رفض و شیعت کا موجد ابن سباء ایک یہودی - ردِ رافضیت | دفاع…

رفض و شیعت کا موجد ابن سباء ایک یہودی

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 8

ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے یہ بات ثابت کریں گے کہ سنی روایات میں صرف سیف بن عمر سے اس کے بارے میں روایات نہیں دوسری سندوں سے بھی ہیں۔

حقیقت میں یہ ایک افسانہ ہے جو کہ آج کل کے شیعوں نے گھڑا ہے مثال کے طور پر انٹرنیٹ پر شیعوں کی مشہور ویب اسلام ڈاٹ او آرجی میں لکھا ہے۔

عبداللہ ابنِ سباء کی کہانی ایک شیطان کے پیروکار سیف بن عمر تمیمی کی گھڑی ہوئی ہے ابنِ سباء وقت نہ تو تھا اور نہ ہی سیف بن عمر کے وہم و گمان میں تھا۔

جہاں تک کچھ روایات میں اس کے ہونے کی بات ہے تو اس میں بلکل ہی مختلف کہانی بتائی گئی ہے جو کہ سیف بن عمر کے ہر الزام سے مختلف ہے جس میں ایک ایسی آدمی کی تصویر دکھائی دیتی ہے جس سے اہلِ بیت نے برأت کا اظہار کیا اور اس سے بھی جو وہ امام علی کے نام پر کرتا تھا ہمارے امام ، ہمارے علماء اور شیعہ اس پر لعنت بھیجتے ہیں اگر وہ ہے تو وہ بدمذہب تھا اس کے او ر ہمارے بیچ میں کوئی بات ایک جیسی نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم اس کو لعنت کرتے ہیں اور ہر اس کو بھی جو اہلِ بیت کو دیوتا مانتا ہے۔

اب ہم ان شیعوں کے مخلتف دعویٰ کو دیکھتے ہیں جس کے بنیاد پر وہ ابنِ سباء کے ہونے کا انکار کرتے ہیں

اول: ایسی روایات جو کہ سیف بن عمر کے علاوہ مروی ہیں ان میں ابنِ سباء کی مختلف تصویر ہے جو کہ سیف بن عمر سے مختلف ہے اور اس میں اور شیعوں میں کوئی چیز یکساں نہیں۔

دوم: سیف بن عمر نے ہی اس کو ایجاد کیا جس کو سنی محدیثین نے بھی ضعیف کہا ہے۔

اول: ایسی روایات جو کہ سیف بن عمر کے علاوہ مروی ہیں

پہلی روایت 

جاءفی (طوق الحمامة)ليحي بن حمزة الزبيدي عن سويد بن غفلةالجعفي الكوفي المتوفي عام(80ه‍/699م)أنه دخل على عليؓ في امارته،فقال:إنى مررت بنفر يذكرون أبا بكر و عمر بسوء،ويروون أنك تضمر له‍ما مثل ذلك، منه‍م عبدالله بن سباء، فقال علي:مالي وله‍ذا الخبىث الأسود ،ثم قال:معاذالله أن أضمر له‍ما إلاالحسن الجميل،ثم أرسل إلى ابن سبأفسيره ألى ألمداىٔن، ونه‍ض ألى المنبر، حتى اجتمع الناس أثنى عليه‍ما خير، ثم قال:أذا بلغنى عن أحد أنه يفضلني عليهما جلدته حد المفتري

اله‍ي ظه‍ير،إحسان السنة والشىيعه،نشر إدارة ترجمه السنه-اله‍ور.

ترجمہ: یحییٰ بن حمزہ زبیدی سوید بن غفلہ ال جعفی سے روایت کرتا ہے کہ وہ سیدنا علیؓ کے پاس داخل ہوا اور انہیں کہا کہ میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جس میں عبداللہ بن سباء بھی تھا وہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کے بارے میں منفی باتیں کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ آپ کے دل میں ان کے خلاف احساس پایا جاتا ہے تو آپ نے کہا کہ خبیث کالا آدمی مجھ سے کیا چاہتا ہے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ان کے خلاف دل میں بات رکھنے سے اور دونوں کے لیے ادب رکھتا ہوں اور آپ نے اس کو مدین کی طرف جلا وطن کر دیا اور منبر پر تشریف لائے یہاں تک کہ لوگ جمع ہو گئے آپ نے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی تعریف کی اور کہا کہ اگر یہ بات مجھے پہنچی کہ مجھے ان دونوں پر فضیلت دی جاتی ہے تو میں اس کو کوڑے لگاؤں گا جیسے کہ جھوٹوں کو لگائے جاتے تھےـ

حقیقت میں یہ روایت مختلف سندوں سے بیان کی گئی ہے جو کہ صحیح ہیں جیسے ابو اسحاق الفرازی سیرہ میں یہ بیان نقل کرتے ہیں شعبہ سے سلمہ بن خیل سے وہ ابو الزراہ سے وہ زید بن ھباب سےـ خطیب نے اس روایت کی تخریب الکفایہ صفحہ376 پر کی ہے اور کہا ہے کہ ابو عبداللہ البوشانجی نے اسے صحیح کہا ہے،ابو نصر محمد بن عبداللہ الامام نے اپنی شرح میں کہا ہے یہ روایت دوسری سندوں سے بھی ثبت ہے اور اس کا آخری حصہ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ امت کے میں سے سب سے بہترین ہیں جو کہ خود سیدنا علیؓ نے کہا ہے یہ متواتر ہےـ

اور اہلِ بیت کے مشہور افراد سے بھی ایسا ہی روایت کیا گیا ہے سیدنا علیؓ سے زید بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب جو کہ علویوں کے رہنماء تھے ہشام کے دور میں، کوفیوں نے ان سے ان کے دادا حسین کی طرح دھوکہ کیا جب انہوں نے سیدنا ابوبکرؓ اورسیدنا عمرؓ کے خلاف شہادت دینے سے انکار کر دیا اس کے بعد وہ بنی امیہ کے لشکر کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ 

طلبةالرافضة من زيد ابن علي التبرؤ من ابو بكر وعمر فقال: انهما وزيرا جدي،فقالوا له: اذا نرفضك،فقال لهم: اذهبوا فانتم الرافضة

رافضیوں نے زید بن علی جب وہ خروج کیے ہوئے تھے سے کہا کہ ان کو ابوبکر و عمر سے جو محبت ہے وہ ترک کرنی پڑے گی تو انہوں نے کہا وہ میرے نانا جان کے ساتھی تھے تو پھر ان شیعوں نے کہا ہم آپ کا انکار کرتے ہیں انہوں نے کہا جاؤ تم سب آزاد اے رافضیوں ہوـ

طلعان رافضة في اصحابةالرسول صفحہ17 ابو نصرمحمد بن عبد الله الامام اور انہوں نے اسے صحیح کہا)

یہی روایت شیعہ کتاب میں بھی ملتی ہے 

زید بن علی بن حسین جو کہ شیعوں میں معزز سمجھے جاتے تھے ان سے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا میں ہمیشہ ان کو اچھے الفاظ سے یاد کرتا ہوں اور میں رسولﷺ کے اہلِ بیت میں سے کسی کو بھی ان کی برائی کرتے نہیں سنا نہ تو انہوں نے ہمارا حق چھینا اور نہ ہی کسی شہری پر ظلم کیا وہ دونوں (سیدنا ابوبکرؓ وسیدنا عمرؓ ) قرآن و سنت کے سختی سے پیروکار تھے یہ سن کر ان لوگوں شیعہ (شیعوں) نے کہا آپ پھر ہمارے ساتھ ہی نہیں ہو سکتے تو انہوں نے کہا کہ تم لوگوں نے اس دن سے ہمیں چھوڑ دیا ہے اور آج کے بعد تم رافضی کہلاؤ گےـ

(ناسخ التواریخ جلد 2صفحہ 590 یہ کتاب شیعوں کے ہاں مشہور ہے اور مستند مانی جاتی ہے جیسا کہ اعیان الشیعہ جلد2 صفحہ132 پر اس کی توثیق ہے) 

جعفر بن محمد الصادق اپنے والد سے وہ عبداللہ بن جعفر سے روایت کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیقؓ اللہ کی ان پر رحمت ہو ہمارے خلیفہ بنے اور وہ اللہ کے بہترین خلیفہ تھے وہ ہم پر بہت مہربان اور ہمارا خیال رکھنے والے تھےـ

(فضائل صحابہ الدار قطنی: الااصابہ ابن حجر،المستدرک الحاکم) 

الحاکم اور زہبی اور ان کے ساتھ بن حجر اتفاق کرتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے

ابو عبداللہ جعفر بن محمد الصادق فرماتے ہیں کہ اللہ ان سے خود کو الگ کر لیتا ہے جو خود کو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سے الگ کرتے ہیں۔

صفحہ 2 از 8