کفر کا فتویٰ عائد کیا ان میں بریلوی مکتبہ فکر کے اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا بریلویؒ اہلِ حدیث حضرات میں مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ مولانا محمد حسین بٹالویؒ علماءِ دیوبند میں مولانا محمد قاسم نانوتویؒ مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور مولانا عبدالشکور لکھنویؒ کا نام نمایاں ہے۔
یہ تمام کتابیں عرصہ دراز سے دنیا میں شائع ہو رہی ہیں ان کے قارئین مسجدوں کے حجروں میں بیٹھ کر شیعہ کو کافر کہتے ہیں۔
سپاہِ صحابہؓ جب ان سے کہتی ہے کہ آپ اس کفر کو دنیا کے سامنے کھلے طور پر کیوں نہیں ننگا کرتے اور پھر ایسے حالات میں جب ایران اسلام کے نام پر خانہ کعبہ پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا چکا ہے اور شیعہ نظریات ہی کو اسلام قرار دے کر پوری دنیا کو فریب دے رہا ہے تو معاف کیجئے جواب دیا جاتا ہے کہ ابھی حالات سازگار نہیں مولوی صاحب تیرے پاس تعویذ کے پیسے لینے کیلئے حالات سازگار ہیں نکاح کی فیس لینے کیلئے حالات سازگار ہیں مریدوں سے ہوائی جہازوں کے ٹکٹ مانگنے اور کھلے عام چندے جمع کرنے کے حالات سازگار ہیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے بغض و عناد میں باہم دست و گریبان ہونے کیلئے سازگار ہیں امن کمیٹیاں بنا کر پولیس کی حفاظت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا کرانے کے حالات سازگار ہیں لیکن اسلام کے نام کو دھوکہ اور فریب میں مبتلا کرنے والے کھلے کفر کی منافقت اور چالبازی کا پردہ چاک کرنے کیلئے ابھی حالات ہی سازگار نہیں اگر اب بھی مولوی صاحب کے دماغ میں حقیقت کا چراغ روشن نہیں ہوتا تو میں سمجھوں گا یہ خود ہمارے راستے میں رکاوٹ ہے ایسی رکاوٹوں کو دور کرنا بھی ہمارے مشن کا حصہ ہے (مظفر گڑھ میں سپاہِ صحابہؓ کے جلسہ سے خطاب)۔
کبھی کبھی نظریاتی تحریکیں سو سو سال بعد ساحلِ مراد تک پہنچتی ہیں:
ایک ایسا وقت تھا کہ جب 1888ء کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا سب سے پہلے اس پر علماءِ لدھیانہ نے کفر کا فتویٰ جاری کیا اس وقت کئی ہمارے علماء نے بھی عدم معلومات کے باعث اس فتویٰ کفر کی مخالفت کی لیکن جب مرزا قادیانی کے عقائد سامنے آئے تو علماءِ دیوبند علماءِ اہلِ حدیث اور علماءِ بریلوی نے بھی علی الاعلان فتویٰ کفر پر دستخط کر دیئے 90 سال تک برصغیر میں علماءِ ہند نے اس کفر کے خلاف آواز بلند کی حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہؒ اور ان کے رفقاء نے نصف صدی تک برصغیر کے کونے کونے میں قادیانی کفر کو آشکار کیا لیکن انگریزی تعلیم یافتہ طبقہ ہمیشہ کفر اسلام کی اس جنگ کو بریلوی دیوبندی نزاع کی طرح مسلمانوں کے دو طبقوں کا اختلاف قرار دیتا رہا بالاخر قریباً سو سال تک پھیلنے والی علماء کی جدوجہد رنگ لائی ہزاروں رفقاء کی شہادت کے بعد بالاخر 1974ء میں قادیانیوں کے کفر کو ہر مسلمان نے دل و جان سے تسلیم کیا اور پاکستان کی پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا بالکل اسی طرح شیعہ کا کفر بھی ہماری کتابوں تک محدود تھا ایران کی اسلامیت کے پروپیگنڈے کے بعد ردعمل کے طور پر مسلمانوں کی طرف سے اس کا کفر عیاں ہونے لگا پاکستان میں دو سال قبل قائم ہونے والی تنظیم سپاہِ صحابہؓ نے پہلی مرتبہ اس کا کفر سٹیج پر آشکار کیا تو مسلمانوں کے طبقے چونک اٹھے دو سال ہی کے عرصہ میں تاحال سپاہِ صحابہؓ کے پروگرام کے ساتھ مسلمانوں کی اکثریت اس کفر کے لئے متفق نظر آنے لگی تاہم علماء کے کئی گروہ جو مصلحتوں کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں بہت جلد ہمارے موقف کے حامی بن جائیں گے سیاسی مصلحتیں تار تار ہو جائیں گی ہر شخص پر شیعہ کا کفر آفتاب کی طرح روشن ہو جائے گا اس طرح امتِ مسلمہ کو عظیم خطرے سے آگاہ کرنے کے سلسلے میں ہمارا مشن ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوگا اس کام میں کتنی دیر لگتی ہے کون ہمارے ساتھ شریک ہوتا ہے کہاں کہاں کس کس قدر ہماری حوصلہ افزائی ہوتی ہے ہمیں ان باتوں کی طرف دھیان نہیں کرنا ہمیں اپنے مشن پر گامزن رہنا ہے اس کے نتائج خلاق عالم کے سپرد ہیں خواہ وہ ہمیں ہی اس کے ثمرات دکھائے یا ہماری نسلوں کو کامیابی کی شاہراہ سے شناسا کرے (کراچی میں سپاہِ صحابہؓ کے کارکنوں سے خطاب)۔
دین کے کاموں میں مشکلات کا دریا عبور کرنا سنت انبیاءؑ ہے:
ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءؑ نے جان جوکھوں میں ڈال کر توحید کی دعوت کے فروغ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی بھی مصائب و عواقب سے عبارت ہے اللہ کی سب سے برگزیدہ ہستی حضرت محمد رسول اللہﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے ہیں ان کے چہرے پر کوڑا ڈالا گیا ان پر آوازے کسے گئے ان کو طعنہ زنی کا نشانہ بنایا گیا جب اللہ کے سب سے بڑے محبوبﷺ کو دین کی راہ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو لازمی امر ہے کہ جو شخص خالصتاً رضائے الہٰی کے لئے دین کے کسی شعبے میں کام کرے گا کسی موقعہ پر دین کے لئے ڈٹ جائے گا جسے دین سمجھے گا اسی پر سب کچھ قربان کر دینے کو تیار ہوگا اسے بھی دکھوں اور تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑے گا ایک عظیم انسان اور سپاہِ صحابہؓ کے کارکن کے لئے تمغہ امتیاز اس کا اپنے مشن پر کار بند رہنا ہوگا اسے اپنوں کے ہر طعنے سن کر بھی اپنے نصب العین کی آواز بلند کرنی ہوگی۔
میں جان تک قربان کرنے سے دریغ نہ کروں گا:
میری عقل ماؤف نہیں ہوگئی میرے دماغ میں کوئی خرابی نہیں میرے عقل و خرد پر پردہ نہیں پڑا کہ مجھ پر بیسیوں مقدمے قائم ہیں ہر ضلع میں پولیس میرا راستہ روکے کھڑی رہتی ہے میں کئی کئی مقامات پر سارا سارا دن عدالتوں کے دروازے میں تاریخ پیشیوں کے لئے پریشان کھڑا رہتا ہوں ان تمام پریشانیوں کے باوجود میں شیعہ کے کفر پر قائم ہوں ہر جگہ ان کا کفر آشکار کر رہا ہوں حکومت سدِ راہ ہے کئی سیاستدان مجھے روک رہے ہیں کئی مصلحت پسند مجھے درسِ امن دے رہے ہیں میں یہ سب کچھ اس لئے کر رہا ہوں کہ اے سُنی تو شیعہ کو مسلمان سمجھ کر اپنی لڑکی ان کو دے کر ساری زندگی زنا کی وادی میں نہ دھکیل ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے جنازوں میں شریک ہو کر ان کے ساتھ قربانیوں میں شریک ہو کر اپنے ایمان کا گلشن ویران نہ کر لاعلمی اور مصلحت کی خاطر اپنے دین سے دشمنی نہ کر میں تو اتمام حُجت کر رہا ہوں میں تو اپنا پیغام ایک مرتبہ ہر کوچے ہر شہر ہر علاقے اور ہر ملک میں پہنچا کر رہوں گا میں اس مشن پر اپنی جان تک قربان کرنے سے دریغ نہ کروں گا(آلِ پاکستان دفاعِ صحابہؓ کانفرنس جھنگ میں خطاب)۔
خمینی کے پیشواؤں پاکستانی حواریوں کے وہ کون سے نظریات تھے جن کی تردید کے جرم میں مولانا حق نواز کو شہید کیا گیا:
خمینی کی کتاب کشف الاسرار صفحه 131) پر درج ہے:
وہ فارسی کی کتابیں جو مجلسی مرحوم نے ایرانی لوگوں کے لئے لکھی ہیں انہیں پڑھتے رہو تاکہ اپنے آپ کو کسی اور بے وقوفی میں مبتلا نہ کرو۔
عبارات مغلظه از کتاب کشفُ الاسرار مولف خمینی
ترجمہ: اگر بالفرض قرآن میں رسول اللہﷺ کے بعد کیلئے امام کا یعنی سیدنا علیؓ کا نام بھی ذکر کر دیا جاتا تو یہ کہاں سے سمجھ لیا گیا کہ اس کے بعد امامت و خلافت کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف نہ ہوتا جن لوگوں نے حکومت و ریاست کی طمع ہی میں برس ہا برس سے اپنے کو دین پیغمبرﷺ یعنی اسلام سے وابستہ کر رکھا تھا اور چپکا رکھا تھا جو اس مقصد کے لئے سازش اور پارٹی بندی کرتے رہے تھے ان سے ممکن نہیں تھا کہ قرآن کے فرمان کو تسلیم کر کے اپنے مقصد اور اپنے منصوبے سے دست بردار ہو جاتے جس سے حیلے اور جس پینترے سے بھی ان کا مقصد (یعنی حکومت و اقتدار حاصل ہوتا وہ اس کو استعمال کرتے اور بہر قیمت اپنا منصوبہ پورا کرتے (کشف الاسرار صفحه 113۔114)۔
خمینی صاحب نے صفحہ 17 پر مخالفت عمر با قرآن کا باب قائم کر کے آخر میں حدیثِ قرطاس کا ذکر کیا ہے اس سلسلہ کلام میں سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی شان میں ان کے آخری الفاظ یہ ہیں۔
"ایں کلام یا وه که از اصل کفر و زندقه ظاهر شده مخالف است بایاتے از قرآن کریم" (کشف الاسرار صفحه 119)۔
اس جملہ میں سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو صراحتاً کافر و زندیق قرار دیا گیا ہے۔
از کتاب حقُ اليقين تاليف علامه مجلسی مطبوعه ایران:
ابوبکرؓ و عمرؓ دونوں کافر ہیں (نعوذ باللہ):
آزاد کردہ غلام حضرت علی ابن الحسین علیه السلام از آنحضرت پرسید که مرا بر تو حق خدمت است مراخردہ است از حال ابوبکرؓ و عمرؓ حضرت فرمود هر دو کافر بودند (حق الیقین صفحه 542)۔
ترجمہ: سیدنا علی بن حسنؓ سے ان کے آزاد کردہ غلام نے دریافت کیا کہ مجھے سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمرؓ کے حال سے آگاہ فرمائیں سیدنا علی بن حسنؓ نے فرمایا کہ دونوں کافر تھے۔
سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمرؓ فرعون و ہامان ہیں (نعوذ باللہ)
مفصل پرسید که مراد از فرعون و هامان در این آیته چیست حضرت فرموده که مراد ابوبکر صدیقؓ و عمرؓ است (حق الیقین صفحه 378)۔
ترجمہ: مفصل نے سیدنا جعفر صادق سے پوچھا کہ قرآنِ مجید کی اس آیت میں فرعون و ہامان سے کون مراد ہیں سیدنا جعفر صادق نے فرمایا سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ (نعوذ باللہ)۔
سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ سیدنا معاویہؓ جہنم کے صندوق ہیں (نعوذ باللہ ):
سیدنا جعفر سے منقول ہے کہ جہنم میں ایک کنواں ہے کہ اہلِ جہنم اس کنویں کے عذاب کی شدت و حرارت سے پناہ مانگتے ہیں اور پھر اس کنویں میں آگ کا ایک صندوق ہے جس کی شدت و حرارت کے عذاب سے اس کنویں والے پناہ مانگتے ہیں اس کنویں میں چھ آدمی پہلی امتوں کے حضرت آدم کا بیٹا قابیل جس نے ہابیل کو قتل کیا تھا نمرود فرعون اور بنی اسرائیل کو گمراہ کرنے والا سامری ہوگا اور چھ آدمی اس امت سے ہوں گے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ سیدنا معاویہؓ۔ خوارج کا سربراہ اور ابنِ ملجم (حقُ الیقین صفحه 522)۔
سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ شیطان سے زیادہ شقی ہیں (نعوذ باللہ)۔
سیدنا جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ امیر المومنین سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن کوفہ سے باہر نکلا تو اچانک شیطان سے ملاقات ہوگئی میں نے شیطان سے کہا تو عجب گمراہ شقی ہے تو شیطان نے کہا امیر المومنین آپؓ ایسا کیوں کہتے ہیں خدا کی قسم میں نے آپ والی بات خدا تعالیٰ کے سامنے جبکہ ہمارے درمیان کوئی تیسرا نہ تھا نقل کی تھی کہ الہٰی میں گمان کرتا ہوں کہ تو نے مجھ سے زیادہ شقی تر پیدا نہیں کیا خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ نہیں میں نے تجھ سے زیادہ شقی تر مخلوق پیدا کی ہے جاؤ جہنم کے خازن سے میرا سلام کہو اور کہو کہ مجھ کو ان کی صورت اور جگہ دکھاؤ میں نے اس سے کہا تو خازن جہنم مجھے لے کر اول دوم سوم چهارم پنجم اور ششم وادی جہنم سے ہوتا ہوا ساتویں جہنم کی وادی میں پہنچا وہاں کیا دیکھا کہ دو شخص ہیں کہ ان کی گردن میں آگ کی زنجیروں یہ ڈالی ہوئی ہیں اور انہیں اوپر کی طرف کھینچا جاتا ہے اور اوپر ایک گروہ کھڑا ہے جن کے ہاتھ میں آگ کے گرز ہیں وہ ان دو کے سر پر مارتے ہیں میں نے مالک جہنم سے پوچھا یہ کون ہیں تو اس نے کہا کہ ساق عرش پر لکھا ہوا نہیں دیکھا کہ یہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ ہیں (حق الیقین صفحه 529)۔
سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمرؓ کو سولی پر لٹکایا جائے گا (نعوذ باللہ):
سیدنا جعفر امام مهدی (یعنی امام غائب) کے دوبارہ آنے کی تفصیلات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں جب وہ مدینہ میں وارد ہوں گے تو ان سے ایک عجیب امر ظہور پذیر ہوگا وہ یہ کہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی نعشوں کو قبروں سے باہر نکال کر ان کے جسم سے کفن کو اتار کر انہیں درخت پر لٹکا کر سولی دی جائے گی پھر ان دونوں ملعونوں کو اتار کر بقدرت الہٰی زندہ کیا جائے گا اور پھر ان کو سولی پر لٹکا دیا جائے گا اور امام مہدی کے حکم سے زمین سے آگ ظاہر ہو کر انہیں جلا کر راکھ کر دے گی آپ کے شاگرد مفصل نے دریافت کیا اے میرے سردار کیا یہ آخری عذاب ہوگا سیدنا جعفر نے فرمایا نہیں بلکہ ایک دن رات میں ان کو ہزار مرتبہ سولی پر لٹکایا جائے گا اور زندہ کیا جائے گا (حق الیقین صفحه 54 46 347)۔
عبارات مغلظه از کتاب حکومت اسلامی اردو ترجمه تالیف خمینی صاحب ناشر مکتبه رضا 14 /476 فیدرل بی ایریا کراچی:
ملک مقرب یا نبی آئمہ کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا:
عبارت: ہماری ضروریات مذہب میں یہ بات داخل ہے کہ کوئی بھی آئمہ کے مقام معنویت تک نہیں پہنچ سکتا (صفحہ 40).
سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ نے بہت سے معاملات میں حضورﷺ کی مخالفت کی:
عبارت: پہلے دو خلفاء نے اپنی شخصی و ظاہری زندگی میں حضور اکرمﷺ کی سیرت کو اپنایا تھا اگرچہ دوسرے بہت سے معاملات میں حضورﷺ کی مخالفت کی(صفحہ 32)
خلفاء ثلاثہؓ وغیرہم سے بروز قیامت سوال کیا جائیگا کہ تم میں اہلیت نہ تھی تو حکومت پر غاصبانہ قبضہ کیوں کیا:
عبارت: خلفاء ثلاثہؓ (سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ) سیدنا معاویہؓ خلفاء بنی عباس اور جو لوگ ان کے حسبِ منشاء کام کیا کرتے تھے ان سب سے احتجاج کیا جائے گا کہ تم نے نظامِ حکومت پر غاصبانہ قبضہ کیوں کیا؟ (حصہ دوم صفحہ 9)۔
جب تم میں اہلیت نہیں تھی تو خلافت و حکومت پر کیوں قابض ہوئے؟ (حصہ دوم صفحہ 9)۔
خلفاء ثلاثہ (سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ کیلئے (معاذ اللہ) لعنهم الله:
عبارت: دشمنانِ آل محمدﷺ و نبی امیہ لعنم اللہ نے حضور اکرمﷺ کی رحلت کے بعد اسلامی حکومت سیدنا علیؓ کے ہاتھوں میں نہیں دی (صفحہ 24)۔
عبارات مغلظه از کتاب قولِ مقبول في وحده بنت رسولﷺ مصنف غلام حسین نجفی:
جامعه المنتظر ایچ ما ڈل ٹاون لاہور:
سیدنا ابوبکر صدیقؓ و عقیل بن ابی طالب پہلے درجہ کے پھکڑ باز تھے (صفحہ 307)۔
سیدنا خالد سیفؓ کی دادی سیدنا عثمانؓ کی والدہ اردی بنت کریز نے حمل کسی سے کرایا اور بچہ کسی سے ملوایا (صفحہ 310)۔
نوٹ: واضح ہو کہ سیدنا عثمان غنیؓ کی والدہ آنحضرتﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھی (ازمرتب)۔
سیدنا معاویہؓ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ قریش کے چار آدمیوں میں سے کسی ایک کے فرزند تھے (صفحہ 310)۔
نوٹ: واضح ہو کہ سیدنا معاویہؓ کی ہمشیرہ سیدہ ام حبیبہؓ کو رسول اللہﷺ کی زوجہ محترمہ ہونے کا شرف حاصل ہے ( از مرتب)
سیدنا عمرؓ کا داماد سیدنا علیؓ اور سیدنا عثمان غنیؓ کا داماد نبی کریمﷺ ہونا سفید جھوٹ ہے۔
سیدنا عثمان ذوالنورینں نے اپنی بیوی سیدی ام کلثومؓ کی موت کے بعد ان کے مردہ جسم کے ساتھ ہمبستری کر کے نبی کریمﷺ کو اذیت پہنچائی (صفحہ 420)۔
عبارات مغلظہ از کتاب سہم مسموم فی جواب نکاح سیدہ ام کلثومؓ تالیف غلام حسین نجفی سرپرست شیعہ تبلیغ جامعہ النظر ایچ بلاک ماڈل ٹاؤن لاہور ۔
سیدنا ابوبکرؓ اور شیطان کا ایمان برابر (صفحہ 73)۔
سیدنا عمرؓ جہنم کا تالا ہے اور (بہتر تو یہ تھا کہ جہنم کا گیٹ ہوتا)(صفحہ 430)۔
سیدنا عمرؓ اپنی بیوی سے غیر فطری طریقے سے ہمبستری کرتا تھا (صفحہ 432)۔
سیدنا عمرؓ رات کے وقت لوگوں کے گھروں میں جھانک کر ان کے عیب تلاش کرتا (جو کہ قرآنِ کریم کی مخالف ہے) (صفحہ 432)۔
سیدنا عمرؓ شراب حرام ہونے کے بعد بھی شراب پیتے رہے (صفحہ430)۔
سیدنا عمرؓ کا ایمان پر مرنا مشکوک ہے (صفحہ 430)۔
سیدہ عائشہؓ اور سیدہ حفصہؓ زوجہ نوح ولوط کے ہم مرتبہ تھیں (صفحہ 20) اس طرح جناب نوح اور لوط کی بیویاں طیبات میں داخل نہیں اسی طرح سیدہ عائشہؓ اور سیدہ حفصہؓ بھی طبیات میں داخل نہیں (صفحہ 21)۔
عبارت: مغلظہ از کتاب چراغ مصطفویﷺ اور شرار بولہبی حصہ اول مصنف اشتیاق کاظمی ناشر جامعہ زینیہ بخاری مارکیٹ لاہور۔
صحابیت کی سند لعنت سے نہیں بچا سکتی:
عبارت :کیا صحابی اسی کو کہتے ہیں جو رسول اللہﷺ کو اذیت پہنچائے اور پھر رسول اللہﷺ پر اتری ہوئی کتاب کو جلانے کا آرڈر دے دے صرف اپنی بادشاہت کے بل بوتے پر سُنی لوگ ان لوگوں کے ایسے تمام عیوب پر پردہ ڈالنے کے لیے صحابی کا لیبل چمٹا دیتے ہیں لیکن صحابی کی سند ان لوگوں کو لعنت سے نہیں بچنے گی کیونکہ لعنت اپنے گھر خود تلاش کر لیتی ہے (صفحہ 31 .32)۔
لعنتی خلفاء (سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ):
عبارت: خدا جانے مسلمان نے سیدنا علیؓ کو چوتھی جگہ کیسے تسلیم کر لیا؟ ہمارا مشورہ تو یہی ہے کہ سیدنا علیؓ کو ان جیسے لعنتی خلفاء کے درمیان میں سے نکال کر کوئی اور ان جیسا رکھ لیجئے گا (صفحہ 15)۔
سیدنا معاویہؓ سیدنا ابوہریرہؓ کافر و مرتد تھے:
عبارت: ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف زبان درازی کرنے والے کے خلاف تو آرڈی نینس جاری ہوتے ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی وہ جو کافر و مرتد تھے مثلا سیدنا معاویہؓ سیدنا ابوبکرؓ وغیرہ وغیرہ (صفحہ 79)۔
سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ شیطان ہیں:
عبارت: خمینی کو شیطان لکھنے والے ملاں ذرا شیعہ کی کتاب کلید مناظرہ کا مطالعہ کر تجھے علم ہو جائے گا کہ شیطان کون سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ یا خمینی۔
عبارت مغلظہ از کتاب کلید مناظرہ مؤلف مولوی برکت علی شاہ وزیر آباد پنجاب ناشر شیخ سرفراز علی شاہ سنز کشمیری بازار لاہور۔
1۔ ابوبکرؓ بزدل ہونے کے علاوہ احمق بھی تھا (حالاتِ ہجرت صفحہ 122)۔
2۔ سیدہ عائشہؓ و سیدہ حفصہؓ جبلی طور پر عیار کینہ پرور اور ٹیڑھے دل والی تھیں (صفحہ 319)۔
3۔ سیدنا ابوبکرؓ اور شیطان کا ایمان مساوی ہے (حالاتِ سیدنا ابوبکرؓ 108)۔
4۔ ثلاثہؓ مسلمان نہ تھے( دعویٰ ہبہ فدک صفحہ 48 صفحہ 211)۔
5۔ ثلاثہؓ بت پرست تھے (صفحہ 135)۔
6۔ سیدنا عمرؓ تمام عمر کھڑے کھڑے پیشاب کرتا رہا سیدنا عمرؓ نے مرتے دم تک شراب ترک نہ کی سیدنا عمرؓ بحالت جنب نماز پڑھ لیا کرتے تھے خلفائے ثلاثہؓ نے تمام عمر ختنہ نہیں کروایا (باب خلافتِ سیدنا ابوبکرؓ صفحہ 132)۔
7۔ سیدنا خالد بن ولیدؓ جیسے شقی اور مرتد کو سیف اللہ کہنا یا ان کی تاریخ میں کچھ لکھنا عین کفر اور عین ارتداد ہے(صفحہ 172)۔
8۔ سیدنا ابوبکرؓ کو خلافت ایک ادارہ میں ملی جہاں رزیلے اور بدمعاش لوگ بھنگ چرسی چنڈو اور شراب پیتے تھے اور سیدنا عمرؓ کو خلافت پاخانہ میں ملی ( صفحہ 174)۔
9۔ فحش اور گندی گالیاں دینا سیدنا ابوبکرؓ کی عادت میں داخل تھا (صفحہ 187)۔
10۔ ایسے پاک نفوس (اصحابِ ثلاثہؓ) پر ایک لمحے میں ہزار دفعہ بھیجنا ہر مسلمان پر واجب ہے (صفحہ 211)۔
11۔ حضرات ثلاثہؓ آنحضرتﷺ کے مار آستین تھے (صفحہ 217)۔
12۔ دیانت امانت سیدنا عمرؓ کے دل سے اس طرح غائب تھی جس طرح گدھے کے سر سے سینگ احکامِ شریعت اس کے عہدہ خلافت میں فٹ بال کی طرح تھے جس کو ٹھوکروں سے جدھر چاہتا لے جاتا (صفحہ 234)۔
13۔ قرآنِ پاک کو سر پر رکھ کر اور ہاتھ اٹھا کر قسم کھانا اور پھر بدل دینا سیدنا عثمان غنیؓ کی عادت میں داخل تھا (صفحہ 305)۔
14۔ سیدنا معاویہؓ ولد زناد تھا (صفحہ 228)۔
15۔ اصحابِ ثلاثہؓ کفر میں پیدا ہوئے کفر میں پرورش پائی اور کفر میں فوت ہوئے (صفحہ 23)۔
16۔ رسول پاکﷺ کے سوا تمام انبیاءؑ اور ملائکہ آپؓ (سیدنا علیؓ) کے آستانے عالیہ کے ادنیٰ غلام ہیں۔(صفحہ35)۔
17۔ امام بخاریؒ کو خدا اور رسولﷺ کا دشمن کہنا عین کفر ہے (صفحہ 52)۔
عبارت مغلظہ از کتاب "صرف ایک راستہ" مصنف عبد الکریم مشتاق ناشر ناشر رحمت اللہ بک ایجنسی موتن مارکیٹ بالمقابل نیو میمن مسجد ایم اے جناح روڈ کراچی۔
شریر منافقوں کی تفریق بازی سے بعد وفاتِ رسولﷺ اختلاف کی آگ بھڑک اٹھی:
عبارت: امت محمدیہﷺ میں شریر منافقوں نے تفرقہ بازی کا ایسا زہریلا بیج بویا جس کی وجہ سے وفاتِ رسولﷺ ہوتے ہی اختلافات کی آگ بھڑک اٹھی اور اس دن سے آج تک باہمی اختلافات کے سلسلے میں شدید نبرد آزمائیاں ہوتی رہیں نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ محاسن تعلیماتِ اسلام سے مستفیض نہ ہوسکے۔
حیاتِ رسولﷺ میں ذاتی الغراض پر رکھی ہوئی تحریک نے وفاتِ رسولﷺ کے بعد انقلاب پیدا کر دیا:
عبارت: لیکن وفاتِ رسولﷺ کے بعد اس تحریک نے انقلاب پیدا کر دیا یہ کہ آنحضرتﷺ کی حیات ہی میں ذاتی اغراض کو مدنظر رکھے ہوئے تھی اور آپﷺ کے قائم کردہ نظام کے خلاف نہ صرف درون پردہ بلکہ بعض اوقات ظاہراً بھی سرگرم عمل رہتی تھی لیکن جب اس تحریک کو کامیابی ہوئی اور اس کا اقتدار مستحکم ہوتا چلا گیا تو اسلامی و غیراسلامی اصول اس قدر شیر و شکر ہوگئے کہ امتیاز کرنا دشوار ہوگیا (صفحہ 323)۔
عبارت مغلظہ از کتاب آگ خانہ بتول پر مصنف عبدالکریم مشتاق ناشر حسین علی بکڈ پو بمبئی بازار نزد خواجہ اثناء عشری مسجد کھارا ادر کراچی
عبارت: خلافتِ سیدنا ابوبکرؓ ہرگز حق نہ تھی بلکہ اس کی بناء غضب ظلم و جور اور تشدد کی سیاست پر تھی (صفحہ 44)۔
شاید روز محشر شیطان بھی سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی بداعمالیوں کا جدول اٹھائے میدان میں آنکلے اور اپیل رحم کر دے:
عبارت: اور تمہیں شمس و قمر ایسے چڑھے کہ دنیوی حکومت اور وجاہت کے حصول کی خاطر انہوں نے وہ چاند چڑھائے کہ جس سے انسانیت کی آنکھ کی روشنی جاتی رہی عدالت انسانیت کا گریبان چاک ہوگیا اور احسان فراموشی جیسے بدترین اور قابلِ مذمت عمل کے مرتب ہوئے شاید روز محشر شیطان بھی ان بداعمالیوں کا جدول اٹھائے میدان میں آئے گا اور اپیل رحم داخل کرے (صفحہ 48)۔
سیدہ عائشہؓ کی مفسدانہ باغیانہ شریرانہ حرکات:
عبارت: ایسی حکم عدول خاتون کی باغیانہ مفسدانہ اور شریرانہ حرکات سے چشم پوشی کرنا گناہ عظیم ہے ( صفحہ 79)۔
عبارات. مغلظہ از کتاب مقاِم عمر مصنف علی اکبر شاہ ساجد اکیڈمی یوسف پلازہ 133 کراچی۔
کیسے ممکن ہے کہ ہزاروں افراد صحابیت کی وجہ سے عادل اور قابلِ تقلید ہو جائیں:
عبارت: مسلمان سمجھتے ہیں کہ ہزاروں آدمی جو اسلام لائے اور مرتے دم تک اسلام پر قائم رہے اور رسول اللہﷺ کی صحبت اٹھائی چاہے وہ مختصر ترین ہی رہی ہو صحابی ہوئے مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہزاروں افراد محض اس صحابیت کی وجہ سے عدل و قابلِ تقلید ہوجائیں (صفحہ 10)۔
سیدنا عمرؓ سے بدگمانی رکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا:
عبارت: جہاں تک سیدنا عمرؓ کا سوال ہے تو اگر ان سے بدگمانی رکھی جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ آپؓ کے ذریعے سے اصل دین تو بہت کم پہنچا آپؓ نے خود کل 70 حدیثیں روایت کیں اور دوسروں کو اشاعت حدیث سے منع کیا ( صفحہ 12)۔
سیدنا خالد بن ولیدؓ نے مالک بن نویرہ کو قتل کیا اور ان کی حسین بیوی سے زنا کیا تھا:
عبارت: سیدنا عمرؓ سیدنا خالد بن ولیدؓ کے لیے تو سیدنا ابوبکرؓ کے پیچھے ہی پڑ گئے کہ انہیں معزولی کر دیجئے مگر سیدنا ابوبکرؓ انکار ہی کرتے رہے حالانکہ سیدنا خالدؓ نے بے گناہ مالک بن نویرہؓ کو قتل کیا تھا اور اس کی حسین بیوی کے ساتھ زنا کیا تھا (صفحہ 15)۔
سیدنا عمر فاروقؓ کی زندگی میں قدم قدم پر پچھتاوا ملے گا:
عبارت: مگر بات صرف مقدمات کے فیصلے کی نہیں ہے سیدنا عمر فاروقؓ کی زندگی میں تو قدم قدم پر پچھتاوا ملے گا (صفحہ 183)۔
عبارات مغلظہ از کتاب شیخ شقیفہ مصنف علی اکبر شاہ شائع کردہ ساجد اکیڈمی 133 اے بی یوسف پلازہ فیڈرل بی ایریا کراچی۔
رسول اللہﷺ کے قریب رہنے والوں کا ایک اور گروہ بھی تھا جس کے اپنے منصوبے تھے:
اپنی مصلحتیں تھیں لیکن بظاہری شمع رسالت کے پروانے بنے ہوئے تھے اس کے سرخیل سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمر بن خطابؓ تھے (صفحہ 8)۔
سیدنا ابوبکرؓ کی کوئی دینی حیثیت نہیں تھی کہ ان پر تحقیق اور بے لگام گفتگو کرنا جرم ہو یا اس سے دین میں نقص پیدا ہوتا ہو (صفحہ 8)۔
سیدنا ابوبکرؓ نے تحت حاصل کرنے کے لیے بے رحم بادشاہوں کی سنت پر ہی عمل نہیں کیا بلکہ اپنے عمومی رویہ حکمرانی میں بھی مطلق العنان بادشاہوں کی جھلک نظر آتی ہے بعض موقع پر تو آپ ہلاکوخان اور چنگیز خان کے قبیلے والے لگتے تھے (صفحہ10)۔
سیدنا ابوبکرؓ پر حصولِ خلافت کے جذبات اس طرح طاری تھے کہ رسول اللہﷺ سے تمام عمر کی یاری کے باوجود ان کے دل میں آنحضرتﷺ کی جدائی کا غم ذرا بھی جگہ نہ پاسکا اور ان کا رفیق قلب رقت پر آمادہ نہ ہوسکا (صفحہ 87)۔
عبارات مغلظہ از کتاب احتساب مصنف علی اکبر شاہ ناصر ساجد اکیڈمی 33 اے بی یوسف پلازہ
بڑے بڑے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر منافقین کی طرح جنگِ احزاب میں لرزا طاری تھا؟
عبارت: جنگِ احزاب میں تو مسلمانوں پر مارے خوف کے لرزہ طاری تھا بات صرف منافقین یا عام مسلمان کی نہیں ہو رہی بلکہ ان بڑے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بھی ہو رہی ہے جن کے ڈنکے بج رہے ہیں (صفحہ 9)۔
سیدنا عمرؓ کا تلوار نکال کر کہنا کہ محمدﷺ مرے نہیں شدت غم کی وجہ سے بلکہ یہ سب ڈھونگ تھا:
عبارت: سیدنا عمر فاروقؓ کا تلوار نکال لینا اور یہ کہنا کہ محمدﷺ مرے نہیں اور یہ کہ اگر کسی نے ایسا کہا تو گردن مار دوں گا شدت غم کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ سب ڈھونگ تھا محض اس لیے کہ جب تک مشیر خاص سیدنا ابوبکرؓ نہ آجائیں پبلک کو یوں ہی الجھائے رہو (صفحہ 6)۔
عبارات مغلظہ از کتاب "پردہ اٹھاتا ہے" مصنف علامہ شاہد زعیم فاطمی حصہ اول رحمت اللہ بک ایجنسی کھار ادر محافظ بمبئی بازار ۔
دورِ خلافت راشدہ خون ریزیوں اور سفاکیوں کا سیاہ دور تھا جس کے سامنے ہلاکو وچنگیز کی وارداتیں دم توڑتی نظر آتی ہیں
عبارت: خلافتِ راشدہ جس کا آج دنیا میں ڈھانک ڈنگا بجایا جا رہا ہے اپنی سفاکی اور ظلم و جبر کی بھیانک واردات کے اعتبار سے ایک ایسا دورِ حکومت اور عہدہ ستم رائی ہے کہ ان پر بھی ایک قرتاسِ شائع کرنے کی ضرورت بڑی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے یہ خلافتِ راشدہ جس نے اپنے تین خلیفوںؓ کے زمانہِ اقتدار میں اپنوں پر شب خون مارنے اور بیگانوں پر بھی تگ و تاز کی اس بیان کے لیے بھی ایک طویل دفتر درکار ہے (صفحہ 5 دیباچہ)۔
جس نظام حکومت کو خلافت راشدہ کے پر فریب نام سے تعبیر کیا جا رہا ہے وہ انسانیت کی تذلیل کا ایسا سیاہ دور تھا کہ اس کی خونریزیوں اور سفارکیوں کے سامنے چنگیز و ہلاکو کی داستانیں اور وارداتیں دم توڑتی نظر آتی ہیں (صفحہ 6 دیباچہ)۔
خلیفہ اول دوم حضورﷺ کے نام پر گلچھڑے اڑانے والے اکابر مجرمین:
عبارت: اور خلیفہ اول دوم نے اس معرکے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور حضورﷺ کے نام پر گلچھڑے اڑانے والے ان دونوں اکابرین مجرمین کو اسلام کے نامور ہیرو قرار دیتے ہوئے ذرا برابر نہیں شرماتے (صفحہ 32 33)۔
شیعہ لیڈر نعیم فاطمی کی کتاب "پردہ اٹھاتا ہے" کی سرخیاں ملاحظہ ہوں:
خلیفہ دومؓ کی شراب نوشی (صفحہ 21)۔
خلافت راشدہ کا اسلام ایک خون آشام مذہب (صفحہ 11)۔
سیدنا ابوہریرہؓ ایک ضمیر فروش راوی ( صفحہ 73)۔
دس جنتیوں والی جھوٹی روایت اور اس کا جھوٹا راوی سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ (صفحہ 197)۔
زانی سپہ سالار سیدنا خالد بن ولیدؓ (صفحہ95)۔
خلیفہ دومؓ کے تضادی بیانات (صفحہ120)۔
ایک اور ضمیر فروش راوی (صفحہ87)۔
شانِ صحابہؓ ایک بے معنیٰ لفظ (صفحہ 104)۔
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ ایک بد فطرت انسان(صفحہ89)۔
بخاریؒ ایک بدنہاد محدث (صفحہ 184)۔
عبارت از تفسیر قرآن مترجم حافظ فرمان علی ناشر شیخ غلام حسین اینڈ سنز اردو بازار لاہور چاند کمپنی و پیر ابراہیم کراچی 5۔
مکمل قرآن مجید کسی کے پاس نہیں:
جابر سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا جعفر کے والد سیدنا باقر سے سنا کہ وہ فرماتے تھے کسی شخص کو یہ کہنے کی جرأت و طاقت نہیں کہ اس کے پاس مکمل قرآن ہے اس کا ظاہر بھی اور باطن بھی سوائے اوصیاء کے (اصول کافی صفحہ ایک 178 جلد ایک مطلوع تہران)۔
اصل قرآن موجودہ قرآن سے دو حصے بڑا تھا:
ہشام بن سالم سے روایت ہے کہ سیدنا جعفر صادقؑ نے فرمایا کہ وہ قرآن جو جبرائیلؑ محمدﷺ پر لے کر نازل ہوئے تھے اس میں (1700) سترہ ہزار آیتیں تھیں (اصولِ کافی صفحہ 463 جلد 2)۔
(موجودہ قرآن میں خدو شیعہ مصنفین کے لکھنے کے مطابق کل ساڑھے چھ ہزار آیات بھی نہیں)۔
عبارات مغلظہ از کتاب اصحابِ رسولﷺ کی کہانی قرآنُ و سنت کی زبانی مصنف ابوعرفان سید عاشق حسین النقوی ناصر مکتبہ العرفان واحد کالونی کراچی
*اس کتاب کی سرخیاں:*
بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خدا اور رسولﷺ کے حکم سے سرکشی و گستاخی کی (صفحہ 30)۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شراب نوشی(صفحہ 31)۔
سیدنا عمرؓ کی بدعات (صفحہ 62)۔
سیدنا عمر فاروقؓ سے عورتیں زیادہ فقیہ تھیں (صفحہ 63)۔
"نقل کفر کفر نہ نباشد" کے تحت یہ چند انتہائی بیہودہ اور غلیظ عبارت آپ نے ملاحظہ فرمائی۔
شیعہ کے شیطانیت کے چند شاہکار مشتے از خروارے کے طور پر درج کیے گئے ہیں ورنہ اس کوچے میں فریب و دجل کی لمبی لمبی کھائیاں اور کفر و ارتداد کے لمبے لمبے ستون کھڑے ہیں۔
یہ تمام غلیظ لٹریچر پاکستان جیسے اسلامی ملک میں تقسیم کیا جا رہا ہے اس کے پیچھے خمینی کی وہ ایرانی ماخذ ہے جو لاکھوں کی تعداد میں خانہ فرہنگ ہائے ایران نے شائع کر کے سب سے پہلے پاکستان بھر میں تقسیم کئے شیعہ کی قدیم کُتب بھی ایسی ہی غلطیوں سے آلودہ ہے لیکن دیدہ دلیری اور جرات کے ساتھ ان تمام عبارات کو نئے سرے سے شائع کر کے امت مسلمہ میں پھیلانے اور نئی نسل کو اسلامی تاریخ سے باغی کرنے اور اسلام کو پورے عمارت پر شگاف کرنے کا سہرا اسی خمینی کے سر آیا ہے قرآن کی 700 آیات جن میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے جنتی کامیاب وفاشعار محبتِ رسولﷺ معیارِ حق ہونے کا واشگاف طور پر اعلان کر رہی ہے کہ خود حضورﷺ کی 2000 دو ہزار سے زائد احادیث نام لے لے کر چند رفقاء کے تقدس کا اعلان کیا گیا ہے انہیں کافر مرتد اور منافق لکھتے ہوئے شیعہ مصنفین کو شرم محسوس نہیں ہوتی وہ انتہائی ڈھٹائی اور بے غیرتی کے ساتھ اپنے عہدے کے بڑے بڑے جھوٹ تراشنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ضرورت تو اس بات کی تھی کہ انقلابِ خمینی کے بعد پھیلنے والے اس غلیظ لٹریچر کا راستہ روکا جاتا ان کے ناشرین اور مصنفین کو اسلامی دشمن قرار دے کر تختہ دار پر لٹکایا جاتا لیکن ان کے بالکل برعکس ہوا کہ مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ نے اسے کھلے کفر پر احتجاج کیا شیعہ کی ان تحریروں اور ان کے ماننے والوں کو کافر اور مرتد کہا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی عظمت کو آئینی حیثیت دلانے اور گستاخ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا تو حکومت کی مشینری حرکت میں آگئی سرکاری فائلوں میں خود مولانا شہیدؒ کو تخریب کار اور فسادی تک لکھا گیا رفتہ رفتہ جب سپاہِ صحابہؓ کے بانی کی دعوت عام ہونے لگی تو اس کے دلائل افکار کا غازہ پھوٹنے لگا سپاہِ صحابہؓ کی جدوجہد نظریات آشکار ہونے لگے تو پاکستان کی سنی اکثریت اور بہت زیادہ دانشور بھی شہید ناموسِ صحابہؓ کی تائید کرنے لگے بلاشبہ مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کو اسی احتجاج اور کفر کے خلاف للکارنے ہی کے جرم میں 22 فروری 1990 کو شہید کر دیا گیا لیکن اب یہ مشن یہ فکر یہ پیغام ہر دل کی آواز ہے ہر دماغ کا محور ہے ہر قلب کا جوہر ہے ہر طبقے کی صدا ہے ہر دور کی نوا ہے ہر ملک کی گونج ہے مسلمانوں کے تمام طبقات اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر شہید ناموس صحابہؓ کے مشن کے لیے خود کو وقف کرنے کا اعلان کر رہے ہیں یہ ہے پیکرِ اخلاق کی وہ عظیم جدوجہد جو اثر حاضر سے سب سے اہم آواز ہے بدلے میں بدلے ہوئے حالات کی برابر پکار ہے۔
آئیے اس مشن کی تکمیل کے لیے ہمارا ساتھ دیجئے تاکہ پوری امتِ مسلمہ متحد ہو کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے دشمنوں کو اسلامی دشمنی سے روکے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے خلاف تحریروں کو نیست و نابود کر رہے ہیں گستاخانِ اصحابؓ رسولﷺ کا کفر پوری ملت اسلامیہ سے منوا کر اسلام اور کفر میں حد فاصل قائم کریں اسلام کے نام پر پھیلنے والے اس کفر کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں۔