رفض و شیعت کا موجد ابن سباء ایک یہودی - ردِ رافضیت | دفاع…

رفض و شیعت کا موجد ابن سباء ایک یہودی

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 8

رفض و شیعت کا موجد ابنِ سباء ایک یہودی

شیعہ مذہب شروع سے لیکر حاضر تک اسلام اور مسلمانوں کے لئے مشکلات پیدا کرتا آرہا ہے کبھی شیعانِ علی کے نام پر کبھی قصاصِ حسینؓ کے نام پر، کبھی منگول حکمرانوں سے ملکر تو کبھی صلیبیوں سے مل کر۔ اس تحریر کا مقصد شیعہ مذہب کے مؤجد انکے محسنِ اعظم ابنِ سباء کے بارے میں آپ تک معلومات پہنچانا ہے اور یہ تحریر اسلامک فورم پر ہمارے بھائی ابنِ حسین کی تحریر کا ترجمہ ہے جو انہوں نے گفٹ ٹو شیعہ بلاگ پر اپلوڈ کی تھی اس میں کچھ ہماری محنت بھی شامل حال رہے گی۔اگر کسی بھی قسم کی خلاف توقع بات ملے تو براہِ کرم اصل آرٹیکل کی طرف رجوع کریں ہوسکتا ہے ترجمہ میں غلطی ہوئی ہو۔

اصل آرٹیکل یہاں پر ہے لنک پر کلک کریں:

Ibn Saba the spiritual Father of Rafida

شیعوں کے ویسے تو بہت ہی فرقے ہیں لیکن تاریخ میں ان کی تقسیم صرف 3 گروہوں میں کی گئی ہے جو کہ ان کے عقائد کی بنیاد پر ہے ۔ جس میں تفضیلی شیعہ ، امامیہ شیعہ اور غالی رافضی(جو کہ سیدنا علیؓ کے بارے میں الوہیت کا دعویٰ رکھتے ہیں شامی دکٹیٹر بشار الاسد اسی گروپ سے تعلق رکھتا ہے)

عبداللہ ابنِ سباء کے بارے میں شیعہ و سنی تواریخ میں بہت کچھ پایا جاتا ہے جو کہ ایک تواتر کی حد سے بھی زیادہ ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ شخص واقعی میں حقیقت ہے نہ افسانہ جیسے آج کل کے شیعہ اسے افسانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں پر اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس شخص کو ہی آخر شیعہ عقائد کا مؤجد کیوں کہا جاتا ہے۔

ملا مجلسی بحار الانوار میں لکھتا ہے:

علامہ مجلسی لکھتے ہیں:

وذكر بعض أهل العلم أن عبد الله بن سبا كان يهوديا فأسلم ووالى عليا عليه السلام وكان يقول وهو على يهوديته في يوشع بن نون وصي موسى بالغلو فقال في إسلامه بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وآله في علي عليه السلام مثل ذلك. وكان أول من أشهر بالقول بفرض إمامة علي عليه السلام وأظهر البراءة من أعدائه وكاشف مخالفيه وأكفرهم۔

بعض اہلِ علم نے ذکر کیا ہے کہ عبداللہ ابنِ سباء یہودی تھا اسلام لے آیا اور پھر سیدنا علیؓ کی ولایت کا قائل ہوا۔ اس پہلے جب یہ یہودی تھا تو حضرت یوشع کے بارے میں غلو کرتا تھا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصی ہیں۔ اسلام لانے کے بعد اسی قسم کی بات سیدنا علیؓ کے بارے میں کی یہ سب سے پہلا شخص ہے جس نے سیدنا علیؓ کی امامت کا قائل ہونا فرض قرار دیا اور ان کی دشمنوں پر اعلانیہ تبراء کیا اور مخالفوں کو کافر کہا۔

(بحارالنوار جلد 25 صفحہ 287 )

سیدنا صادقؓ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

رجال الكشي: محمد بن قولويه عن سعد عن ابن يزيد ومحمد بن عيسى عن علي بن مهزيار عن فضالة بن أيوب الأزدي عن أبان بن عثمان قال: سمعت أبا عبد الله عليه السلام يقول: لعن الله عبد الله بن سبا إنه ادعى الربوبية في أمير المؤمنين،

عبداللہ ابنِ سباء پر اللہ کی لعنت ہو اس نے امیر المؤمنین کے بارے میں ربوبیت کا دعویٰ کیا۔

(بحارالانوار جلد 25 صفحہ 287)

ان روایات سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ شیعوں کے تینوں ہی فرقوں کی بنیاد اسی ایک شخص کے عقائد پر ہے تفضیلیوں نے اس کے افضلیت علیؓ کا عقیدہ اپنایا ، امامی شیعوں نے افضلیت علیؓ، امامت،تبراء بازی کے عقائد کو ملا کر اپنایا پھر غالیوں نے اس کے الوہیت علی کے عقیدہ کو اپنایا چناچہ مجموعی طور پر سب شیعہ عقائد کا مؤجد یہی ہے۔

عبداللہ ابنِ سباء ایک یہودی جو کہ شیعوں کا روحانی باپ ہے

یہ مضمون تین حصوں میں تقسیم شدہ ہے جو کہ یہ ہیں:

¹-ایک یہ نئی بات ابنِ سباء کے ہونے کا مکمل انکار جو کہ آج کل کے شیعہ علماء زور و شور سے پروپیگینڈہ کرتے ہیں۔

²-ابنِ سباء یہودی شیعہ کتب میں ایسی حقیقت جس کا بہت سے شیعوں کو علم نہیں۔

³-شیعوں کا اعتراض کہ ابنِ سباء تو ہے لیکن مذہب امامیہ کا مؤجد یہ نہیں ہے۔

تمام شیعہ و سنی عبداللہ ابنِ سباء کے ہونے پر متفق ہیں (البتہ شیعہ اس بات کا انکار کرنے کی کوشش کرتے آرہے ہیں کہ رافضی مذہب کی بنیاد ایک یہودی کے عقائد پر ہے) یہاں تک کہ مستشرقین جن میں برنارڈ لیوس ، جولیس ویلحاسن ، فرائیڈلینڈر ، اور کیٹانی لیون شامل ہیں جنہوں نے ابنِ سباء کے ہونے پر اعتراضات کرنے شروع کر دیے جن کی بنیاد طحہ حسین ، کامل حسین ، عدنان ابراہیم جیسے جاہلوں کے کام پر ہیں چنانچہ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ شیعوں نے اپنے آباؤ اجداد سے اختلاف کرتے ہوئے اس کو اپنا لیا کہ ابنِ سباء ایک افسانہ ہے جس کی بنیاد بنی امیہ کے حکمرانوں کی کارستانی ہے جس کا مقصد شیعیت کو نقصان پہنچانا تھا اس کی تائید کرنے والوں میں مرتضیٰ عسکری اور کشف الغیتا وغیرہ شامل ہیں حالانکہ 1300 ہجری 1900 سے پہلے اس پر کوئی جھگڑا نہیں تھا کہ ابنِ سباء نہیں ہے۔ اس کے بعد کے شیعوں نے جب مستشرقین کو دیکھا کہ وہ ابنِ سباء پر اعتراض کر رہے ہیں تو انہوں نے یہ کہنا شرو ع کردیا کہ ابنِ سباء ایک افسانہ ہے یہ ایک ہی حل تھا (جو انہوں نے عیسائیوں اور یہودیوں سے لیا اور ثابت کیا کہ وہ یہودیوں کے مرید ہیں) جو کہ ان کے جھوٹے مذہب کو تنقید سے بچا سکتا تھا۔

جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ آج کل کے رافضی یہ بات مکمل رد کرتے ہیں کہ عبدا للہ ابنِ سباء یمنی یہودی کے نام سے کوئی آدمی ہے وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افسانہ بنو امیہ کا گھڑا ہوا ہے جس کا مطلب شیعیت کو نقصان پہنچانا اور صحابہؓ کے جرائم کی پردہ پوشی کرنا تھا انہوں نے اس پر کتب بھی لکھیں ہیں ان سب میں مشہور مرتضیٰ عسکری کی کتاب ہے جس کا نام عبداللہ ابنِ سباء ہے اس کی کتاب کے بہت زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے اور اس کا مکمل رد کیا گیا ہے اب ہم اپنے ٹاپک کے پہلے حصہ کی طرف چلتے ہیں۔

حصہ اول: ایک نئی بات ابنِ سباء کے ہونے کا مکمل انکار جو کہ آج کل کے شیعہ علماء زور و شور سے پروپیگینڈہ کرتے ہیں۔

شیعوں کا اعتراض: ابنِ سباء ایک افسانہ ہے جو کہ بنی امیہ کا گھڑا ہوا ہے جس کے راوی صرف ایک ہے سیف بن عمر التمیمی جو کہ خود اہلِ سنت کے ہاں بھی جھوٹا ہے۔

صفحہ 1 از 8