رفض و شیعت کا موجد ابن سباء ایک یہودی - ردِ رافضیت | دفاع…

رفض و شیعت کا موجد ابن سباء ایک یہودی

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 8

قال الذهبي: قلت: هذا القول متواتر عن جعفر الصادق،اشهد بالله انه لبار في قوله غير منافق لأحد فاقبح الله الرافضه

امام زہبیؒ کہتے ہیں کہ یہ قول سیدنا جعفرؒ سے متواتر ہے اور میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ اس میں سچے ہیں تقیہ نہیں کر رہے خدا رافضیوں کی بد شکلی اور بڑھائے(سیار الاعلام النبلا: جلد 6 صفحہ 260)

دوسری روایت 

اخرج ابني عساكر عن زيد بن وهب الجهني الكوفي المتوفي عام(90ھ‍‍709م) قال(قال علي بن ابي طالب: مالي ولهذا الخبيث الأسود -يعني عبد الله بن سبا-وكان يقع في أبو بكر وعمر

(ابنِ عساکر مختصر تاریخ دمشق: مرجع سابق م 12 صفحہ 222)

زید بن وہب کہتے ہیں کہ علی ابن ابی طالبؓ نے کہا کہ مجھے اس کالے خبیث کے ساتھ کیا کرنا چاہیے ان کا مطلب عبداللہ بن سباء تھا جو کہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی برائی کرتا تھاـ

یہ روایت تاریخ ابنِ ابی خثیمہ میں بھی پائی جاتی ہے صحیح سند کے ساتھ

تیسری روایت

أخبرنا أبو محمد بن طاوس وأبو يعلى حمزة بن الاحسن بن المفرج،قالا: أنا أبو قاسم بن أبي العلاء نا أبو محمد بن أبي نصر،اناخيسمةبن سليمان, نااحمد بن زهيربن حرب،نا عمر بن مرزوق أناشعبة،عن سلمة بن كهيل عن زيد قال: قال علي بن ابي طالب: مالي ولهذا الحميت الأسود ؟يعني عبد الله ابن سباوكان يقول في أبى بكر وعمر

زید کہتے ہیں کہ علی ابن ابی طالبؓ نے کہا کہ مجھے اس کالے خبیث کے ساتھ کیا کرنا چاہئے ان کا مطلب عبداللہ بن سباء تھا جو کہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی برائی کرتا تھا۔

اس حدیث کی سند اچھی ہے جو کہ ثقہ راویوں سے آئی ہے

چوتھی روایت

اخبرنا أبو ألمظفر القشيري،انا ابو سعد الجنزروزي،انا ابو عمر أبن حمدان،واخبرنا ابو سهل محمد بن ابراهيم بن سعوديه،انا ابويعلي الموصلي،نا ابو كريب محمد بن العلاء الهمداني،نا محمد ابن الحسن الاسدي،نا هارون بن صالح الهمداني،عن الحارث أبن عبد الرحمن عن ابي الجلاس،قال: سمعت عليا يقول لعبد الله السبئي،ويلك والله ما افضي الى بشيء كتمه احدا من الناس،ولقد سمعته يقول: ان بين يدي الساعة ثلاثين كذابا وانك لاحدهم،قالا: وانا ابويعلي،نا ابو بكر بن ابي شيبه،نا محمد ابن الحسن،زاد ابن المقرئ الأسدي باسناده مثله

سیدنا علیؓ نے ابنِ سباء سے کہا کہ تم پر افسوس ہے رسولﷺ نے مجھے ایسا کچھ نہیں بتایا جو کہ انہوں نے دوسروں سے مخفی رکھا ہو میں نے آپﷺ سے سنا ہے کہ آج سے قیامت تک 30 جھوٹے ہوں گے اور ان میں سے ایک تو ہے

اس روایت کے کچھ راویوں پر تنقید پائی جاتی ہے پر یہ روایت اور بھی بہت سندوں سے آئی ہے جو کہ مضبوط ہیں

پانچویں روایت

أخبرنا أبو بكر أحمد بن المظفر بن الحسين بن سوسن التمار في كتابة ، وأخبرني أبو طاهر محمد بن محمد بن عبد الله السبخي بمرو ، عنه ، أنا أبو علي بن شاذان، نا أبو بكر محمد بن عبد الله بن يونس أبو الأحوص عن مغيرة عن سماك قال: بلغ عليا أن ابن السواد ينتقض أبا بكر وعمر، فدعا به ودعا بالسيف أو قال فهم بقتله فكلم فيه فقال: لايساكني ببلد أنا فيه، قال: فسير إلى المدائن۔

ابنِ سماک کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ تک یہ بات پہنچی کہ ابنِ اسود (ابنِ سباء کا نک نیم اسود معنی کالا کی ہیں وہ رنگ کا کالا تھا) سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کے خلاف باتیں کرتا ہے تو انہوں نے اس کو بلایا اور پھر تلوار بھی منگوائی پھر لوگوں نے ان سے بات کی اس کے قتل کے بارے میں تو انہوں نے کہا یہ اور میں ایک جگہ پر نہیں رہ سکتے پھر اس کو مدین جلا وطن کردیا۔

اس روایت کے سارے راوی ثقہ ہیں لیکن ابنِ سماک نے یہ روایت سیدھی سیدنا علیؓ سے نہیں سنی۔

چھٹی روایت

8۔ أنبأنا أبو بكر محمد بن طرخان بن بلتكين بن يحكم ، أنا أبو الفضائل محمد أبن أحمد بن عبد الباقي بن طوق ، قال : قرىء على أبي القاسم عبيدالله ابن علي أبن عبيد الله الرقي ، نا أبو أحمد عبيد الله بن محمد أبن أبى مسلم ، أنا أبو عمر محمد بن عبد الواحد ، أخبرني الغطافي ، عن رجاله ، عن الصادق عن آبائه الطاهرين عن جابر قال : لما بويع علي خطب الناس فقام إليه عبد الله بن سبأ فقال له : أنت دابة الأرض، قال فقال له  اتق الله ، فقال له : أنت الملك ، فقال له : اتق الله ، فقال له : أنت خلقت الخلق ، وبسطت الرزق ، فأمر بقتله ، فاجتمعت الرافضة فقالت: دعه وانفه إلى ساباط المدائن فإنك إن قتلته بالمدينة خرجت أصحابه علينا وشيعته، فنفاه إلي ساباط المدائن فثم القرامطة والرافضة ، قال: ثم قامت إليه طائفة وهم السبئية وكانوا أحد عشر رجلا فقال أرجعوا فإني علي بن أبي طالب أبي مشهور وأمي مشهورة، وانا أبن عم محمد صلي الله عليه وسلم فقالوا لا نرجع، دع داعيك فأحرقهم بالنار، وقبورهم في صحراء أحد عشر مشهورة فقال من بقي ممن لم يكشف رأسه منهم علينا : أنه إله ، واحتجوا بقول ابن عباس: ”لا يعذب بالنار إلا خالقها ”قال ثعلب : وقد عذب بالنار قبل علي أبو بكر الصديق شيخ الإسلام رضي الله عنه وذاك أنه رفع إليه رجل يقال له: الفجأة وقالوا إنه شتم النبي صلي الله عليه وسلم بعد وفاته، فأخرجه إلى الصحراء فأحرقه بالنار . قال فقال ابن عباس: قد عذب أبو بكر بالنار فاعبدوه أيضا

سیدنا علیؓ خطبہ دینے کے واسطے کھڑے ہوئے بیعت کے بعد عبداللہ بن سباء ان کے پاس آیا اور کہا کہ آپ دابتہ الارض ہیں، آپؓ نے کہا اللہ سے ڈرو پھر ابنِ سباء نے کہا کہ تم مالک ہو آپ نے کہا اللہ سے ڈرو اس کے بعد ابنِ سبا نے کہا کہ آپ ہی مخلوقِ خالق ہے اور اس کو رزق دیا ہے آپؓ نے حکم دیا کہ اس کو قتل کیا جائے تو رافضیو ں نے کہا کہ بہتر ہے آپ اسے مدین کی طرف جلاوطن کردیں نہیں تو اس کے لوگ ہمارے خلاف بغاوت کریں گے۔

سنیوں کی کتب میں چھ روایات ہیں جو کہ ایسی ہیں جو کہ سیف بن عمر کے علاوہ ہیں شیخ سلیمان بن الحماد نے ان روایات کی تخریج کی ہے اپنی کتاب عبد الله بن سبأ و أثره في أحداث الفتنة في صدر الإسلام انہوں نے کل 8 روایات نقل کیں ہیں جو کہ سیف بن عمر کی روایات کو مضبوط کرتی ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سبائیوں کے عقائد اہلِ بیت سے منسوب کئے گئے ہیں۔

ہم یہاں اب آپ کو سمری پیش کرتے ہیں:

صفحہ 3 از 8