شیعہ کی جارحیت اور مولانا حق نواز جھنگوی رحمۃ اللہ کی…

شیعہ کی جارحیت اور مولانا حق نواز جھنگوی رحمۃ اللہ کی جدوجہد کا آغاز

  ابو ریحان فاروقی

صفحہ 2 از 4

تاریخِ اسلام: کی ورق گردانی کرنے والا ہر انسان اس حقیقت سے واقف ہے کہ عبداللہ ابنِ سبا کی ستم کاریوں سے لے کر بغداد کے ابنِ علقمی تک مصر کے ابنِ طالوت عراقی سے لے کر ایران کے میمون القداح بن دیصان تک بغداد کے معز الدولہ سے لے کر قم کے حسن بن صباح حمیری تک شیعہ کا ہر سرغنہ اسلام کے سینے کو چھیدتا رہا ایک طرف سیّدنا عثمان غنیؓ کی شہادت دوسری طرف خود سیّدنا حسینؓ پر تیشه کاری کہیں بغداد کی تارا جی اور کہیں صلاح الدین ایوبی کے خلاف سازشوں کی گہرائیاں ایک طرف فاطمیوں کی تعدی تو دوسری طرف سلجوقیوں کا تجاوز وہاں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ تو یہاں مغلیہ دور میں نور جہاں کا تفوق میرجعفر رافضی کے ہاتھوں سراج الدولہ کا قتل ہوا تو میرصادق سبائی کے دست ستم کش سے ٹیپو سلطان کی گردن کاٹی گئی الغرض کس کس عہد کی ابتلاؤں کا رونا رویا جائے کس کس دور کے المیے کی تاریخ یاد کر کے اشک بہائے جائیں صنفِ نازک کے ذریعے ہر عہد کے شیعہ نے مسلم حکمرانوں کے دماغوں کو ماؤف کیا حرص و آز کے دریچے کھول کر مذہبی پیشواؤں کو ہمنواء بنایا برصغیر میں انگریزی استبداد کو خوش آمدید کہہ کر نو نو سو مربع زمین الاٹ کرانے والے رافضی جاگیرداروں نے عہد ماضی کی تاریخ کو دہرایا اسلام کے نام پر اہلِ اسلام میں اثر و نفوذ کیا غریب مسلم عوام سنیت کی رواداری اور اعتدال و مصلحت کی بھینٹ چڑھتے رہے شیعہ نے مسلم قومیت میں اس قدر گہرا رشتہ استوار کر لیا کہ امام مالکؒ کے فتاویٰ شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی تصریحات امام غزالیؒ کی وضاحتیں ابنِ تیمیہؒ کا واویلا حضرت مجدد الف ثانیؒ کا غوغا مولانا عبدالشکور لکنھویؒ کی چیخ و پکار بھی ان کفر کے اماموں کو امت مسلمہ سے علیحدہ نہ کرسکی بلاشبہ ان اکابرین کے اتمامِ حُجت اور محنت شاقہ نے ایک عظیم مسلم طبقے کے ایمان کی حفاظت کی اور اسلام اور کفر کی حد فاصل کو واضح کیا اس طرح قیامِ پاکستان کے بعد بھی شیعہ ایک مسلم فرقے کے طور پر ملتِ اسلامیہ کوفریب دیتے رہے شیعہ اور مسلمانوں کے جغرافیائی روابط اور تمدنی الصاق و ارتباط نے علماءِ حق کی چیخ و پکار کو درخور اعتناءنہ سمجھا بلاشبہ قیامِ پاکستان کے بعد سے لے کر آج کے بڑے بڑے علماء تک مختلف جماعتوں کے ذریعے کئی شخصیتوں نے اصحابِ رسولﷺ کی تعلیمات کے فروغ میں قابلِ قدر خدمات سرانجام دیں ایک حد تک امتِ مسلمہ کی اکثریت علماء کی اسی جدوجہد کی وجہ سے شیعہ کے دجل و تلبیس سے محفوظ رہی پاکستان کے بعض علاقوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ماں بہن کی ننگی گالیاں دی گئیں تحریر و تقریر کے ذریعے رفقائے نبوت کو کافر مرتد بدمعاش زانی شرابی خائن اور ہر قسم کے من گھڑت الزامات کا مورد ٹھرایا گیا قرآن کی 700 آیات کے مطابق دنیا کی جو جماعت قدسی الاصل اور محمدیﷺ شریعت کے عینی گواہوں کی حیثیت رکھتی تھی اسے دنیا کی سب سے بدترین جماعت کہا گیا غلاظت و کثافت کی یہ سڑاند تو شیعہ مذہب کے بانی عبداللہ بن سبا کے دور سے ہی مسلم معاشرے کو متعفن کرتی رہی تھی لیکن اس غلیظ اور بدبودار لٹریچر کو 13 زبانوں میں شائع کر کے دنیا بھر میں پھیلانے اور اپنے اصلی چہرے سے نقاب کھول کر خود کو آشکار کرنے کا سہرا عہد حاضر کے نام نہاد ایرانی پیشواء جناب خمینی صاحب کے حصہ میں آیا 11 فروری 1979 ء کو خمینی کے شیعہ انقلاب نے سینکڑوں برس کی بادشاہت کا خاتمہ کر کے جب اقتدار پر قبضہ جمایا تو امت مسلمہ کے ایک طبقے نے شاہِ ایران کی زیادتیوں کے باعث خمینی کے اسلامی دعوؤں سے ایسا فریب کھایا کہ وہ عصر حاضر کے ابنِ سباء اسلام کی بنیادوں کو منہدم کرنے والے اس دشمن اسلام کی کارگزاری کو اسلامی انقلاب قرار دینے لگے ایرانی انقلاب کی سالگرہ کے نام پر ہر سال جب یہاں کے بعض علماء اور اعتدال و مصلحت کے شکار چند دینی پیشواؤں کو ایران جا کر قریب سے "خمینیت" کو دیکھنے کا موقع ملا تو ان میں بیشتر بلبلا اٹھے غلط فہمی کا شکار ہونے والے ایک بڑے طبقے نے کھلے عام ایرانی انقلاب کو خالص شیعہ انقلاب قرار دیا رفتہ رفتہ ایرانی ذرائع ابلاغ ہی کے ذریعے ان کی اسلامیت کی قلعی کھلنے لگی خانہ کعبہ میں ہنگامہ آرائی عراق کے خلاف جنگ میں ایران کی ہٹ دھرمی اور پوری اسلامی دنیا کے موقف سے انحراف نے دنیا بھر میں خمینی اور اس کے حواریوں کے چہرے سے نقاب اتار کر اسے چوراہے میں ننگا کر دیا ایرانی ریڈیو اور ٹیلیویژن کا پروپیگنڈہ اس زور سے جاری رہا کہ 44 اسلامی ملک بشمول پاکستان ایران کی خمینی حکومت کو ملتِ اسلامیہ کا ایک حصہ گردانتے رہے جناب خمینی کے انقلاب نے دنیا کے ایک طبقہ کو اپنی طرف متوجہ ضرور کیا لیکن خمینی کے اپنے خطبات اور ان کی تصانیف جب مختلف ملکوں میں پہنچیں تو دنیائے اسلام ورطۂ حیرت میں ڈوب گئی دنیا بھر سے مختلف آراء سامنے آنے لگیں مسجدوں کے حجروں میں تبصرے ہوتے رہے جلسوں اور کانفرنسوں میں دبے لفظوں میں اختلاف کی چنگاری پھوٹنے لگی تاہم ایرانی حکومت نے ریڈیو ٹیلی ویژن اور اخبارات کے علاوہ دنیا بھر میں خانہ فرہنگ ہائے ایران کے نام پر تمام مسلم اور غیر مسلم ممالک میں ایسے سازشی سینٹر قائم کئے کہ جنہوں نے ایک طرف صحابہ کرام عضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف متعلقہ ممالک کی زبانوں میں لٹریچر کے انبار لگائے تو دوسری طرف ہر ملک کی شیعہ اقلیت کو سرمایہ اور اسلحہ فراہم کیا نتیجتاً دنیا بھر میں ایران کے شیعہ انقلاب کو برآمد کرنے کی مہم زور شور سے جاری رہی بد قسمتی سے دنیا کے تمام اسلامی ممالک میں کوئی حکومت مذہبی اور دینی اقدار کے احیاء میں اس قدر حساس اور اور مہم جو نہ تھی جو ایران کے اس طوفانی لٹریچر اور پر پیگنڈے کا مؤثر جواب دیتی شیعہ کی ایک مذہبی حکومت خود اپنے سبائی اور شیعی نظریات کو عین اسلام قرار دینے کیلئے کبھی لا شرقیہ و لا غربیہ اسلامیہ اسلامیہ کا نعرہ لگاتی رہی کبھی امریکی اور روسی سامراج کے خلاف اعلانِ جنگ سے امت مسلمہ کے ایک طبقے کو گمراہ کرتی رہی کبھی شیعہ سنی اتفاق و اتحاد کا واویلا کرتی رہی ایک طرف وہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے اتحاد کی دعویدار بن رہی ہے دوسری طرف سیّدنا ابوبکر صدیقؓ سیّدنا عمرؓ اور سیّدنا عثمان غنیؓ کو کافر اور زندیق لکھتی رہی ایک طرف تمام امت مسلمہ ایک ہے کا راگ الاپتی رہی دوسری طرف ایران کی 34 فیصد سُنی آبادی کو ایک مسجد کے قیام سے سختی کے ساتھ روکتی رہی ایرانی حکومت نے ایک طرف کہا کہ شیعہ و سُنی میں جو تفریق کرتا ہے وہ نہ شیعہ ہے نہ سُنی تو دوسری طرف اپنے ہی حکومتی دستور میں اس کی دھجیاں یوں بکھیریں کہ ایران کا صدر وزیر اعظم وزراء حتیٰ کہ ایرانی پارلیمنٹ کا ممبر بھی اثنا عشری شیعہ ہی ہوگا اندریں حالات پاکستان میں جس پہلے انسان نے نہایت جرات اور بے مثال استقلال کے ساتھ کھلے عام خمینی کے کفریہ عقائد کو جلسوں اور کانفرنسوں میں آشکار کیا۔ وہ مولانا حقنواز جھنگوی شہیدؒ کی ذات گرامی تھی۔

صفحہ 2 از 4