Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ زہرہ بن حویہ کا اعتماد بحال کرواتے ہیں

  علی محمد الصلابی

زہرہ نے جب فارس کی شکست خوردہ فوج کا پیچھا کیا اور ان کے جرنیل جالینوس کو قتل کر کے واپس لوٹے تو جالینوس کے ہتھیار اور اس کے قیمتی لباس چھین لائے، اس وقت کچھ فارسی قیدی حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے انہوں نے زہرہ کو دیکھتے ہی کہا کہ ان کے پاس یہ جو ہتھیار اور پوشاک ہے جالینوس کا ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے زہرہ سے پوچھا: اور کسی نے تمہاری مدد کی تھی؟ زہرہ نے کہا: ہاں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا کون؟ زہرہ نے کہا: اللہ نے۔

 زہرہ اس وقت بالکل نوجوان تھے ان کے بال لمبے لمبے تھے، زمانہ جاہلیت میں وہ سردار رہ چکے تھے اور اسلام لانے کے بعد نہایت شان دار مجاہدانہ کارنامے انجام دیے۔ حضرت سعدؓ زہرہ کی اس جلد بازی پر غصہ ہو گئے کہ میری اجازت کے بغیر جالینوس سے چھینے ہوئے پوشاک کیوں پہن لی اور سختی سے ڈانٹتے ہوئے کپڑا ان سے نکلوا لیا،

اور کہا: تم نے میری اجازت کا انتظار کیوں نہیں کیا؟(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 391)

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی اس کارروائی کی خبر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ملی، تو آپؓ نے حضرت سعدؓ کو حکم دیا کہ زہرہ جیسے لوگوں کے ساتھ تم یہ برتاؤ کرتے ہو، حالانکہ اس نے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں اور ابھی تمہیں بہت سی جنگیں لڑنی ہیں، تم اس کی عظمت توڑنا چاہتے ہو اور اس کا دل چھوٹا کرنا چاہتے ہو، اس نے جو چھینا ہے وہ اسے دے دو، اس کے ساتھیوں کو حصہ دیتے وقت اسے مزید پانچ سو درہم بطور انعام دو۔ اسی طرح ہر وہ مجاہد جس نے دشمن کے کسی سپاہی کو قتل کیا ہے اسے اپنے دشمن سے چھینا ہوا مال بطور انعام زیادہ دے دو، چنانچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جالینوس کے ہتھیار و پوشاک زہرہ کو واپس لوٹا دیے اور اسے زہرہ نے ستر ہزار درہم میں فروخت کیا۔

 (تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 391) 

اس طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زہرہ کا اعتماد بحال کیا۔

(القادسیۃ: صفحہ 204)