شیعہ کی جارحیت اور مولانا حق نواز جھنگوی رحمۃ اللہ کی…

شیعہ کی جارحیت اور مولانا حق نواز جھنگوی رحمۃ اللہ کی جدوجہد کا آغاز

  ابو ریحان فاروقی

صفحہ 3 از 4

آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے:

اذا ظهرت الفتن او البدع و سبت اصحابی فيظهر العالم علمه و ان لم يفعل ذالك فعليه لعنة الله والملائكة والناس اجمعين۔

ترجمہ: جب فتنے ظاہر ہو جائیں بدعات پھیلنے لگیں اور میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دی جانے لگیں تو عالم کو چاہیے اپنا علم ظاہر کرے اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس پر اللہ فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہوگی۔

آنحضرت ﷺ کے انہی ارشادات کا تقاضا تھا کہ تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالی دینے اور کافر قرار دینے والے گروہ کے خلاف علماء اٹھ کھڑے ہوں اپنی تمام توانائیاں اس عظیم فتنہ کی سرکوبی کے لئے صرف کریں آسائش و آرام اور عافیت و سکون کو تج کر اس کھلے کفر کو جو صرف دولت کے بل بوتے پر پروپیگنڈے کے ذریعے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ساری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے للکارا جائے اس کے کفریہ عقائد کو ہر شہر ہر کوچے ہر بستی اور ہر ملک میں کھول کر دنیا کے ایک عرب بیس کروڑ مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کی جائے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر سبِ و شتم سے علماء پر جو محمدیﷺ احکام کے مطابق ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس سے عہدہ برآ ہوا جائے ایسے حالات میں پاکستان میں اسلامی سوچ رکھنے والی ایسی کوئی حکومت نہ تھی بیورو کریس میں ہر جگہ شیعہ کے جراثیم تھے مختلف علاقوں میں شیعہ جاگیرداروں کا تسلط تھا اس عظیم مشن کی تکمیل کس طرح ممکن تھی جب ہر علاقے اور ہر شہر کے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی اسلام کے اس عظیم الشان فریضہ کی ادائیگی کو فرقہ واریت قرار دے رہے ہوں پاکستان کے تمام سیاستدان اپنی اپنی مصلحتوں اور مجبوریوں کے باعث اس خاردار وادی میں قدم رکھنے سے لرزاں ہوں اپنی اپنی چودھراہٹوں اور قیادتوں کی باہمی جنگ کو تو اصولی قرار دیتے ہوں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کھلے عام کافر قرار دینے والوں کے خلاف سخت لہجے کو ملکی حالات کی خرابی کے پر فریب الفاظ کے ذریعے ملک کے مفاد کے خلاف قرار دے رہے ہوں بہت مشکل تھا کہ کوئی شخص صرف دینی حمیت کا پیرہن اوڑھ کر کارزار میں اترے عواقب و نتائج سے بے نیاز ہو کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مدح اور ان کے دشمنوں سے نمٹنے کیلئے تنہا آتش خیرابات میں کود پڑے۔

مولانا حق نواز جھنگویؒ پاکستان کے پہلے عالم دین اور مجاہد خطیب تھے جنہوں نے بے سروسامانی کے عالم میں مشکلات کا سینہ چیر کر مصائب کے سمندر میں شناوری کی انہوں نے مسلمانوں کے سامنے شیعہ کے کفر کو ایسے واضح دلائل سے آشکار کیا کہ لاکھوں کے اجتماعات میں ایک بھی ایسا شخص نہ ہوتا تھا جو ان کی تقریر کے بعد خمینی اور اس کے حواریوں کے کافر ہونے کا انکار کرے۔

مولانا حق نواز جھنگویؒ کی قائم کردہ تنظیم سپاہِ پاکستان نے صرف پانچ سال کے مختصر عرصہ میں کالجوں سکولوں یونیورسٹیوں میں اہلِ سنت کے تمام نوجوانوں کو لاکھوں کی تعداد میں ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے اس عظیم مشن کی تکمیل کی ان کو تخریب کار فسادی فرقہ پرور کہا گیا ان کے لہجے کو سخت ان کی تقریر کو شور و غل کا عنوان دیا گیا لیکن اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ انہوں نے 15 سالہ خطابت کے دوران کوئی تقریر ایسی نہیں کی جو دلائل و براہین سے خالی ہو وہ اپنے موقف پر انتہائی مضبوط شواہد پیش کرتے وہ جانتے تھے کہ میرا مقابلہ ایک ایسے کفر کے ساتھ ہے کہ جو نہ صرف یہ کہ ریڈیو ٹیلی ویژن اخبارات سے لیس ہے بلکہ کروڑوں ڈالر ہر سال اپنے کفریہ عقائد کو اسلام ثابت کرنے پر خرچ کرتا ہے لیکن حکومتی تعاون کے بغیر بے سرو سامانی کے عالم میں امت مسلمہ کی خوابیدہ روحوں کو جس ہمت اور پامردی سے بیدار کیا وہ انہی کا حصہ تھا تاریخ کے دریچے سے جھانکنے والا ہر شخص جانتا تھا کہ سیدنا سعید بن جبیرؓ امام ابوحنیفہؒ امام احمد بن حنبلؒ حضرت مجدد الف ثانیؒ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہابؒ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور شیخ الہند محمود الحسنؒ تاریخ اسلام کی وہ درخشندہ شخصیتیں ہیں جنہیں اپنے اپنے عہد میں ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا انکے سامنے حکومتوں کے مظالم اپنوں کی بے وفائی اور ہر راہ پر کانٹوں کی مالا تھی ہر عہد آفرین شخص جب دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اس کے اخلاص وللہیت کے باعث اس کے مشن کی حقانیت سورج کی طرح آشکار ہوجاتی ہے اس کے مخالف بھی اس کے موقف کی تائید کرنے لگتے ہیں اسکو برا کہنے والے بھی اس کے مدح سرا ہوتے ہیں اس کے نصب العین سے اختلاف رکھنے والے بھی خود اس کے پروگرام کے علمبردار بن جاتے ہیں ایسی صورتِ حال شہید اسلام مولانا حق نواز جھنگویؒ کے بعد پیش آئی ہزاروں انسان ان کی قبر پر اشکبار نظر آتے ہیں ان کے مخالف بھی ان کے موقف سے یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں ان کے جنازے کے بے شمار لاکھ انسانوں میں ہر شخص دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا حکومتی پابندیوں کے باوجود اتنا بڑا جنازہ پاکستان کی تاریخ میں چند بڑے جنازوں میں سے ایک تھا سپاہِ صحابہؓ کے قیام کے بعد 6 ستمبر 1984 ء سے مولانا حق نوازؒ خمینی کے کفریہ عقائد کھلے دجل و فریب اور ان کے حواریوں اور پیشواؤں کی غلیظ تحریروں کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں آگئے تھے انہوں نے صرف 5 سال میں پاکستان میں ایسی فضا تیار کر دی تھی کہ عامتہ الناس میں خمینی اور ان کے ہمنواؤں کی صفائی پیش کرنا مشکل ہوگیا تھا ان کے اس چیلنج نے شیعہ کو ایسا لاجواب کر دیا وہ دلائل کا سامنا نہ کرسکے اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ان کے قتل پر اتر آئے۔

مولانا حق نواز کا چیلنج یہ تھا۔

صفحہ 3 از 4